ایم کیو ایم اور پی پی کی کراچی پر سودے بازی کسی صورت قبول نہیں،حافظ نعیم

185
ایم کیو ایم اور پی پی کی کراچی پر سودے بازی کسی صورت قبول نہیں،حافظ نعیم

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے متنبہ کیا ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی کراچی پر سودے بازی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

پیپلزپارٹی اگر خو د کو جمہوریت پسند کہتی ہے تو اہل کراچی کو ان کی خواہش کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں اپنی مرضی کی پارٹی کے امیدواروں اور میئرکو منتخب کرنے دے ۔

ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے مذاکرات میں اہل کراچی کے حقوق ،بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور بلدیاتی انتخابات کہاں ہیں ؟

ایک سیاسی وغیر قانونی ایڈمنسٹریٹر کی جگہ دوسرا سیاسی اور غیر قانونی ایڈمنسٹریٹر تسلیم نہیں کیا جائے گا،ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی دونوں مل کر ایک بار پھر سے کراچی کو تباہ و برباد کرنا چاہتی ہیں۔

الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کو صاف و شفاف بنانے کے لیے ہر پولنگ اسٹیشن پرفوج اور رینجرز کے اہلکار تعینات کرے،سندھ حکومت اور پولیس پر کسی صورت بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔

اسلامیہ کالج اور ڈی جے کالجز پر قبضے کی کوششیں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں شعبہ تعلیم کی زبوں حالی، قدیم و تاریخی تعلیمی اداروں پر قبضے کی کوششوں ،سندھ حکومت کی نا اہلی و بے حسی اور عوام کودرپیش دیگرمسائل کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پرنائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ،جنرل سیکریٹری کراچی منعم ظفرخان،نائب امراءکراچی راجہ عارف سلطان، انجینئر سلیم اظہر، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہب ودیگر بھی موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے ،کراچی کے عوام نے ہماری تحریک کی بھرپور پذیرائی کی ہے۔

۔15جنوری کو بلدیاتی انتخابات میں شہری بڑی تعداد میں جماعت اسلامی کے امیدواروں کو کامیاب کر کے جماعت اسلامی کا میئر منتخب کریں گے ۔بلدیاتی اداروں اورمیئر کے اختیارات ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے مل کر کراچی سے چھینے تھے ۔

۔2013میں بلدیاتی ایکٹ منظور ہوا تو اس وقت ایم کیو ایم پیپلزپارٹی کے ساتھ حکومت میں شریک تھی ، ان کے گورنر ،وزراءاور مشیر تھے ، ایم کیوا یم بتائے کہ اس نے اس وقت کیوں بائیکاٹ نہیں کیا؟

کیوں اقتدار کے ساتھ چمٹی رہی،اب کراچی کے عوام میں شعور پیدا ہوگیا ہے ،اور وہ دور ختم ہوگیا کہ جب دھونس ،دھمکی اور گن پوائنٹ پر نتائج بدل دیے جاتے تھے ۔

اب کراچی اپنے اصل کی طرف لوٹے گا اور پورے پاکستان کو لیڈ کرے گا۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کویہ مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس بلا کر آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت تمام اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں ۔

لیکن یہ ہمیشہ کی طرح صرف وزارتیں اور مراعات حاصل کرنے کے لیے اہل کراچی کا سودا کررہی ہے۔اب حالات بدل رہے ہیں ،کراچی کے عوام ایسی کسی سودا بازی کو قبول نہیں کریں گے ۔

جماعت اسلامی ،ایم کیوا یم اور پیپلزپارٹی کو عوام کے سامنے بے نقاب کرے گی ۔پیپلزپارٹی خود کو جمہوریت کی علمبردار کہتی ہے وہ بتائے کہ اس کی جمہوریت بلدیاتی انتخابات کے وقت کیوں نظر نہیں آتی اور طلبہ یونین کے انتخابات کیوں نہیں کروائے جاتے؟

،،پیپلزپارٹی ،خاندان ، وراثت اور وصیت پر چلنے والے جماعت ہے اوروڈیرہ شاہی مائنڈ سیٹ ہے ،بلاول بھٹو پیپلزپارٹی کی یوم تاسیس میں ڈیڑھ گھنٹہ تقریر میں عوام عوام کا نعرہ لگاتے رہے وہ بتائیں کہ آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت اختیارات کیوں نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے جاتے ؟

،پی ایف سی ایوارڈ سے کراچی کو اس کاجائز اور قانونی حصہ کیوں نہیں ملتا؟،پیپلزپارٹی نے بلدیاتی اختیارات پر ناجائز قبضہ کیوںکیا ہوا ہے ،بلاول بتائیں کہ گزشتہ 15سال میں ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ کہاں خرچ کیاگیا؟۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ پیپلزپارٹی عوام کی بات کرتی ہے لیکن عوام کو تعلیم سے محروم رکھتی ہے ،سندھ حکومت بتائے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے نتائج مسلسل تنزلی کا شکار کیوں ہوتے جارہے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے بانی بھٹو کے نام پر ادارے بنالینے سے تعلیم عام نہیں ہوجائے گی بلکہ تعلیمی نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم بھی سن لے کہ وہ چاہے ایڈمنسٹریٹر ،گورنریا پھر وزیر کی سیٹ لے لے لیکن اب کراچی کے عوام اس کی کسی دھونس اوردھمکیوں میں نہیں آئیں گے ۔

ہم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سے کہنا چاہتے ہیں کہ پارٹیوں کی خریدو فروخت کا سلسلہ بند کردیں۔

انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام فیصلہ کرچکے ہیں ،15جنوری کوصرف جماعت اسلامی کے انتخابی نشان ترازو پر ہی مہر لگے گی، پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم دونوں عوام کے اس رجحان سے خوف زدہ ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ 2018میں کراچی کے شہریوں نے ایم کیوا یم سے جان چھڑا کر پی ٹی آئی کو جھولی بھر بھر کے ووٹ دیے لیکن پی ٹی آئی نے بھی کراچی کے ارمانوں کاخون کیا۔

ان کے ایم این اے اور ایم پی ایز نے ووٹ لینے کے بعد عوام کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا،شہر میں اس وقت اسلامیہ کالج اور ڈی جے سائنس کالج پر کوئی بات نہیں کی جارہی ہیں۔

سندھ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اسلامیہ کالج کا مقدمہ ٹھیک اندا زمیں لڑتی ،لاکھوں طلبہ و طالبات نے اس کالج سے تعلیم حاصل کی ہے ۔

یہ کالجز ہماری پہچان ہیں لیکن اب جعلی طریقے سے ٹرسٹ بناکر اسلامیہ کالج کی زمین پر قبضہ کی کوشش کی جارہی ہے۔