حرمت سود سیمینار

319

مرکز اقتصاد اسلامی کے سربراہ، وفاقی شریعت عدالت کے سربراہ، ممتاز عالم دین و فقیہ مفتی تقی عثمانی کی دعوت اور وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت کی شراکت میں حرمت سود کے موضوع پر منعقد ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 5 سال میں ملک سے سود کا خاتمہ ممکن ہے۔ مفتی تقی عثمانی کی دعوت و تحریک پر منعقد ہونے والا اہم سیمینار حرمت کے بارے میں وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے جاری علمائے کرام اور دینی جماعتوں کی تحریک کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حرمت سود کے بارے میں وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے کو بدلنے کے لیے پس پردہ کوششیں شروع ہوگئی تھیں، اس کے لیے وہی حربہ اختیار کیا جارہا ہے کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں نظرثانی کی درخواست داخل کردی جائے اور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی پابندی سے آزادی حاصل کرلی جائے۔ اس حربے کو اختیار کرنے کا آغاز ہوچکا ہے۔ سرکاری شعبے کی طرف سے اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کے نظرثانی کی درخواستیں داخل کردی تھیں۔ اس طرح نظر یہ آرہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت ایک بار پھر اپنی تاریخ کو دہرائے گی۔ ماضی میں بھی شریعت عدالت سود کو حرام اور غیر اسلامی قرار دے کر عدالت میں چلی گئی تھی، اس مرتبہ بھی اس عمل کا آغاز ہوگیا تھا، خوش آئند بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے حامی علمائے کرام نے وزیراعظم اور وزیرخزانہ پر دبائو ڈالا اور انہوں نے سرکاری شعبے یعنی اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی جانب سے نظرثانی کی اپیل واپس لینے کا اعلان کردیا۔ عملی صورت حال یہ ہے کہ بظاہر حکومت نے سرکاری بینکوں کی جانب سے حرمت سود پر وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کو تو واپس لے لیا ہے، لیکن نجی بینکوں اور مالیاتی اداروں کی درخواستیں اسی طرح موجود ہیں، حرمت سود کے قانون پر عملدرآمد کے راستے میں حائل رکاوٹیں موجود ہیں، اس سیمینار میں ہر مکتبہ فکر کے علمائے کرام، دینی سیاسی جماعتوں، تاجروں اور صنعت کاروں کے نمائندوں اور حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور گورنر اسٹیٹ بینک کی نمائندگی موجود تھی، اس سیمینار کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک بھر کے تاجروں اور صنعت کاروں کی تنظیم کے وفاق نے میزبانی کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاجروں اور صنعت کاروں کا نمائندہ طبقہ سودی معیشت سے جان چھڑانے کا ذہنی ارادہ رکھتا ہے، سود کی حرمت کے بارے میں زبانی اظہار اور گفتگو طویل عرصے سے جاری ہے، لیکن آج تک پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا گیا ہے۔ ہمارا اجتماعی طرزِ عمل قول و فعل کے تضاد کی صورت میں ہی نظر آیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یکدم اس نظام کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ اس دلیل سے کسی نے بھی انکار نہیں کیا، اور اس بات کو قبول کیا کہ مرحلہ وار اور درجہ بہ درجہ اقدام کے ذریعے بلاسود معیشت کی منزل کو حاصل کیا جائے گا۔ حرمت سود کے بارے میں ماضی کے اور موجودہ فیصلوں میں بھی ایک مدت دی گئی تھی، بینکاری کے نظام میں اسلامی بینکوں کی ایک کھڑکی کھول دینا جزوی کام ہے۔ اصل ہدف پوری معیشت کو سود سے پاک کرنا ہے۔ پاکستان کی تاریخ تو 75 برس پر مشتمل ہے۔ اسٹیٹ بینک کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے مالیاتی نظام کو تشکیل دینے کی ذمے داری رکھنے والے ماہرین سے کہا تھا کہ انہیں سرمایہ دارانہ نظام کا متبادل اسلامی معاشی نظام تشکیل دیتا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ دنیا کو دو عالمی جنگوں کی ہلاکت خیزی میں مبتلا کرنے والا سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے اس راستے میں اقدامات کرنے کے بجائے اللہ کو ناراض کرنے والے کام ہی کیے گئے۔ سرکاری سطح پر یہ مہم چلائی گئی کہ تجارتی سود پر اسلام کوئی پابندی عائد نہیں کرتا، گویا عملی اقدامات کے بجائے نظریاتی بحثیں چھیڑ دی گئیں۔ نفاذ اسلام سے بچنے کے لیے فقہی کے اختلاف کا بہانہ بنایا گیا۔ حرمت سود کے حوالے سے سیمینار میں ایک اہم بات یہ کی گئی کہ یہ وہ مسئلہ ہے جس پر تمام فقہی مکاتب فکر کا اجماع ہے۔ گویا اختلاف اور فرقہ واریت کا بہانہ بھی نہیں بنایا جاسکا، لیکن ہماری تاریخ کا یہ سیاہ باب ہے کہ معیشت کو غیر اسلامی عناصر بالخصوص سود سے پاک کرنے کے لیے عملی اقدامات سے جان بوجھ کر گریز کیا گیا۔ سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے نفاذ اسلام کا اعلان کیا اور اپنے اعلان کو اپنے عملی اقدامات سے نمائشی بنادیا۔ انہوں نے مارشل لا کے قانون اور نظام معیشت سے متعلق تمام امور کو شریعت کی پابندی سے آزاد رکھا۔ اب یہ دوسرا مرحلہ ہے جب وفاقی شریعت عدالت نے حرمت سود کے بارے میں اپنے فیصلے کو برقرار رکھا ہے اور حکومت متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مرحلہ وار اقدام کرکے بینکاری اور معیشت کو سود سے پاک کریں۔ مفتی تقی عثمانی کی دعوت پر تاجر و صنعت کار اور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام ایک بار پھر جمع ہوگئے ہیں تاکہ حکومت پر دبائو ڈالا جائے اور کسی اور بھی طبقے کو اس کا موقع نہ دیا جائے کہ وہ اللہ کے حکم پر عمل سے بچنے کے لیے بہانے بنائے۔ اس سلسلے میں سیمینار میں مفتی تقی عثمانی نے جو قرار دادیں منظور کروائی ہیں وہ اس بات کا اشارہ کررہی ہیں کہ حکومت کی نیت اور مختلف اداروں پر شکوک و شبہات موجود ہیں۔ سب سے پہلی قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری بینکوں کے بعد فیصلے سے متعلق اپنی اپیلیں واپس لیں، وفاقی شریعت عدالت اور عدالت عظمیٰ کی شریعت بنچ بھی غیر فعال ہے، اس میں کئی عہدے خالی ہیں۔ ماضی میں وفاقی شریعت عدالت میں علما کی نمائندگی بھی ہوتی تھی، خود مفتی تقی عثمانی کافی عرصے تک شریعت عدالت کے جج رہے، اس لیے سیمینار کی ایک قرار داد میں شریعت عدالت کے خالی عہدوں کو علما سے پُر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس سیمینار کے انعقاد کی میزبانی وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔ جو یہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ روایتی معنوں میں صرف مذہبی لوگوں کا نہیں ہے۔ بلکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہر شخص کا مسئلہ ہے، اس لیے کہ اسے موت کے بعد اپنے تمام انفرادی اور اجتماعی اعمال کا حساب دینا ہے۔ سب سے بڑی پرسش اس بات کی ہوگی کہ مال کیسے کمایا اور کیسے خرچ کیا۔ اللہ نے سود کو حرام قرار دے دیا ہے، اس حکم پر عمل نہ کرنے والے کو باغی اور غدار قرار دے کر جنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔ جس طرح علمائے کرام اور دینی جماعتوں نے اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا ہے، اسی طرح تمام سیاسی قوتوں کو اس مسئلے پر ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہیے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر معاشی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے ’’میثاق معیشت‘‘ کی ضرورت کا پھر اظہار کیا ہے۔ میثاق معیشت کا آغاز حرمت سود کے فیصلے عملدرآمد کے اقدامات سے کیا جاسکتا ہے۔