سیارے زحل کے چاند پر موسموں کے آثار دریافت

289

واشنگٹن: سیارے زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن کے متعلق یہ بات تو معلوم تھی کہ اس کی ریت برقی طور پر چارج ہے، اس کی جھیلیں میتھین کے ساتھ بہتی ہیں اور فضا ابر آلود ہے لیکن ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے حال ہی میں اس چاند پر موسموں کی نشاندہی کی ہے۔

جمعرات کے روز ماہرینِ فلکیات نے اعلان کیا کہ ٹیلی اسکوپ نے ٹائٹن کے شمالی ہیمسفیئر میں روشن نشانات کی نشان دہی کی جو دراصل بڑے بادل ہیں۔ یہ چیز کمپیوٹر ماڈل کی ان پیش گوئیوں کی تصدیق کرتی ہے کہ بادل موسمِ گرما کے آخر میں ابھرتے ہیں جب سطح گرم ہوتی ہے۔

چاند کی ابر آلود فضا کی وجہ سے اس سے قبل بادلوں کو کبھی نہیں دیکھا گیا تھا کیوں کہ یہ دبیز فضا سطح سے منعکس ہونے والی روشنی کو دھندلا کر دیتی ہے لیکن جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ میں نصب نیئر انفرا ریڈ آلے نے اس دھندلی فضا کے باوجود ماحول کا مشاہدہ کیا۔

اس دریافت کا مطلب یہ ہے کہ ٹائٹن نظامِ شمسی کا واحد چاند ہے جس میں موسموں کے اثرات ملے ہیں۔ اس سے قبل اپریل میں پیش کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ٹائٹن ارضیاتی طور پر حیران کن طور پر زمین سے ممثلت رکھتی ہے۔

زحل کے اس چاند میں دریا، جھیلیں اور سمندر ہیں جن میں نائٹروجن کی ہوائیں چل رہی ہیں اور مائع میتھین کی بارش ہورہی ہے۔ سائنس دانوں کا عرصہ دراز سے ماننا ہے کہ ٹائٹن نظامِ شمسی کے دوسرے چاندوں سے مختلف ہے اور تازہ ترین تحقیق نے ان کی باتوں کو سچ ثابت کیا ہے۔