تحریک عدم اعتماد پیش ہو جانے پر اسمبلی تحلیل نہیں کی جا سکتی، عطا تارڑ

195

لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہو جائے تو اسمبلی تحلیل نہیں کی جا سکتی۔

صوبائی دارالحکومت میں وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں پارٹی کا اہم ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب اسمبلی کی ممکنہ تحلیل اور نمبر گیم سے متعلق مشاورت کی گئی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف ایک بار تحریک عدم اعتماد پیش ہو جائے تو اسمبلی تحلیل نہیں کی جا سکتی۔ تحریک عدم اعتماد کی صورت میں کارروائی 3 سے 7 روز کے اندر ہو جانی چاہیے، تاہم انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ہو یا اعتماد کا ووٹ، ہم جب بھی فائل کریں گے، اس پر کارروائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد یا اعتماد کا ووٹ لینے سے متعلق کسی بھی کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز الٰہی کو اقتدار کے لیے مرتے ہوئے دیکھا ہے۔ پرویز الٰہی سے  محمد خان بھٹی نے میری بات کروائی تھی، جس میں انہوں نے مجھ سے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کا کہا تھا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ کہاں لکھا ہے کہ اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی جا سکتی۔ اگر کہیں ہے تو کوئی دکھا دے۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد کسی بھی پیش کی جا سکتی ہے جب کہ گورنر کی طرف سے بھی اعتماد کا ووٹ لینے سے متعلق کسی بھی وقت کہا جا سکتا ہے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد اسمبلی تحلیل نہیں ہو سکے گی۔ جب ہم نے آئینی اقدام کیا تو اسے انٹرٹین کرنا ضروری ہوگا۔ ہم نے ہر آئینی آپشن کی تیاری کررکھی ہے، دوسری جانب ہم نے اراکین پنجاب اسمبلی کی معطلی سے متعلق بھی درخواست دائر کررکھی ہے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ہرممکن کوشش کریں گے کہ اسمبلیاں نہ ٹوٹیں۔ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور اسمبلیوں کو مدت پوری کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ پھر بھی اگر انہوں نے اسمبلیاں تحلیل کردیں تو ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ یہ لوگ (پی ٹی آئی) سرکاری طاقت چھوڑ کر انتخابی میدان میں آئیں گے تو انہیں پتا چل جائے گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پرویز الٰہی تحریک انصاف کے لوگوں سے رابطے کرکے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اسمبلی تحلیل نہ کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ پتا نہیں ان کے پاس 186 ووٹ  کا نمبر ہے بھی یا نہیں۔ مونس الٰہی کے بیان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت بیان دیا گیا ہے، جس کا مقصد حالات کو بدلنا ہے تاکہ لوگوں کی توجہ ہٹ جائے۔ عطا تارڑ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے کرپشن کی انتہا کررکھی ہے۔