جنرل باجوہ کا الوداعی خطاب

568

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جی ایچ کیو میں یوم شہدا کی تقریب سے الوداعی خطاب کیا ہے۔ انہوں نے خطاب میں کہا کہ سیاست میں فوج کی مداخلت غیر آئینی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے گزشتہ سال فروری میں فیصلہ کرلیا تھا کہ فوج آئندہ سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اس فیصلے پر سختی سے کار بند ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ بھی اپنے رویے پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے عدم مداخلت کے فیصلے کا خیر مقدم کرنے کے بجائے ہمارے خلاف شدید تنقید کی گئی اور تنقید کرتے ہوئے غیر شائستہ زبان استعمال کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں سلیکٹڈ اور امپورٹڈ جیسے الفاظ استعمال کرنے کے بجائے سیاسی شکست کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ اس موقع پر جنرل باجوہ نے مشرقی پاکستان کی علٰیحدگی کے مسئلے پر بھی گفتگو کر ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ مشرقی پاکستان فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی، انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں ہمارے لڑنے والے فوجیوں کی تعداد 92 ہزار نہیں بلکہ 34 ہزار تھی اور 34 ہزار کا اڑھائی لاکھ بھارتی فوج اور دو لاکھ تربیت یافتہ مکتی باہنی سے تھا۔ اس کے باوجود فوج بہادری سے لڑی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی بھارتی فوج کرتی ہے مگر بھارت کے عوام اپنی فوج کو تنقید کا نشانہ نہیں بناتے۔ اس کے برعکس ہماری فوج دن رات قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے مگر اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
سیاست میں فوج کی مداخلت کی بات تو سبھی کرتے ہیں مگر شاید یہ پہلا واقعہ ہے کہ پاک فوج کے سربراہ نے ساری دنیا کے سامنے نہ صرف یہ کہ سیاست میں فوج کی مداخلت کا اعتراف کیا ہے بلکہ اسے غیر آئینی بھی قرار دیا ہے۔ لیکن مسئلہ سیاست میں فوج کی مداخلت کے اعتراف کا نہیں اس سلسلے کو بند کرنے کا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے کرنے کا کام یہ ہے کہ ایک ادارے کی حیثیت سے فوج سیاست میں مداخلت پر قوم سے معافی مانگے تا کہ قوم کو اس بات کا یقین آسکے کہ فوج سیاست میں اپنی مداخلت پر واقعتاً شرمندہ ہے۔ اس سلسلے کا دوسرا ضروری اقدام یہ ہے کہ ملک پر فوجی آمریت مسلط کرنے والے جرنیلوں پر مقدمہ چلایا جائے اور انہیں علامتی سزائیں دی جائیں۔ اس سلسلے میں جنرل ایوب، جنرل یحییٰ، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف مقدمے کے لیے ’’فٹ کیس‘‘ ہیں۔ ان دو اقدامات کے بعد قوم اس پر یقین کرلے گی کہ فوج کو اپنے سیاسی کردار پر واقعتاً پچھتاوا ہے اور وہ دل سے سیاست میں مداخلت نہیں چاہتی۔ بصورت دیگر سیاست میں فوج کی عدم دلچسپی کے دعوے پر کوئی باشعور شخص مشکل ہی سے یقین کرے گا۔ کہنے کو تو جنرل باجوہ نے کہہ دیا ہے کہ فوج گزشتہ فروری سے سیاسی امور میں دخیل نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ فوج کے اعلیٰ اہلکار ابھی تک سیاست دانوں کی طرح کا عمل اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ندیم نے ایک سیاست دان کی طرح پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا۔ پوری دنیا کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ دنیا نے کبھی سی آئی اے، ایم آئی6، را اور موساد کے سربراہوں کو پریس کانفرنسوں سے خطاب کرتے نہیں دیکھا۔ یہ امر بھی عیاں ہے کہ جب بھی کسی ملک کا کوئی اعلیٰ اہلکار پاکستان کے دورے پر آتا ہے وہ پاک فوج کے سربراہ سے ضرور ملتا ہے۔ اس عمل سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ صدر یا وزیراعظم یا پارلیمنٹ نہیں آرمی چیف ہے۔ پاکستان کے سیاسی نظام میں وزیراعظم کو مرکزیت حاصل ہوتی تو دوسرے ممالک سے آنے والے اعلیٰ اہلکار صرف وزیراعظم عمران خان یا وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات پر اکتفا کرتے۔ ان حقائق کے باوجود بھی جنرل باجوہ فرما رہے ہیں کہ فوج گزشتہ فروری سے سیاسی امور میں دخیل نہیں ہے۔ غور کیا جائے تو
