کالعدم ٹی ٹی پی کا بلوچستان حملے کی ذمہ داری قبول کرنا الارمنگ ہے، وزیرداخلہ

178
constitution

اسلام آ باد: وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا  ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی طرف سے بلوچستان حملے کی ذمہ داری قبول کرنا الارمنگ ہے،ٹی ٹی پی کا حملے میں ملوث ہونا خطے کے امن کیلئے خطرناک ہے، صوبوں کی سطح پر اداروں کو دہشتگردوں کے خلاف اقدامات کرنا ہوں گے ، عوام کویقین دلاتے ہیں ہم دہشت گردی پر قابو پالیں گے۔

جمعرات کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے واقع کی شدیت مذمت کرتے ہیںِ تحریک طالبان پاکستان کا واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنا قابل مذمت ہے ، ٹی ٹی پی پاکستان کے اندردہشتگردی کی کارروائی میں ملوث ہے۔

ان کہا کہنا تھا کہ یہ واقعات خیبر پختونخوا میں بھی دوبارہ سامنے آرہے ہیں، ایسا نہیں کہ یہ آؤٹ آف کنٹرول چیز جارہی ہے ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صوبائی انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدہ لے ، دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی  مدد کرنے کیلئے تیار ہے ، خیبرپختونخوا میں ایک دو میٹنگ ہوئیں ، اس میں وزیراعلیٰ کو اجازت نہ تھی کہ وہ حاضر ہوتے ، سیاسی طورپر اختلافات چلتے رہتے ہیں، مگر ریاست سب سے مقدم ہے ریاست ہے تو ہم سب کی سیاست ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کی ذمہ دہے کہ جو مدد درکار ہو ہم دینے کو تیار ہیں، پی ٹی آئی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے میں مصروف ہے ، ان کی کوشش ہے کہ ملک میں انفرادی اور انارکی پیدا کی جائے ، تاکہ عوام استحکام آئے ، کسی ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوگا تو معیشت میں استحکام نہیں آسکتا ، جب یہ حکومت میں تھے توان کا ایک ہی کام تھا کہ اپوزیشن کو ختم کرنا ہے ، یہ اختیار کس اسنان کے بس میں نہیں کہ مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹادے ، اتنی گھٹیا تھرڈ کلاس کرپشن توشہ خانہ سے تحفے میں ملی گھڑیاں بیچ دیں ، خود یہ کام کرتا تھااور کرپشن کے بیانیے پر اپوزیشن کا دشمن بنا ہوا تھا ۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ہمت نہیں ہوئی کی اسلام آباد پر چڑھائی کرے ،آج سنا ہے کہ 20دسمبر سے استعفیٰ دے گا ، اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ کرلیا تو پھر 26دسمبر کو انتظار کیوں ؟ہم کوشش کرینگے کہ اسمبلیاں توڑنے کے عمل میں معاون نہ ہوں ، الیکشن بائیکاٹ اور اسمبلیاں توڑنا کسی سیاسی جماعت کیلئے سود مند ثابت نہیں ہوا  ماضی میں سیاسی جماعتوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تو ناقابل تلافتی نقصان ہوا ۔ جلسوں میں ناکام ہوکر اسمبلی توڑنے کافیصلہ کرنا اسمبلیوں کی توہین ہے، خیبرپختونخوا اور پنجاب اسمبلی توڑنے میں کامیاب ہوتے ہیںِ تو آئینی طو رپر عمل ہوگا ، ہم الیکشن میں پوری طرح جانے کو تیارہیں۔

 صحافیوں کے سوالات پر جوابات دیتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کہ شہید ارشد شریف کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ مکمل ہوچکی ہے ، صحافی ارشد شریف قتل کیس میں فیکٹ فائیڈنگ رپورٹ انکوائری کمیشن کو دی جائے گی ، وزیراعظم شبہاز شریف انکوائری کمیشن کیلئے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ چکے ہیں، ہم سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروانے جارہے ہیں۔ 

ٹی ٹی پی کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہ ٹی ٹی پی کے حوالے پارلیمنٹری میٹنگ میں بریفنگ ملی تھی ، پارلیمنٹ نے انڈوز کیا تھا کہ عسکری قیادت کو اختیار بھی دیا تھا ۔ آئین کے تحت ٹی ٹی پی کے لوگ واپس آنا چاہیں تو بات ہوسکتی ہے ، بات کافی حد تک ہوئی ہے ، مگر ٹی ٹی پی کوئی ایک دھڑے کا نام نہیں ، ٹی ٹی پی کے ہر علاقے میں 2، 2 دھڑے ہیں، کچھ دھڑے واپس آنا چاہتے ہیں تو کچھ لڑنا چاہتے ہیں، جو امن چاہتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کے جوان جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، افغان حکومت نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین استعمال نہیں ہوگی ، ٹی ٹی پی ذمہ داری قبول کردی ہے تو افغان حکومت کلیلئے باعث تشویش ہوناچاہیے ،انہوں نے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو اپنے وعدے کو نبھانا چاہیے ، مسلح افواج دہشتگردی پر کنٹرول کرنے کی پوری طاقت رکھتی ہے ۔