انتخابات وقت ہی پر کرائے جائیں

199

سابق وزیراعظم جناب عمران خان گزشتہ 8 ماہ سے عام انتخابات فوراً کرانے کا مطالبہ کرتے کرتے اکتوبر، پھر دسمبر پھر کسی بھی وقت انتخابات پر راضی ہوگئے تھے اب ایک بار پھر انہوں نے کہا ہے کہ مارچ میں انتخابات کرادیے جائیں تا ہم ان کا انداز مستقل دھمکیوں والا رہا۔ ان کی کسی دھمکی پر فوج نے اور حکومت نے کان نہیں دھرا، جنرل باجوہ کے جانے کے بعد انہیں امپائر کی انگلی اٹھنے کی بھی توقع نہیں رہی پھر بھی وہ دھمکی اور شرائط کی بنیاد پر انتخابات جلد کرانے کا مطالبہ مسلسل دہرا رہے ہیں لیکن جب ان کو کہیں سے جواب نہیں مل رہا ہے تو ان کی اپنی سیاسی پوزیشن خراب ہورہی ہے۔ ایک لیڈر مسلسل آٹھ ماہ سے فوری انتخابات کرانے کا مطالبہ کررہا ہے اور اس کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جائے تو کارکنوں میں بھی مایوسی ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ حکومت کی جانب سے جواب ملا ہے کہ دھمکیوں اور شرائط کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ دھمکیاں اور مذاکرات ساتھ تو نہیں چلتے لیکن دھمکیوں ہی سے لوگ مذاکرات پر تیار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب توسیع پسندی کا شوق ایسا ہے کہ ہر حکمران تاحیات حکمران رہنا چاہتا ہے اور گزشتہ دنوں حکومتی اتحاد کے اہم رہنمائوں نے انتخابات ایک سال تک موخر ہونے کی بات بھی کہی ہے۔ گویا حکومتی اتحاد کے ذہن میں ایسے خیالات ہیں جو وہ ظاہر بھی کرچکے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے متنبہ کیا کہ انتخابات وقت ہی پر کرائے جائیں توسیع کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات 2023ء میں کرائے جانے چاہئیں۔ لیکن پی ڈی ایم والے نئے لوگ نہیں وہ اب اس چکر میں ہیں کہ عمران خان اور فوج میں تو لڑائی ہو ہی گئی ہے کیوں نہ ہم اب انتخابات میں تاخیر کروالیں۔ لیکن اگر انہوں نے ایسا کیا تو یہ قوم کے لیے بھی اچھا نہیں ہوگا۔ اب بچے کچے دنوں میں حکومت عوام کی فلاح کے کام کرے۔ اسحق ڈار صاحب عوام کو ریلیف دینے کے دعوے لے کر آئے تھے اس پر توجہ دیں پرانے بہانے دہرانے کی ضرورت نہیں۔