شوکت اسلام کا جلوس اور 1970 کے انتخابات

325

ہمارے ایک دوست نے جو انٹرنیٹ پر جسارت کے مستقل قاری ہیں، ٹیلی فون پر شکایت کی ہے کہ آپ نے 1960ء کے عشرے کے لاہور کا قصہ ختم کردیا، حالاں کہ اس میں کئی اہم واقعات باقی ہیں۔ سب سے اہم واقعہ تو شوکت اسلام کا جلوس ہے جو مولانا مودودی کی قیادت میں نکالا گیا تھا جس نے سوشلزم، کمیونزم، سیکولرازم اور لبرازم کے حامیوں اور حکومت کے ڈھولچیوں میں تھرتھلّی مچادی تھی اور یہ سب عناصر ہاتھ دھو کر جماعت اسلامی کے پیچھے پڑ گئے تھے۔
ہمارے دوست کی شکایت بجا ہے۔ واقعی ہم سے کوتاہی ہوئی اور کئی اہم واقعات ضبط تحریر میں آنے سے رہ گئے۔ اس حوالے سے مزید جو باتیں یاد ہیں وہ بیان کرتے ہیں۔ جنرل ایوب خان نے اکتوبر 1958ء میں ملک پر قبضہ کیا تھا، اکتوبر 1968ء میں ان کے آمرانہ اقتدار کو دس سال مکمل ہونے والے تھے لیکن اس سے پہلے ہی انہوں نے عشرئہ ترقی منانے کا اعلان کردیا۔ مقصد عوام کو یہ باور کرانا تھا کہ ان کے دور اقتدار میں ملک نے بے مثال ترقی کی ہے۔ وہ بنیادی جمہوریتوں کے اسّی ہزار ارکان کے ذریعے خود کو پہلے ہی پانچ سال کے لیے منتخب کرواچکے تھے اور اب وہ تاحیات صدر بننا چاہتے تھے۔ سندھ کے نامور دانشور اور سیاستدان پیر علی محمد راشدی تو اس سے بھی آگے بڑھ کر ایوب خان کو مشورہ دے رہے تھے کہ وہ فوری طور پر اپنی بادشاہت کا اعلان کردیں۔ راشدی صاحب نے اس سلسلے میں جنرل ایوب خان کو بڑے طویل خطوط لکھے اور بڑے خوبصورت دلائل دیے۔ ان کے یہ خطوط آج بھی چھپے ہوئے موجود ہیں اور راقم کی نظر سے گزر چکے ہیں۔ راشدی کے مشورے پر جنرل ایوب خان کے منہ میں پانی تو بہت آیا لیکن وہ بادشاہ بننے کا حوصلہ نہ کرسکے۔ ان کی تاحیات صدر بنے رہنے کی خواہش بھی پوری نہ ہوسکی۔ حتیٰ کہ وہ جعلی انتخابات کے ذریعے حاصل کردہ پانچ سالہ صدارتی مدت بھی پوری نہ کرسکے۔ قضا و قدر نے انہیں ایسی پٹخنی دی کہ وہ قلابازیاں کھاتے ہوئے دور جاگرے۔ ہوا یوں کہ انہوں نے جونہی عشرئہ ترقی کے جشن کا آغاز کیا ملک میں مہنگائی کا ریلا آگیا۔ آٹا 18 روپے من بک رہا تھا 20 روپے من ہوگیا۔ عوامی شاعر حبیب جالب بیچارا تڑپ اُٹھا، اس مہنگائی پر عوام کی خاموشی اسے ایک آنکھ نہ بھائی، اس نے ایک طنزیہ نظم لکھی جس کا ٹیپ کا بند تھا۔
بیس روپے من ہوگیا آٹا
اس پر بھی ہے سناٹا!
صدر ایوب زندہ باد
لیکن یہ سناٹا تادیر قائم نہ رہا۔ چینی آٹھ آنے فی سیر (اُس وقت تک ناپ تول کا اعشاری نظام رائج نہیں ہوا تھا) مل رہی تھی کہ اس میں دو آنے فی سیر کا اضافہ ہوگیا، بس پھر کیا تھا عوام تڑپ کر سڑکوں پر نکل آئے اور صدر جنرل ایوب خان کا سیاپا کرنے لگے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں متحد ہو کر پہلے ہی بحالی جمہوریت کی تحریک چلا رہی تھیں، جلسے، جلوس اس تحریک کا حصہ تھے۔ اپوزیشن بھی اس ’’مہنگائی‘‘ کو لے اُڑی اور جلتی پر تیل ڈالنے لگے۔ پھر غضب یہ ہوا کہ ڈالر جو پانچ روپے کا آتا تھا چھے روپے میں ملنے لگا۔ ایوب حکومت نے ترقیاتی مقاصد کے لیے عالمی اداروں سے لاکھوں ڈالر کا قرضہ لے رکھا تھا، اس سے بھی پاکستانی معیشت متاثر ہوئی۔ ہمیں یاد ہے کہ سرگودھا میں متحدہ اپوزیشن کا جلسہ تھا جس کے واحد مقرر مولانا مودودی تھے، جب کہ کونسل مسلم لیگ کے مقامی رہنما صاحبزادہ افتخار احمد انصاری جلسے کی صدارت کررہے تھے۔ مولانا کی تقریر بہت مربوط اور مدلل ہوتی تھی، اس میں شر کی گنجائش بہت کم نکلتی تھی لیکن اس جلسے میں ہم نے مولانا کی زبان سے غالب کا یہ شعر سنا۔
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
مولانا نے ملک کی معیشت عوام کی زبوں حالی اور آمرانہ تسلط کا وہ نقشہ کھینچا کہ لوگ تڑپ اُٹھے اور پورے ملک میں جنرل ایوب خان کے خلاف مظاہروں میں شدت آگئی۔ فوج کے سربراہ جنرل یحییٰ خان پہلے ہی تاک میں تھے انہوں نے اپنے ’’باس‘‘ کو گھر بھیج کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
جنرل یحییٰ خان نے عوام اور سیاسی جماعتوں کے مطمئن کرنے کے لیے 1970ء کے اوائل میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کردیا۔ ابھی ان انتخابات میں ڈیڑھ دو سال کا وقفہ تھا کہ ملک میں انتخابی مہم شروع ہوگئی اور نظریاتی کشمکش اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ قیام پاکستان کے بعد ملک میں پہلے عام انتخابات ہونے والے تھے اور ہر سیاسی و نظریاتی قوت کی خواہش تھی کہ عوام اس کے نمائندے منتخب کریں۔ پارلیمنٹ میں اس اس کی اجارہ داری ہو اور وہ حکومت کو اپنے نظریاتی سانچے میں ڈھال سکے۔ جماعت اسلامی قیام پاکستان کے فوراً بعد سے نفاذ اسلام کا مطالبہ کررہی تھی، وہ اس مطالبے کی پاداش میں قید و بند اور دارو رسن کی ساری منزلیں طے کرچکی تھی اور بجا طور پر یہ اُمید رکھتی تھی کہ پاکستان کے عوام کو پہلی مرتبہ اپنے نمائندے منتخب کرنے اور اپنی حکومت قائم کرنے کا موقع مل رہا ہے تو وہ اس کے حق میں فیصلہ دیں گے اور ملک میں اسلامی نظام کے قیام کو ممکن بنائیں گے۔ تمام مذہبی جماعتیں بھی نفاذِ اسلام کے حق میں تھیں لیکن اپنے مذہبی تعصبات کے سبب جماعت اسلامی کے ساتھ نہیں تھیں، البتہ اسلام کے مخالف تمام کمیونسٹ، سوشلسٹ، سیکولر اور لبرل عناصر جماعت اسلامی کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع تھے اور جماعت اسلامی کو انتخابات میں ہر قیمت پر شکست دینا چاہتے تھے، انہیں درپردہ عالمی طاقتوں کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔
ایسے میں جماعت اسلامی کے مخالف عناصر نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک عالمی کسان کانفرنس منعقد کی جس کے مہمان خصوصی مرکزی مقرر مولانا عبدالحمید خان بھاشانی تھے جنہیں مشرقی پاکستان سے خاص طور پر کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔ بھاشانی صاحب محض اپنی طویل ڈاڑھی کی وجہ سے مولانا مشہور تھے ورنہ ان میں ’’مولانا‘‘ والی کوئی بات نہ تھی، وہ جلائو گھیرائو اور ہنگامہ آرائی کے پرچارک تھے، یہی باتیں انہوں نے کسان کانفرنس میں بھی کیں اور اعلان کیا کہ پاکستان کو ایک سوشلسٹ ملک بنایا جائے گا۔ کسان کانفرنس ختم ہوئی تو اس میں شریک افراد جماعت اسلامی کے خلاف اشتعال سے بھرے ہوئے تھے، انہوں نے لاہور پہنچ کر نیلا گنبد میں واقع جماعت اسلامی کے صوبائی دفتر پر حملہ کرکے وہاں الماریوں میں موجود قرآن پاک سمیت بہت سی دینی کتابیں نذرِ آتش کردیں۔ آغا شورش کاشمیری نے اپنے ہفت روزہ چٹان میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ سرخی جمائی ’’سوشلزم کا پہلا شہید۔ قرآن مجید‘‘۔ اس واقعے نے جماعت اسلامی کو بھی مجبور کردیا کہ وہ اپنی عوامی قوت کا بھرپور مظاہرہ کرے اور مخالفین پر دو اور دو چار کی طرح واضح کردے کہ پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف اسلام سے وابستہ ہے۔ اگر 1970ء کے عام انتخابات میں دھاندلی نہ کی گئی اور عوام کو آزادانہ اظہار رائے کا موقع دیا گیا تو وہ بلاشبہ اسلام کے حق میں اپنی رائے دیں گے اور پاکستان کو عملاً ایک اسلامی فلاحی مملکت بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ چناں چہ امیر جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کسان کانفرنس کے اثرات کو زائل کرنے اور مخالفین اسلام کو آئینہ دکھانے کے لیے ’’یوم شوکت اسلام‘‘ منانے کا فیصلہ کیا اور تمام مذہبی و دینی جماعتوں اور محب وطن عوام سے اپیل کی کہ وہ دینی و ملی حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوم شوکت اسلام منائیں اور دنیا پر واضح کردیں کہ ملت اسلامیہ پاکستان اسلام کے سوا کسی اور نظام کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ یوم شوکت اسلام منانے کے لیے لاہور میں ایک شاندار جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے لیے وسیع پیمانے پر تیاری کی گئی۔ تمام مذہبی اور اسلام دوست سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا گیا اور انہیں شوکت اسلام کے جلوس کی غرض و غایت بتائی گئی۔ آغا شورش کاشمیری اور علامہ احسان الٰہی ظہیر سمیت متعدد لیڈروں اور مذہبی رہنمائوں نے اس پروگرام کا پُرجوش خیر مقدم کیا۔ جلوس کے راستے کو خوبصورتی سے سجایا گیا، خیر مقدمی بینرز لگائے جن میں اسلام کے فیوض و برکات سے پوری دنیا کو آگاہ کیا گیا۔ جلوس کی قیادت سید مودودی سمیت کئی اہم لیڈروں نے کی۔ جلوس میں بیرونِ لاہور سے بھی ہزاروں افراد نے قافلوں کی صورت میں شرکت کی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا واحد جلوس تھا جس میں کوئی مخالفانہ نعرہ نہیں لگایا گیا اور صرف اسلام کی شان و شوکت، اس کی عظمت و توقیر اور اس کی فیوض و برکات کا ترانہ گایا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ 1970ء کے انتخابات میں اسلام کے حق میں ووٹ دے کر یہ ثابت کردیں کہ پاکستان صرف اور صرف اسلام کے لیے بنا ہے یہاں کوئی اور نظام نہیں۔ چل سکتا۔
شوکت اسلام کے جلوس میں لاکھوں افراد کی شرکت اور ان کے پرجوش نعروں نے مخالفین کو سراسیمہ کردیا۔ انہیں صاف محسوس ہونے لگا کہ 1970ء کے انتخابات کو ہائی جیک نہ کیا گیا تو اسلامی نظام کے دعویداروں کو غلبہ حاصل ہوسکتا ہے۔ عالمی طاقتیں بھی چوکنا ہوگئیں۔ (سابق) سوویت یونین اور امریکا کے درمیان اگرچہ سرد جنگ زوروں پر تھی اور دونوں طاقتیں عالمی سطح پر اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لیے سخت محاذ آرائی کے مرحلے سے گزر رہی تھیں۔
لیکن ان کے درمیان اس بات پر عمومی اتفاقِ رائے پایا جاتا تھا کہ دُنیا میں کہیں بھی اسلام کو غالب نہیں آنے دینا۔ چناں چہ پاکستان میں بھی یہ دونوں طاقتیں مخالفین اسلام کے ساتھ کھڑی تھیں اور انہیں درپردہ سپورٹ فراہم کررہی تھیں۔ بھارت اور اسرائیل بھی ان انتخابات میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے تھے۔ پاکستان کے عوام کو پہلی مرتبہ ووٹ کے ذریعے اپنی پسند کی حکومت قائم کرنے کا موقع مل رہا تھا اور بھارت و اسرائیل نہیں چاہتے تھے کہ ان انتخابات کے ذریعے پاکستان ایک اسلامی فلاحی مملکت بن جائے اور عرب ملکوں میں اسلامی انقلاب انگڑائی لینے لگے۔
1970ء کے انتخابات کے بارے میں یہ پروپیگنڈا بڑی شدت سے کیا جاتا ہے کہ یہ انتخابات نہایت صاف و شفاف تھے اور ان میں کوئی دھاندلی نہیں کی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے انتخابی عمل کو ہائی جیک کرلیا گیا تھا۔ مشرقی پاکستان میں بیوروکریسی عوامی لیگ کے اشارے پر ناچ رہی تھی، وہاں عوامی لیگ کے مخالفین کو انتخابی جلسہ کرنے کی بھی اجازت نہ تھی۔ مولانا مودودی انتخابی جلسے سے خطاب کے لیے ڈھاکا گئے تو انہیں جلسہ گاہ تک بھی نہیں پہنچنے دیا گیا۔ عوامی لیگ کے غنڈوں نے اسٹیج پر قبضہ کرلیا اور اندھادھند فائرنگ کرکے جلسے کو منتشر کردیا۔ مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی کو بیوروکریسی اور فوج کی حمایت حاصل تھی۔ فوج کا سربراہ بھٹو کا یار تھا، دونوں کے مشاغل اور مقاصد ایک تھے، دونوں ہر حال میں اقتدار اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حالات کے تناظر میں ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ کا فارمولا وضع کیا گیا تھا۔ عوامی لیگ بھی اس پر راضی تھی، اس نے مغربی پاکستان میں اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا، اس طرح پیپلز پارٹی نے بھی مشرقی پاکستان کو اپنے لیے ممنوع علاقہ قرار دے رکھا تھا۔ انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے وہ اسی فارمولے کے عین مطابق تھے۔ بعد میں جو کچھ ہوا وہ المیوں کی ایک تاریخ ہے جسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