!نئے آرمی چیف کے چیلنجز

351

خوشی کی بات یہ نہیں ہے کہ طویل غور خوض کے بعد پاکستان کے نئے آرمی چیف کا تقرر احسن طریقے سے عمل آگیا اور جنرل حافظ منیر نے اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں بلکہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پہلی بار پکا مسلمان حافظ قرآن فوجی ملک کا سپہ سالار بنا ہے۔ جنرل حافظ عاصم منیر کو آرمی چیف مقرر کیے جانے پر ملک کے معروف عالم ِ دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار حافظ قرآن آرمی چیف کا تقرر ہوا ہے، مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ جنرل عاصم منیر نے مدینہ منورہ میں قرآن کریم حفظ کیا، امید ہے وہ فرائض کی ادائیگی میں قرآنی ہدایات کو مدنظر رکھیں گے۔ مفتی تقی عثمانی کا مزید کہنا تھا کہ جنرل عاصم منیر کا تقرر گرم جوش خیرمقدم کا مستحق ہے۔ خیال رہے کہ ملک کی سیاسی تاریخ میں اس بار آرمی چیف اور چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے دو اعلیٰ منصب پر سنیارٹی کی بنیاد پر تقرر کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا جارہا ہے۔ فیصلے کے باعث ملک کا سیاسی نظام مستحکم ہونے کے بھی قوی امکانات ہیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا بھی یہ موقف تھا کہ آرمی چیف میرٹ کی بنیاد پر تعینات کیا جائے، اگرچہ عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرا کیا تعلق کہ کون آرمی چیف بنے؟ جو میرٹ پر بہترین ہے اسے بنادو، مجھے کون سے اپنے کرپشن کیس ختم کرانے ہیں یا الیکشن جیتنے کے لیے ان کی مدد چاہیے، نواز شریف جسے بھی آرمی چیف چنے گا وہ پہلے دن سے متنازع ہوجائے گا۔ تاہم سابق سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ جو فیصلہ کیا گیا وہی میرٹ ہے، اور کیا میرٹ ہوتا ہے۔ جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ ترقی پانے والے دونوں اعلیٰ فوجی افسران کا عسکری کردار بھی بہت شاندار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف خوف خدا رکھنے والے انسان ہیں بلکہ دونوں سینئر ترین تھے۔ جبکہ نئے آرمی چیف دو دن بعد ریٹائرڈ ہونے والے تھے۔ سابق گورنر و ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کا کہنا تھا کہ اس فیصلے پر اختلاف کی امید تو نہیں ہے۔ چونکہ ہر شخص نے آرمی چیف کی بات کررہا تھا اب ایسا نہیں ہوگا ہر شعبہ اپنے کام کی طرف توجہ دے گا۔ جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف بھی جنرل ساحر شمشاد مرزا آرمی چیف کی طرح خوش اخلاق شخصیت کے مالک جانے جاتے ہی رہے کہ جی ایچ کیو نے گزشتہ بدھ کو اپنی پریس ریلیز میں بتایا تھا کہ چھے نام وزارت دفاع کو بھیجے گئے ہیں۔ یہ نام سنیارٹی کی ترتیب سے جنرل عاصم منیر، جنرل ساحر شمشاد مرزا، جنرل اظہرعباس، جنرل نعمان محمود، جنرل فیض حمید اور جنرل عامر محمود کے تھے۔ گو کہ آرمی چیف اور چیرمین جوائنٹ چیفس آف کے تقرر سے کوئی بھی متاثر نہیں ہوگا بلکہ سب اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ البتہ نئے آرمی چیف اپنی ریٹائرمنٹ کے باقی دو روز کی توسیع حاصل کرگئے ہیں۔ خیال رہے آئین کے تحت جو بھی آرمی سربراہ مقرر ہوتا ہے وہ سال کے لیے ہوتا ہے۔
جنرل حافظ عاصم منیر کے تقرر سے قبل ایسا لگ رہا تھا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نیا آرمی چیف کون ہوگا! یہ تاثر کسی اور کے تاثرات سے نہیں بلکہ جمہوریت پسند سیاست دانوں کے خیال اور بیانات سے نکل رہا تھا جو اس بات کا بھی دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے، مگر خود ہی اکثر و بیش تر، چھپے یا ظاہری طور پر فوج کو سیاسی عمل کی طرف کھسیٹتے ہیں یا لانے کی طرف گامزن کرنے ہیں۔ 1998 میں محترمہ بے نظیر بھٹو واشگاف الفاظ میں فوج کو اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت ان الفاظ میں دیا کرتی تھیں کہ ’’میں کہتی ہوں کہ آرمی ملک کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے ورنہ شیر سارا آٹا کھا جائے گا‘‘۔ پھر سب ہی نے دیکھا کہ 2005 میں اسی جنرل مشرف سے سیاسی لوگوں نے نیشنل ری کنسٹریکشن آرڈیننس (این آر او) کے تحت اپنے سیاسی کرداروں کی بحالی کے لیے معافیاں مانگی اور مقدمات ختم کروا کر سیاست کی آڑ میں ملک میں نئی لوٹ مار کی تیاری کی جو اب بھی مبینہ طور پر کسی نہ کسی طرح جاری ہے۔
جنرل عاصم منیر کو نئے آرمی چیف کی حیثیت سے دیگر چیلنجز کے ساتھ سیاسی نظام اور عام انتخابات کے طریقہ کار کی اصلاحات کرنے کے چیلنج کا سامنا بھی ہوگا جس کی تکمیل کے بغیر معاملات بہتر ہونا نہ ممکن ہے۔ دوسری صورت میں انہیں سیاسی امور کو نظر انداز کرکے سیاسی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی کرنا پڑے گی جو یقینا ایک اصول پسند، ایماندار و ذمے دار فوجی کے لیے مشکل بھی ہوگا لیکن بحیثیت مسلمان پوری قوم کو امید ہے کہ جنرل حافظ عاصم منیر ملک کی بہتری کے لیے اپنا تاریخی اور مثالی کردار ادا کریں گے اور اللہ ان کی رہنمائی کرے گا۔
ملک کو ان دنوں بھی اندرونی مسائل کے ساتھ بیرونی خصوصاً پڑوسی ملک کی سازشی چالوں کا بھی سامنا ہے جس نمٹنے کی صلاحیت فوج رکھتی ہے بلکہ جنرل عاصم منیر کے تقرر کے بعد فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ ہونے کا قوی امکان بھی ہے۔ کیونکہ وہ ملٹری انٹیلی جنس کے کردار کو سابق ایم آئی کے سربراہ کے طور پر سمجھتے بھی ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ حافظ جنرل عاصم منیر کے پاکستان کے فوجی سربراہ بننے پر بھارتی فوج مزید خوف کا شکار ہے۔ پوری قوم کی دعا ہے کہ پاک فوج ملک و قوم کی حفاظت کے لیے اپنا کردار مزید جواں مردی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ادا کرے اور اسے ہر تحریک میں کامیابی حاصل ہو، آمین ثم آمین۔