سی پیک علاقائی رابطوں کو فروغ دے گا، ماہرین

213

اسلام آباد:پاکستانی ماہرین نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ علاقائی اوراس سے آگے کے رابطوں کے لیے  انتہائی فائدہ مند ہے۔

 اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف کنفلیکٹ ریزولوشن کے زیر اہتمام  سی پیک کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ سی پیک چین کے مجوزہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جو  تمام چیلنجوں کے باوجود تکمیل کی جانب پیش رفت کررہا ہے۔

  یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے، بلکہ یہ خطوں اور تہذیبوں کے درمیان رابطے کا کام بھی کرے گا۔اسلام آباد کے تھنک ٹینک، پائیدار ترقی کی پالیسی کے  انسٹی ٹیوٹ کے چائنہ اسٹڈی سینٹر کے سینئر مشیر حسن داد بٹ نے کہا کہ  ایسے وقت میں جب عالمگیریت دبا میں ہے۔

 ہمیں چین کو سماجی و اقتصادی ترقی کی مثال کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، سی پیک چین کے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکورٹی انیشیٹو کے ساتھ مل کر، پاکستان کو درپیش پائیداری اور سیکورٹی وٹیکنالوجی انضمام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔

کامسیٹ یونیورسٹی اسلام آباد کے چائنہ سٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر طاہر ممتاز اعوان نے  سی پیک کودرپیش چیلنجزکے حوالے سے کہا کہ  رکاوٹوں کے باوجود پاکستان کے لیے بڑے فوائد کے پیش نظر سی پیک منصوبوں پرکام کی رفتار کو تیز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے چیلنجزموجود ہیں اور ہمیں ان سے نمٹنا چاہیے، پاکستان کو سی پیک کو درپیش چیلنجز کو ادارہ جاتی شکل دینے اور منصوبوں پر کام  کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کے لیے رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔2013 میں شروع  کردہ سی پیک ایک راہداری ہے جو  گوادر بندرگاہ کوچین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغورخود اختیار علاقے میں کاشغر سے جوڑتی ہے۔