عشق……………اقبال

142

آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق
شاخِ گْل میں جس طرح بادِ سحَرگاہی کا نَم

اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاجِ ملوک
اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم