سپلا کے مطالبات

204

سندھ کے کالجوں کے اساتذہ کی تنظیم نے تعلیمی اداروں میں کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے سندھ پروفیسر اور لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) نے شارع فیصل پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اساتذہ کی تنظیم نے اپنے احتجاج کو پھیلاتے ہوئے وزیراعلیٰ ہائوس کا گھیرائو کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپلا کا کہنا ہے کہ کالجوں میں اساتذہ کے تقرر اور تبادلوں کے ریٹ مقرر ہیں۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ محکمہ کالجز نے بائیو میٹرک مشینوں کی خریداری میں بھی بدعنوانی کی ہے اور 27 ہزار روپے والی مشین 80 ہزار میں خریدی گئی ہے۔ سپلا کے مظاہرے سے کوئی سنسنی خیز انکشاف تو سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ عبرت کے لیے غورو فکر کرنا چاہیے کہ ہمارا سماج بگاڑ کی کس پستی کو پہنچ گیا ہے۔ حالت یہاں تک آگئی ہے کہ اساتذہ اپنے تعلیمی اداروں میں بدعنوانی کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں اور اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ رشوت دے کر تعیناتی اور تبادلے ہوتے ہیں۔ تعلیم کا ایک مقصد نئی نسل کی اخلاقی تربیت اور زندگی کا بلند نصب العین پیدا کرنا بھی ہے، لیکن جب تعلیمی اداروں میں اخلاقی بگاڑ آجائے گا تو نئی نسل کی تربیت کیسے ہوگی۔ اخلاقی تربیت ایک طرف اب تو تعلیم کے معیار میں بھی تنزل واقع ہوگیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقی بگاڑ کی ایک علامت یہ سامنے آئی ہے کہ جامعہ اردو کے طلبہ نے اپنے استاد کو زدوکوب کیا ہے۔ کالج اساتذہ کی تنظیم سپلا کے عہدیداروں سے گزارش ہے کہ وہ حکومت کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرنے کے ساتھ اپنی ذمے داریاں بھی ادا کریں۔ استاد اور شاگرد کا رشتہ تعلیم کے معیار کی اولین ضمانت ہے۔ کراچی کے بیش تر کالجوں میں تدریس کا سلسلہ منقطع ہے اور اس کی خبریں ان کالجوں سے آرہی ہیں جنہیں اعلیٰ معیار کے کالج سمجھا جاتا ہے۔ سپلا اپنی سطح پر اس بات کو یقینی بنائے کہ کالجوں میں باقاعدگی یک ساتھ اور مستقل کلاسیں ہوں۔