بانس پر چڑھنا اِسے کہتے ہیں

409

کسی گاؤں کے قریب ایک چھوٹا سا جنگل تھا۔ اس جنگل میں لومڑیاں، بھیڑیے اور گیڈر بھی پائے جاتے تھے۔ اس گاؤں میں زیادہ تر گدڑیوں کا بسیرا تھا۔ یہاں قدرتی چراگاہیں ہونے کی وجہ سے بھیڑ بکریوں کے پالنے اور ان کے ریوڑ کے ریوڑ بنا لینے کے اچھے مواقع کی وجہ سے گاؤں کے لوگوں کے پاس آمدنی کا ایک اچھا ذریعہ میسر تھا۔ حسب ِ معمول گاؤں کے گدڑیے صبح ہی صبح اپنے اپنے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ لیکر جنگل کی جانب نکلا کرتے تھے اور سرِ شام لوٹ کے گاؤں واپس آ جایا کرتے تھے۔ جنگل کے ایک حصے میں گیدڑوں کا ایک گروہ بھی رہا کرتا تھا۔ ان گیدڑوں میں ایک گیدڑ جو ان کا سرغنہ تھا، غیر معمولی قد کاٹھ کا مالک تھا۔ اکثر گزرنے والے اسے بھیڑیا سمجھنے لگتے تھے لیکن تھا تو وہ کیدڑ ہی اس لیے وہ لوگوں کے خوف زدہ ہونے پر دل ہی دل میں مسکرا کر رہ جایا کرتا تھا۔ ایک دن اس گیدڑ کے جتنے بھی گیدڑ ساتھی تھے انہوں نے کسی گدڑیے کی بھیڑ بکریوں کو آتے دیکھا تو اپنے سر غنہ کو اکسانا شروع کر دیا کہ آپ اپنے آپ پر غور کریں۔ اللہ نے آپ کو کیا ہی شاندار قد کاٹھ عطا کیا ہے۔ گیدڑ نے اپنا جائزہ لیا تو واقعی وہ ان سب میں بہت خوبصورت، لمبا چوڑا اور جسمانی لحاظ سے بہت نمایاں تھا۔ ابھی وہ اپنا جائزہ ہی لے رہا تھا کہ مصاحبوں نے کہنا شروع کیا کہ وہ سامنے سے جو ریوڑ آ رہا ہے اسے دیکھ کر آپ کو غصہ آنا شروع ہو گیا ہے۔ گیدڑنے غور کیا تو ایسی کوئی علامت اسے اپنے اندر محسوس نہیں ہوئی لیکن پھر بھی اس نے اپنے ساتھیوں پر اس بات کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔ دیکھیں آہستہ آہستہ آپ کی آنکھیں بھی سرخ ہونے لگی ہیں۔ گیدڑ نے سوچا کہ ایسا بھی کچھ مجھے نہیں ہو رہا مگر خیر آخر دیکھوں کہ سب چاہتے کیا ہیں۔ دیکھیں آپ کے حلق سے غراہٹیں بھی نکلنے لگی ہیں۔ گیدڑ نے سوچا کہ چلو ہلکی ہلکی غراہٹیں نکال کر ساتھیوں کو خوش ہی کر دوں۔ اتنے میں ریوڑ بھی قریب آ چکا تھا کہ سب گیدڑوں نے زور زور سے کہنا شروع کیا کہ دیکھیں اب تو آپ کی آنکھوں سے شعلے بھی نکلنے لگے ہیں اور آپ کے جسم کا بال بال غصے سے کھڑا ہو گیا ہے، بس یہی وقت ہے کہ آپ ریوڑ پر حملہ کر دیں اور ان میں خوف اور دہشت کی ایک لہر دوڑا دیں، آپ بالکل بھی پروا نہ کریں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ اتنا کچھ سننے کے بعد گیدڑ کے سرغنے کو اتنا ہوش کب رہا تھا کہ وہ اپنا جائزہ اچھی طرح لیتا، اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھاڑیوں میں سے چھلانگ لگا کر بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پر حملہ آور ہو گیا لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے ہمراہ چند اعلیٰ قسم کے قد آور کتے بھی ہیں۔ گیدڑ کو ریوڑ پر حملہ آور ہوتے دیکھتے ہی وہ غراتے ہوئے ایسے سامنے آئے کہ گیدڑ کے سر غنے کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ ساتھی تو پہلے ہی اپنی اپنی کچھاروں سے باہر نہیں نکلے تھے اس لیے گیڈر نے بڑی مشکل سے دوڑ کر اپنی جان بچائی تب اسے احساس ہوا کہ نہ تو اس کے منہ سے غراہٹیں نکل رہی تھی، نہ آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں، نہ ہی اس کے جسم کے بال کھڑے ہوئے تھے اور نہ ہی اسے غصہ آ رہا تھا۔
مورخہ 27 نومبر، جسارت اخبار کی شہ سرخی کے مطابق ’’پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اب ہم نے اس نظام کا حصہ نہ رہنے اور اسمبلیوں سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی تاریخ کا اعلان پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ عمران خان کی جلسہ گاہ آمد پر سینیٹر فیصل جاوید آبدیدہ ہوئے اور انہوں نے جذباتی انداز سے عمران خان کو خراج تحسین پیش کیا۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا کہ لاہور سے نکلا تو لوگوں نے ڈرانے کی کوشش کی مگر میں نے صاف انکار کردیا کیونکہ موت کو بہت قریب سے دیکھ چکا ہوں، زخمی ہونے کے بعد جب کنٹینر پر گرا تو گولیاں اوپر سے گزریں مگر اندازہ ہوگیا تھا کہ اللہ نے مجھے زندگی دی جس پر میں نے رب کا شکر ادا کیا، مجھے مکمل صحت یاب ہونے میں تین ماہ لگیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ مجھ پر حملہ کروانے والے تینوں افراد آج بھی عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں‘‘۔
مجھے اس سے کوئی بحث نہیں کہ گولیاں عمران خان کے گرنے سے پہلے پنڈیوں اور گھٹنوں میں کیسے لگیں اور جونہی وہ گرے تو ساری گولیاں نیچے آنے کے بجائے اوپر سے کیوں گزر گئیں۔ نہ ہی اس سے بحث ہے کہ انہوں نے آٹھ ماہ بعد ساری اسمبلیوں سے باہر آنے کا فیصلہ کیوں کیا کیونکہ بہترین موقع تو ٹھیک اس وقت کا تھا جس کو آٹھ ماہ گزر چکے ہیں۔ اس بات سے یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ وہ کشتیاں جلا کر میدانِ جہادِ حقیقی آزادی میں کودنا چاہتے تھے یا راہِ فرار کے سارے راستے کھلے رکھنا۔ پھر یہ بھی کہ آٹھ ماہ قبل جس جس نے بھی استعفے دیے تھے، بے شک وہ سب کے سب منظور تو نہیں ہوئے لیکن اس کی تنخواہیں جو بھی آج تک وصول کر رہے ہیں ان کو کن غیرت مندوں کی فہرست میں شمار کیا جانا چاہیے۔ یعنی وہ خود ہی نہیں سب کو اپنے ہی تھوکے ہوئے کا چاٹنا اتنا بھا گیا ہے کہ روز تھوکتے اور چاٹتے رہنے کے عادی ہو کر رہ گئے ہیں۔ جب پچھلے استعفوں کے تھوک مسلسل چاٹے جا رہے ہیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ مزید آٹھ ماہ جو باقی رہ گئے ہیں، تھوکا چاٹا نہیں جائے گا۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کے متعلق جب یہ فرمارہے ہیں کہ وہ سب اپنے اپنے عہدوں پر اب تک قائم ہیں، تو مجھے یوں لگ رہا ہے کہ ریوڑ کی رکھوالی کرنے والے وفا کے خوگر جیسے گیدڑ کی جان کو آ گئے تھے یہ معاملہ بھی بالکل اسی طرح کا ہے لیکن ان کو اب یہ بات سمجھ میں بہت اچھی طرح آ جانی چاہیے کہ نہ انہیں غصہ آیا تھا، نہ ان کی آنکھیں لال پیلی ہوئیں تھیں، نہ آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے، نہ منہ سے غرغراہٹ نکل رہی تھی اور نہ ہی جسم کا رواں رواں کھڑا ہو گیا تھا اگر اس بات میں کوئی شک ہے تو پلٹ کر خود ہی دیکھ لیں کہ ’’عمران خان قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ کہنے والے کتنے ایسے ہیں جو کل ان کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ بقول شاعر
مڑ مڑ کے دیکھیے کوئی رہ تو نہیں گیا
ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں کچھ قافلے کے ساتھؔؔ