صوبے کے مطالبے کو غداری قرار دینا اصل غداری ہے، خالد مقبول

192

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ صوبے کا مطالبہ کرنا غداری نہیں، بلکہ اس مطالبے کو غداری قرار دینا اصل غداری ہے۔

پارٹی کے مرکز بہادرآبادسےمتصل پارک میں جنرل ورکرز اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالدمقبول صدیقی ،ڈپٹی کنوینرز ،اراکین رابطہ کمیٹی ،مرکزی شعبہ جات، ٹاون و یوسی کے ذمہ داران ،حق پرست اراکین اسمبلی ،نامزد بلدیاتی امیدواران اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

اس موقع پر کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری بہنیں آگے بیٹھی ہیں اور ہر مشکل وقت میں یہی آگے ہوتی ہیں اور آج جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم پریشان ہیں، ہم نہیں کوئی اور پریشان ہورہا ہے۔ اربوں روپے اور ڈالرز خرچ کرنے والے آج بھی ایم کیو ایم ختم نہیں کر سکے۔ پریشان وہ ہیں جو 2018 میں الیکشن جیتے اور انہیں جتوانے والے اس سے زیادہ پریشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ کی نظر منزل پر، قدم راستے پر ہیں جو آپ کے دشمن کو اچھی طرح نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کارکنان کو مخاطب

کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو فیصلہ کرنا ہے منصفانہ الیکشن ہوئے تو لڑنا ہے ورنہ ایم کیو ایم نہیں ہوگی تو الیکشن بھی نہیں ہونگے اور یہاں الیکشن ہونے ہیں یا نہیں وفاق یا کسی ادارے نے نہیں ہم کہیں گے تو الیکشن ہوگا ہم نہیں کہیں گے تو نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آج تک یہ فیصلہ نہیں کرسکی کے مردم شماری صحیح ہوئی یا غلط۔اس قوم کے ساتھ مردم شماری میں ناانصافی ہوئی۔ غلط حلقہ بندیاں کرنے والوں کے حلق میں حلقہ بندی پھنس جائے گی۔

اس مو قع پر ڈپٹی کنو ینر وسابق مئیر کراچی وسیم اختر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس کا مقصد آنے والے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے لیے ساتھیوں سے گفتگو کرنا ہے۔ 22 اگست کے بعد ایم کیو ایم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