آرمی چیف کی تعیناتی اور عام انتخابات کا مطالبہ

284

ملک کو سیاسی معاشی بحران کا سامنا ہے ایسے میں نئے آرمی چیف کا انتخاب سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا تھا مگر اس سنگین صورتحال کو بڑی سنجیدگی کے ساتھ حل کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف بنا دیا گیا اس بات میں بھی کوئی دو آرا نہیں کہ دونوں جانب سے اس فیصلے پر ابہام پایا جاتا ہے، صرف اتنا ہی نہیں افواج پاکستان میں بھی سنیارٹی کی بنیاد پر اس فیصلے پر تحفظات جنم لے رہے ہیں جو ایک فطری عمل ہے موجودہ سیاسی صورتحال میں استحکام یقینا نئے آرمی چیف کے لیے بڑا چیلنج ہوگا ساتھ ہی اب یہ دیکھنا ہوگا کہ افواج پاکستان سیاسی مداخلت سے کس طرح دور رہ پاتی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے فوج کے ماضی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ملکی سیاست میں فوج کا کردار غیر آئینی قرار دیا اور اس عزم اعادہ کیا کہ اب فوج بحیثیت ادارہ سیاست میں عدم مداخلت کے اصول پر کار بند رہے گی۔
جنرل باوجود کے اس پیغام میں افواج پاکستان نے اپنی غلطیوں کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے فوج کے مستقبل کے کردار کو بڑا واضح کر دیا ہے افواج پاکستان کے اس واضح پیغام کو یقینا نئے آرمی چیف بھی آگے لے کر چلیں گے اور یقینا پاکستان کا یہ ادارہ ملک کی ترقی وخوشحالی و سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا فرض انجام دے گا۔ یقینا یہ پیغام اُن نااہل نالائق سیاستدانوں کے لیے بھی بڑا واضح ہے جو ذاتی مفاد کے لیے ملک کے اداروں کی چور دروازے سے مدد لیتے ہیں اور بعد میں ان پر غیر آئینی اقدام کا الزام عائد کرتے ہیں۔
نئے آرمی چیف کی تعیناتی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں سیاسی بحران ہے۔ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے یا پھر وقت سے پہلے عام انتخابات کا اعلان ہوجائے گا؟ دونوں صورتوں میں ہم عام انتخابات کی جانب بڑھیں گے، اس کشیدہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے نئے آرمی چیف کو آئین میں رہتے ہوئے اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ملک میں غیر جانبدار، شفاف، کسی بھی مداخلت سے پاک عام انتخابات ممکن بنائے جاسکیں۔ ساتھ ہی اب تمام سیاسی جماعتوں کو بھی افواج پاکستان کی جانب سے آنے والے پیغام کو سراہتے ہوئے چور دروازوں سے ملاقاتوں کی روش کو ترک کرتے ہوئے شفاف سیاست کی راہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ۷۵ برسوں سے سیاست کو مفادات کی بھینٹ چڑھاتے آئے ہیں ذاتی سیاسی مفادات کی ہوس نے اس ملک کا بیڑا غرق کر ڈالا ہے روایتی دشمن سے زیادہ سیاستدانوں نے اقتدار کے حصول کی دوڑ میں ملک وقوم کو مفلوج و مقروض بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، آج بھی نااہل نالائق کرپٹ سیاستدان اس ملک و قوم پر مسلط ہیں جن کو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کی کوئی پروا نہیں کوئی پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر قومی اداروں کو رشوت دے کر خرید رہا ہے تو کوئی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر اداروں کی تضحیک کی روایت ڈال کر قوم کو بے وقوف بنانے کی سازش کر رہا ہے۔
حقیقت سے جائزہ لیں تو ہر ایک نے ملک کے اداروں کا ذاتی سیاسی مفاد میں بھر پور استعمال کرکے اداروں کو متنازع بنانے کی سازش کی۔ قومی سلامتی کے اداروں کو مشکوک متنازع بنانے کی روایت کا بیج آج نہیں بویا گیا ۹۰ کی دہائی سے پاکستان کی سیاست میں دفاع وسلامتی اور انصاف کے اداروں کو اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے حصول کی خاطر کھینچا گیا یقینا عمران خان کا اداروں کے خلاف جارحانہ رویہ قابل مذمت ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ چھے ماہ پہلے لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے سابق وزیر اعظم جو لندن میں ہیں اور ان کی صاحبزادی ملک کے طاقتور اداروں کو ان مخصوص شخصیت کا نام لے کر للکارتے رہے قوم کو اداروں کے خلاف اُکساتے رہے۔ ملک اور بیرون ملک اپنے اداروں کی تضحیک کا سبب بنے اور آج یہ ا قتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہی ان ہی اداروں کے محافظ بن بیٹھے ہیں۔
ملک اور اس کے دفاع و سلامتی اور قانون و انصاف کے اداروں کی تضحیک کل بھی قابل مذمت تھی اور آج بھی قابل مذمت ہے قوم ایسے سیاستدانوں اور ان کی سیاسی بصیرت کو نہیں مانتی آج جو سیاست میں غیر آئینی مداخلت کے حوالے سے پیغام افواج پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا قوم اس پیغام کا خیر مقدم کرتی ہے اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے اور آج یہ قوم اپنی عدالتوں سے بھی ایسے ہی پیغام کی توقع رکھتی ہے تاکہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام پیدا ہوسکے اور ملک ترقی وخوشحالی کی جانب گامزن ہوسکے۔ قوم افواج پاکستان کی جانب سے آئین میں رہتے ہوئے اپنی اپنی حدود میں کام کرنے کے پیغام کو سراہتی ہے افواج پاکستان کے اس پیغام نے قوم کو ووٹ کی حقیقی آزادی و عزت کا پیغام دیا ہے ساتھ ہی سیاستدانوں کو بھی پیغام دیا کہ وہ شفاف غیر جانبدار سیاست کریں ملک و قوم اور اس کے اداروں کا ملک بیرون ملک تماشا نہ بنائیں۔