جی ایچ کیو میں جنرل باجوہ کا خطاب بجائے خود ایک سیاسی عمل ہے۔ آخر جنرل باجوہ کو یہ حق کہاں سے حاصل ہوا کہ وہ کسی کو سلیکٹڈ یا امپورٹڈ کہنے سے روکیں۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اور وہاں سیاسی جماعتیں آئے دن ایک دوسرے پر ملک کی تباہی کا الزام عائد کرتی رہتی ہیں۔ امریکا دنیا کی سب سے مضبوط جمہوریت کہا جاتا ہے مگر وہاں ڈونلڈ ٹرمپ کو سیکورٹی رسک قرار دیا گیا۔ ان پر حساس دستاویزات چوری کرنے کا بھی الزام ہے۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا کے گزشتہ صدارتی انتخابات وہاں کی اسٹیبلشمنٹ نے چوری کیے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت یا امریکا کے کسی جرنیل نے سیاست دانوں کو اپنی زبانیں قابو میں رکھنے کا مشورہ نہیں دیا۔ مگر چوں کہ پاکستانی جرنیل خود کو پاکستان کا ’’گاڈ فادر‘‘ سمجھتے ہیں اس لیے جنرل باجوہ نے پاکستانی سیاست دانوں کو اپنے فکرو عمل میں تبدیلی لانے کا مشورہ دے ڈالا ہے۔
جنرل باجوہ کی مشرقی پاکستان سے متعلق گفتگو بھی کئی اعتبار سے محل نظر ہے۔ اس سلسلے میں جنرل باجوہ کا پہلا دعویٰ یہ ہے کہ ہمیں مشرقی پاکستان میں سیاسی ناکامی کا سامنا تھا فوجی ناکامی کا سامنا نہیں تھا۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں مشرقی پاکستان میں فوجی اور سیاسی دونوں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہماری سیاسی ناکامی یہ تھی کہ جمہوریت ساری دنیا میں قوموں اور ملکوں کو مضبوط کرتی ہے مگر پاکستان میں 1970ء میں پہلی بار بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات ہوئے اور ان انتخابات نے ملک کو دو ٹکڑے کردیا۔ لیکن ایسا اس لیے ہوا کہ بھٹو اور جنرل یحییٰ دونوں نے شیخ مجیب الرحمن اور عوامی لیگ کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ بھٹونے اس موقع پر اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگایا۔ چناں چہ ملک ٹوٹ گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھٹو ملک توڑنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ ملک پر اس وقت جنرل یحییٰ اور فوج کی حکومت تھی اور فوج بھٹو کو شیخ مجیب کی اکثریت تسلیم کرنے پر مجبور کرسکتی تھی مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ جس وقت جنرل ضیا الحق نے بھٹو کا تختہ اُلٹا بھٹو اپنی مقبولیت کی انتہا پر تھے۔ وہ ملک کے وزیراعظم تھے، لیکن فوج نے اس کے باوجود بھٹو کو زیروزبر کرکے رکھ دیا۔ حد یہ کہ جنرل ضیا الحق نے بھٹو کو پھانسی دے دی۔ سوال یہ ہے کہ جو جرنیل 1977ء میں یہ سب کچھ کرسکتے تھے وہ 1970ء میں بھٹو کو شیخ مجیب کی اکثریت تسلیم کرنے پر مجبور کیوں نہیں کرسکتے تھے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ چناں چہ مشرقی پاکستان میں ہماری سیاسی ناکامی کی پشت پر بھی ہمارے جرنیل ہی موجود تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جنرل یحییٰ اور ان کے فوجی رفقا نے بھٹو کو شیخ مجیب کی اکثریت قبول کرنے پر مجبور کیوں نہیں کیا؟ اس سوال کا جواب 1970ء میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر صدیق نے چند سال پہلے جیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہہ کر دیا کہ جنرل یحییٰ ملک توڑنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔
