خیرات نہیں موسمیاتی انصاف

208

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ قدرتی آفات سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کے حوالے سے پاکستان کا مقدمہ موسمیاتی انصاف کا حصول ہے خیرات طلبی نہیں ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے شرم الشیخ کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنج کو قبول کرنا خوش آئند ہے تاہم اس ضمن میں کئے گئے وعدوں کو عملی شکل دینا ضروری ہو گا۔ دنیا میں تیزی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث عالمی حدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور کرہ ارض پر درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ماحولیاتی مطالعات کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ صدی کے دوران زمین کا درجہ حرارت اوسطاً پون ڈگری سنٹی گریڈ تک بڑھ گیا ہے ماحول میں گرمی پیدا ہونا سرد آب و ہوا والے ممالک کے لیے تو شاید مفید اور سازگار ہو مگر عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے ساری دنیا کی آب و ہوا تبدیل ہو رہی ہے اگر یہ تبدیلی آہستہ آہستہ اور کم رفتار ہوتی تو کرۂ ارض کے باشندے اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال سکتے تھے مگر صنعتوں کے تیزی سے پھیلائو، ہولناک جنگوں اور دیگر وجوہ کے سبب موسمیاتی تبدیلی خاصی تیز رفتار ہے۔ ماہرین کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافے کو کم کرنے کی موثر کوششیں نہ کی گئیں تو ہر دس سال بعد زمین کے اوسط درجہ حرارت میں ایک تہائی ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہوتا چلا جائے گا اس طرح ایک سو سال میں زمین کے اوسط درجہ حرارت میں تقریباً تین ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہو جائے گا، عموماً دن رات کے درجہ حرارت میں رونما ہونے والے فرق اور ایک دن کے مقابلہ میں دوسرے دن کے درجہ حرارت میں جو واضح فرق دیکھنے میں آتا ہے، اس کو پیش نظر رکھا جائے تو سو سال میں تین ڈگری کا یہ اضافہ کوئی بڑا تغیر محسوس نہیں ہوتا مگر یہ فرق چونکہ کسی ایک مخصوص خطے کا نہیں بلکہ پورے کرۂ ارض پر رونما ہوتا ہے اس لیے اس کے اثرات بھی خاصے دور رس اور وسیع تر آبادی کو متاثر کرتے ہیں، تین ڈگری سنٹی گریڈ کے اضافے کا موازنہ گزشتہ دس ہزار برس میں زمین کے درجہ حرارت میں تبدیلی سے کیا جائے تو یہ اضافہ یقینا بہت زیادہ دکھائی دے گا۔ موسمی کیفیات اور آب و ہوا میں تبدیلیوں کے براہ راست اثرات انسانی صحت، امراض اور مختلف اجناس کی پیداوار پر مرتب ہوتے ہیں اس کے علاوہ یہ تبدیلیاں علاقائی رہن سہن، لباس، غذا حتیٰ کہ ذرائع آمدورفت، رسوم و رواج اور تہذیب و تمدن پر اثر انداز ہوتی ہیں موسمیاتی تبدیلیوں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ترقی یافتہ اور با وسائل ممالک تو ان کے منفی اثرات پر قابو پانے کے لیے اپنے یہاں ضروری اقدامات کا اہتمام کر لیتے ہیں مگر وسائل سے محروم اور پسماندہ ممالک کو یہ تبدیلیاں کس طرح متاثر کرتی ہیں اس کی ایک نمایاں مثال پاکستان میں حالیہ سیلاب ہے جس کے اس قدر شدید نقصانات ہوئے جن کی مثال تلاش کرنا پاکستان کی تاریخ میں مشکل ہے اب تک لگائے گئے تخمینوں کے مطابق سیلاب متاثرین کی تعداد تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد ہے جب کہ جانی نقصان کا اندازہ اٹھارہ سو افراد لگایا گیا ہے، زراعت، صنعت، جانوروں، رہائشی مکانات اور دیگر مدات سمیت مجموعی طور پر تیس ارب ڈالر کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، نقصانات کا یہ سلسلہ مستقبل میں کب تک جاری رہے گا اور اس کے اثرات آئندہ برسوں میں کس طرح پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑیں گے وہ ایک الگ مسئلہ ہے جب کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم بتایا جاتا ہے، پاکستانی علاقوں میں ہونے والی غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کی صورت حال نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، ان کے نتیجے میں آفات اور ان کے نقصانات سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے اس تلخ حقیقت کے پیش نظر پاکستان نے گزشتہ دنوں مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی بین الاقوامی ’’کاپ ۔