پاکستان میں کچھ بھی ممکن ہے

275

پاکستان دیو قامت قائداعظم نے بنایا تھا مگر اس پر نوازشریف، الطاف حسین اور آصف زرداری جیسے بالشتیے قابض ہوگئے۔

عمران خان نے سندھ کے نئے گورنر کامران ٹیسوری کو ’’مولا جٹ‘‘ قرار دیا ہے، ایسے آدمی سے کسی کام کی بات کی توقع رکھنا عبث ہے۔ مگر چند روز پیشتر کامران ٹیسوری نے کراچی کی ایک مجلس میں پاکستان کے بارے میں ایک بنیادی بات کہہ کر ہمیں حیران کردیا۔ کامران ٹیسوری نے فرمایا کہ ’’اگر آصف زرداری پاکستان کا صدر اور کامران ٹیسوری سندھ کا گورنر بن سکتا ہے تو پاکستان میں کچھ بھی ممکن ہے۔‘‘

دنیا کے کتنے ہی ملک ہیں جہاں درجنوں باتیں ناممکن ہیں۔ مثلاً چین سرمایہ دار ملک بن گیا ہے مگر وہاں آج بھی سوشلزم اور کمیونسٹ پارٹی کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ ایک سیکولر ملک ہے اور امریکہ کو دنیا کی کوئی طاقت اسلامی نہیں بنا سکتی۔ اسرائیل ایک صہیونی ریاست ہے اور اسرائیل میں یہودیت کے خلاف کوئی زبان نہیں کھول سکتا۔ اس کے برعکس پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا مگر جنرل ایوب نے پاکستان کو سیکولر بنانے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے ایسے عائلی قوانین متعارف کرائے جو خلافِ اسلام تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر فضل الرحمن کے ذریعے سود کو اسلامائز کرنے کی سر توڑ کوشش کی۔

بھٹو صاحب نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ’’اسلامی سوشلزم‘‘ ایجاد کر لیا۔ حالانکہ اسلام اور سوشلزم میں کوئی قدر مشترک نہیں تھی۔ اسلام اور سوشلزم ایک دوسرے کی ضد تھے۔ اسلام حق تھا تو سوشلزم باطل تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو لبرل بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے بسنت کو اتنا فروغ دیا کہ لوگ انہیں ’’مشرف سنگھ بسنتی‘‘ کہنے لگے۔ یہ ساری باتیں ناممکن تھیں مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ممکن ہو گئیں۔ یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ دنیا کے کسی ملک کی نظریاتی اساس کو اُس ملک کے اندر رہتے ہوئے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

مگر پاکستان کے سیکولر اور لبرل دانش ور 75 سال سے یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ قائداعظم پاکستان کو اسلامی نہیں سیکولر بنانا چاہتے تھے۔ حالانکہ سیکولرازم ایسا لفظ ہے جسے قائداعظم نے کبھی استعمال ہی نہیں کیا۔ دو قومی نظریہ اسلام تھا اور قائداعظم دو قومی نظریے کے سب سے بڑے علَم بردار تھے۔ قائداعظم کی درجنوں تقاریر اور انٹرویو ایسے ہیں جن میں انہوں نے کھل کر پاکستان اور اسلام کا تعلق ثابت کیا ہے، لیکن پاکستان کے سیکولر اور لبرل دانش ور قائداعظم کی اگست 1947ء کی ایک تقریر کو پکڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ریاست ان کا ہاتھ اور زبان پکڑنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ کامران ٹیسوری نے بالکل درست کہا کہ پاکستان میں کچھ بھی ممکن ہے۔

قائداعظم بانیِ پاکستان ہیں اور وہ تاریخ کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کے بارے میں اسٹینلے ولپرٹ نے بالکل درست کہا ہے کہ تاریخ میں ایسے کم لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدلا ہے، ایسے لوگ اور بھی کم ہوتے ہیں جنہوں نے جغرافیے کو بدلا ہے، اور ایسا توشاید ہی کوئی ہو جس نے ایک قومی ریاست بنائی ہو۔ ولپرٹ کے بقول قائداعظم نے بیک وقت یہ تینوں کام کیے مگر پاکستان میں قائداعظم کے ساتھ یہ سلوک ہوا کہ انہیں بیماری کی حالت میں زیارت سے کراچی منتقل کیا جارہا تھا تو ان کی ایمبولینس راستے ہی میں خراب ہوگئی اور قائداعظم گھنٹوں اپنی ایمبولینس میں بے یارومددگار پڑے رہے۔