جنرل باجوہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ مشرقی پاکستان میں ہمارے فوجیوں کی تعداد 92 ہزار نہیں صرف 34 ہزار تھی۔ لیکن یہ ایک تاریخی غلط بیانی ہے۔ جس وقت 1971ء کی جنگ ہورہی تھی میجر صدیق سالک بہ نفس نفیس میدان جنگ یا ’’وار تھیٹر‘‘ میں موجود تھے۔ چناں چہ اس سلسلے میں میجر صدیق سالک کا بیان جنرل باجوہ کے بیان سے ہزار گنا زیادہ قابل قبول ہے۔ میجر صدیق سالک نے اپنی معرکہ آرا تصنیف ’’میں نے ڈھاکا ڈوبتے دیکھا‘‘ میں لکھا ہے کہ جب فضائیہ اور بحریہ جنگ کے ابتدائی ایام ہی میں اپنا اپنا کردار ادا کرکے میدان جنگ سے غائب ہوگئیں تو ساری ذمے داری جنرل نیازی اور ان کے زیر کمان 45 ہزار ریگولر فوج اور 73 ہزار نیم عسکری نفری پر آن پڑی۔ ان اعداد و شمار سے ثابت ہے کہ جنگ میں مصروف پاکستان کے فوجیوں کی تعداد 34 ہزار نہیں ایک لاکھ 18 ہزار تھی۔ ان میں 45 ہزار ریگولر فوجی اور باقی 73 ہزار نیم فوج۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے پاکستان کے فوجیوں کی تعداد صرف 34 ہزار بتا کر ایک بہت بڑی غلط بیانی کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس غلط بیانی کا سبب کیا ہے؟ اس غلط بیانی کا سبب یہ ہے کہ پاکستان کے فوجیوں کو بہادر ثابت کیا جائے۔
بلاشبہ پاکستان کے فوجیوں نے 1965ء کی جنگ بڑی بہادری سے لڑی تھی مگر 1971ء میں 1965ء والا جذبہ موجود نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 1965ء میں فوج اور قوم ایک تھے، جب کہ 1971ء میں فوج اور قوم ایک صفحے پر موجود نہیں تھے۔ بلکہ فوج خود اپنی قوم کی اکثریت کے خلاف برسرپیکار تھی۔ چناں چہ اس صورت حال کا فوج کے جوش و جذبے پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس بات کی گواہی خود صدیق سالک نے بھی دی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے۔
’’جو اَن پڑھ سپاہی مغربی پاکستان سے یہ سن کر گئے تھے کہ حق و باطل کی جنگ ہورہی ہے اور کافر کو اس کی حرکتوں کا مزہ چکھانا ضروری ہے وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کا سامنا تو بنگالی مسلمانوں سے ہے۔ ہندو تو شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔ وہ حیران تھے کہ یہ کیسا حق و باطل کا معرکہ ہے جس میں مسلمان کو مسلمان کا سامنا ہے۔ ان مادی اور نفسیاتی عناصر نے اکثر سپاہیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا، آیا ان حالات میں جان کی قربانی دینا واقعی عظیم کارنامہ ہے جس کے عوض شہادت کا مرتبہ حاصل ہوگا‘‘۔ (میں نے دھاکا ڈوبتے دیکھا۔ صفحہ 155)
جنرل باجوہ نے یہ شکوہ بھی کیا ہے کہ بھارتی فوج انسانی حقوق کی بڑی بڑی خلاف ورزیاں کرتی ہے لیکن ہندوستانی قوم اس پر تنقید نہیں کرتی مگر پاکستانی فوج قومی خدمات کے لیے کوشاں رہتی ہے اور اس پر تنقید ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی فوج نے 75 سال میں کبھی ایک بار بھی مارشل لا نہیں لگایا۔ اس نے کبھی اپنے آئین کو زیر و زبر نہیں کیا۔ اس نے کبھی اپنی قوم کو اپنا غلام نہیں بنایا۔ اس نے کبھی اپنی نرسری میں سیاست دان پیدا نہیں کیے۔ اس نے کبھی 50 سے زیادہ تجارتی ادارے قائم نہیں کیے۔ اس نے کبھی ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹیوں کی سیاست نہیں کی۔ اس نے کبھی آدھا ہندوستان نہیں گنوایا۔ اس کے 90 ہزار فوجیوں نے کبھی پاکستان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ بلاشبہ بھارتی فوج انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہے، مگر وہ اس سلسلے میں ’’اپنی قوم‘‘ اور ’’غیروں‘‘ میں فرق کرتی ہے۔ وہ صرف مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کو مارتی ہے، مگر پاکستان کے جرنیلوں نے تو اپنی ہی قوم کو بار بار فتح کیا ہے۔ جرنیلوں نے بنگالیوں کے خلاف آپریشن کیا۔ بلوچوں کے خلاف پانچواں فوجی آپریشن جاری ہے، جرنیلوں نے ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران سندھیوںکو کچلا، نائن الیون کے بعد پختونوں کی باری آئی۔ کراچی میں جرنیل دو فوجی آپریشن کرچکے ہیں، صرف اہل پنجاب جرنیلوں کے جبر سے محفوظ ہیں۔ وہ بھی شاید اس لیے کہ وہ جرنیلوں کے بھائی ہیں۔