27‘‘ نامی کانفرنس میں اپنا موقف بھر پور انداز میں پیش کیا اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والی آفات سے ہونے والے نقصانات اور جانی و مالی نقصان کے حوالے سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کو موثر طور پر کانفرنس کے شرکاء کے سامنے اجاگر کیا جس کے نتیجے میں متاثرہ ممالک کی مدد اور نقصانات کے ازالہ کے لیے ایک ’’لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ‘‘ قائم کیا گیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسی ’’کاپ۔ 27 کانفرنس‘‘ کے دوران پاکستان کی کامیاب موسمیاتی سفارت کاری کے سلسلے میں متعلقہ اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کی کاوشوں کے اعتراف اور اظہار تشکر کی تقریب سے خطاب کے دوران جہاں اس فنڈ کے قیام کو سراہا، سیلاب کی آفت سے در پیش مسائل کے حل کے ضمن میں مدد دینے والے ممالک اور اندرون ملک مخیر حضرات اور فلاحی اداروں کے کردار کی تعریف کی وہیں وزیر اعظم نے اس اہم حقیقت کی جانب بھی عالمی برادری کو متوجہ کرنا ضروری سمجھا کہ وعدوں کو عملی شکل دینا بھی ضروری ہے انہوں نے بجا طور پر یہ بات بھی واضح کر دی کہ یہ امداد کوئی خیرات نہیں بلکہ عین انصاف کے اصولوں کا تقاضا ہے کیونکہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کی ذمہ داری سراسر ترقی یافتہ ممالک پر عائد ہوتی ہے مگر اس کے اثرات پاکستان جیسے ممالک کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک معاملہ کے اس پہلو پر ترقی یافتہ ممالک کو گزشتہ تین دہائیوں سے متوجہ کر رہے تھے جسے شرم الشیخ کانفرنس کے دوران دو ہفتے طویل بحث مباحثہ کے بعد تسلیم کیا گیا اور مذکورہ فنڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا مگر اس ضمن میں بھی حتمی فیصلہ کی بجائے اس فنڈ سے متعلق بہت سے اہم امور خصوصاً رقوم کی ادائیگی جیسا اہم اور بنیادی معاملہ اگلے برس نومبر یعنی پورے ایک برس کے لیے التوا میں ڈال دیا گیا ہے جو پاکستان جیسے براہ راست متاثر ہونے والے ملک کے لیے یقینا تشویش کا باعث ہونا چاہئے کیونکہ پاکستان دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جن کو عالمی موسمیاتی تبدیلیاں سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہیں۔ یک محوری دنیا کے مدار مہام اور موجودہ عالمی سرمایا داری نظام کے امام امریکہ کے اپنے اداروں کی تحقیق کے جو نتائج شائع ہو چکے ہیں ان میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ موسمیاتی بحران کے سب سے زیادہ اثرات ان لوگوں کو برداشت کرنا پڑتے ہیں جو اس کے سب سے کم ذمہ دار ہوتے ہیں اور جن کے پاس وسائل بھی کم ہوتے ہیں اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ درپیش موسمیاتی تبدیلیوں کا ایک بڑا سبب دور حاضر کی جنگیں اور ان میں استعمال ہونے والا آتشیں اسلحہ ہے اور یہ بات بھی بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ دو صدیوں کے دوران جتنی بڑی، تباہ کن اور ہولناک جنگیں ہوئی ہیں وہ ترقی یافتہ اور مہذب ہونے کے دعویدار امریکہ اور اس کے اتحادیوں ہی کی جانب سے دنیا پر مسلط کی گئی ہیں… تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ ممالک ان جنگوں اور دیگر تباہ کن اقدامات کے فوائد سمیٹنے میں تو کسی سستی کا مظاہرہ نہیں کرتے مگر عالمی سطح پر ان کی کارروائیوں کے جو منفی اور نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ ہیں نہ ہی ان کے ازالہ کے لیے اپنا حصہ ڈالنے پر تیار ہیں۔ ان حالات میں پاکستان جیسے ممالک کو ان پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنے عوام کے تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے اور مستقبل میں نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے قبل از وقت موثر حکمت عملی تیار کر کے ٹھوس عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی…!!!