گھنٹوں بعد ان کی ایمبولینس کی خرابی کی اطلاع کراچی پہنچی تو نواب زادہ لیاقت علی خان ایک اور ایمبولینس لے کر قائداعظم کو لینے پہنچے۔ کیا بھارت میں گاندھی اور نہرو کے ساتھ یہ سلوک ممکن تھا؟ مگر پاکستان میں کچھ بھی ممکن ہے۔ قائداعظم کے ساتھ مزید بڑا ظلم یہ ہوا کہ پاکستان کے فوجی اور لبرل حکمرانوں نے قائداعظم کی فکر اور ورثے کو چند برسوں میں بھلا دیا۔ قائداعظم کی بہن فاطمہ جناح مادرِ ملت تھیں، انہوں نے ساری زندگی قائداعظم کی خدمت کی تھی، مگر جب محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تو ان کے خلاف قومی اخبارات میں نصف نصف صفحے کے ایسے اشتہارات شائع کرائے گئے جن میں قائداعظم کی بہن کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا گیا تھا۔ اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہوا کہ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے فاطمہ جناح کو ہرا دیا گیا۔ فاطمہ جناح مغربی پاکستان میں صرف کراچی سے کامیاب ہوسکیں۔

یہ ایک سامنے کی بات ہے کہ تحریکِ پاکستان میں جرنیلوں اور فوج کا کوئی کردار ہی نہیں تھا۔ تحریکِ پاکستان دو قومی نظریے، قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت اور عوام کے اتحاد کی مظہر تھی۔ اہم بات یہ تھی کہ تحریکِ پاکستان کے وقت کوئی پاکستانی فوج موجود ہی نہیں تھی، چنانچہ پاکستان کی سیاست کا فوجی کردار ممکن ہی نہیں تھا۔ خود قائداعظم جرنیلوں اور فوج کی سیاست میں مداخلت کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے اِس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم کو فوجیوں نے عشائیے پر مدعو کیا، قائداعظم عشائیے پر پہنچے تو انہیں کافی پیش کی گئی۔ اس دوران گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ اس موقع پر ایک فوجی افسر نے قائداعظم سے کہا کہ آپ نے ایک انگریز جنرل گریسی کو فوج کا سربراہ بنا دیا ہے حالانکہ مقامی فوجی افسروں میں کئی لوگ اس عہدے کے لیے زیادہ موزوں تھے۔

یہ بات سنتے ہی ایک ناگواری قائداعظم کے چہرے پر پھیل گئی۔ قائداعظم نے فرمایا کہ پاکستان میں فیصلے سول قیادت کرے گی، فوجی نہیں۔ قائداعظم نے اس افسر سے کہا کہ اگر آپ کے یہی خیالات ہیں تو آپ کا پاکستان نہ آنا ہی بہتر تھا۔ قائداعظم نے یہ کہا اور رات کا کھانا کھائے بغیر فوجی میس سے روانہ ہوگئے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں مارشل لا کے نفاذ کا کوئی امکان ہی نہیں تھا، مگر پاکستان میں چونکہ کچھ بھی ممکن ہے اس لیے جنرل ایوب نے قائداعظم کے انتقال کے صرف دس سال بعد ہی ملک پر پہلا مارشل لا مسلط کردیا اور وہ بھی امریکہ کے ساتھ سازباز کرکے۔ امریکہ کی جو خفیہ دستاویزات عام ہوچکی ہیں ان کے مطابق جنرل ایوب نے مارشل لا 1958ء میں لگایا مگر وہ 1954ء سے امریکہ کے ساتھ رابطے میں تھے۔ وہ امریکیوں کو باور کرا رہے تھے کہ پاکستان کے سیاست دان نااہل ہیں اور وہ ملک تباہ کردیں گے۔ جنرل ایوب نے امریکیوں کو بتایا کہ فوج سیاست دانوں کو ملک تباہ نہیں کرنے دے گی۔ چنانچہ جنرل ایوب نے 1958ء میں قائداعظم کے پاکستان کو فوجی آمریت کے شکنجے میں جکڑ لیا۔ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے سیاسی عدم استحکام کو بنیاد بناکر مارشل لا لگایا تھا، مگر جب جنرل ایوب خود اقتدار سے رخصت ہوئے تو ملک پہلے سے کہیں زیادہ سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا۔

پاکستانی جرنیل جنرل ایوب کے ناکام فوجی تجربے سے کچھ سیکھ لیتے تو بڑی بات ہوجاتی۔ مگر جرنیلوں نے پاکستان پر تسلط کو اپنا حق بنا لیا۔ چنانچہ جنرل ضیا الحق نے بھٹو، اور جنرل پرویزمشرف نے میاں نوازشریف کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ بلاشبہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کچھ بھی ممکن ہے۔

قیام پاکستان کے وقت پوری پاکستانی قوم کا یہ سیاسی عقیدہ تھا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے، مگر چونکہ پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں نے پاکستان میں کچھ بھی ممکن بنادیا ہے اس لیے ہم 1971ء میں پاکستان کو نہ سنبھال سکے اور ملک دولخت ہوگیا۔ اس سے قبل ملک میں وہ چیزیں ہوئیں جو دنیا کے کسی بھی ملک میں ممکن ہی نہیں تھیں۔ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ مشرقی پاکستان کے لوگ ملک کی آبادی کا 56 فیصد تھے مگر انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ قومی وحدت کے لیے خود کو صرف 50 فیصد باور کریں۔ بنگالیوں نے اس ناممکن نظر آنے والے مطالبے کو تسلیم کرلیا، مگر بنگالیوں کے ساتھ زیادتیاں جاری رہیں۔