ڈیفالٹ کا خطرہ؟

217

وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت کے مشکل فیصلوں کی بدولت پاکستان ڈیفالٹ (دیوالیہ ہونے) کے خطرے سے نکل چکا ہے۔ پاکستان کی معاشی صورت حال کے بارے میں غلط معلومات پھیلا کر بے بنیاد ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔ یہ بات وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ اعلامیے میں کہی گئی ہے۔ جو وزیراعظم کی بین الاقوامی انوسٹمنٹ بینکنگ اور کیپٹل مارکیٹنگ فرم کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔ اس ملاقات میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کررہی ہے۔ اتحادی حکومت نے سیاسی قیمت کی پروا کیے بغیر ملک کو گزشتہ چار سال کی نااہلیوں کا خمیازہ بھگتنے سے بچالیا، حکومت بیرونی، تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اسی کے ساتھ وزیرخزانہ نے اس بات سے بھی مطلع کیا ہے کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے بورڈ کی منظوری کے بعد وصول ہونے والے 50 کروڑ ڈالر اسٹیٹ بینک میں منتقل کردیے گئے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد برسراقتدار آنے والی اتحادی حکومت کے سامنے سب سے بڑا حل طلب مسئلہ اقتصادی بحران کا خاتمہ، اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں کمی، عوام کو سہولتوں کی فراہمی اور آئی ایم ایف سے کیے جانے والے معاہدوں میں پاکستان کے لیے رعایتوں کا حصول تھا، لیکن آٹھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی حالات میں بہتری آنے کے بجائے بدتری ہوئی ہے۔ مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں سابق حکومت کے مقابلے میں زیادہ تیزی آگئی ہے۔ جس کی وجہ سے معزول حکومتی پارٹی کی مقبولیت بڑھ گئی ہے جس کی شہادت ضمنی انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہوگئی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ اسی عرصے میں پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بھی سر پر آگیا ہے۔ جس کی وجہ سے حکومت پر سیاسی دبائو بڑھ رہا ہے۔ اسی دبائو سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم نے یہ بیان جاری کرایا ہے کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے، یہی بیان کچھ دنوں قبل وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بھی دیا تھا، لیکن پاکستان کی معیشت پر نظر رکھنے والے ماہرین اس دعوے کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عالمی اداروں اور دوست ممالک کی جانب سے بھی کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔ یہاں تک کہ سبکدوش ہونے والے سابق وزیرخزانہ جو ملک کے ممتاز صنعت کار بھی ہیں، مسلم لیگ (ن) کے موثر رہنما اور وزیراعظم کے قریبی احباب میں سے ایک ہیں۔ وہ بھی ان خدشات کی تصدیق کررہے ہیں اور معیشت کی سنگین صورت حال اپنے تحریر کردہ مضمون میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو اپنی پالیسیوں کی وجہ سے سابق حکومت پر تنقید کرنے کا جواز نہیں ہے۔ پاکستان کی معاشی صورت حال کے بارے میں وزارت خزانہ کی جانب سے جو رپورٹ جاری کی گئی ہے وہ بھی حکومت کے دعوے کی تصدیق نہیں کرتی ہے۔ وزارت خزانہ نے موجودہ معاشی صورت حال اور معاشی اشاریوں کے بارے میں جو رپورٹ جاری کی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھاری کمی ہوئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں 9ارب 13 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کمی ہوئی ہے۔ بجٹ خسارہ 438 ارب روپے سے بڑھ کر 809 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی سرمایہ کاری کے حجم میں 306 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر اب 13 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ وزیراعظم کی کوشش یہ تھی عالمی اقتصادی بحران اور پاکستان میں سیلاب کے نقصانات کی وجہ سے پاکستان کو مالی مدد مل جائے لیکن اس کے اثرات نظر نہیں آرہے ہیں۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار اس دعوے کے ساتھ آئے تھے کہ وہ آئی ایم ایف کو قائل کرلیں گے، لیکن ابھی تک آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں ہوسکا ہے، اس حوالے سے تشویش ناک خبر یہ آئی ہے کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے آئی ایم ایف قرضہ پروگرام کے 9 ویں جائزے کی تکمیل اور ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجراء میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ وزارت خزانہ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ایک ہفتے سے ورچوئل مذاکرات (آن لائن) جاری ہیں لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اسلام آباد سے آئی ایم ایف کے دفتر سے جو اطلاعات آئی ہیں اس کے مطابق پاکستانی حکام سے اصلاحات کا عمل تیز کرنے پر گفتگو جاری ہے۔ ’’اصلاحات کا عمل‘‘ کیا ہے، اس کو ہر وہ فرد سمجھتا ہے جس کی عالمی ادارے پر نظر ہے۔ اس کا مطلب وہ سخت شرائط ہیں، جن کا حکم دیا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف نے اخراجات کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے لیکن ایک رپورٹ کے مطابق اخراجات کم ہونے کے بجائے بڑھ گئے ہیں، جہاں حکومتی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے وہیں بدعنوانی میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے دوست ممالک نے بھی ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔ اسی کے ساتھ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک میں معاشی جمود طاری ہوگیا ہے۔ بیرونی اور اندرونی قرضوں کا جموعی حجم 235 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ جس کا حل بیان بازی سے نہیں نکل سکتا۔