پہلے ریلوے کا حساب تو دیں

221

وفاقی وزیر برائے ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہم چھ ماہ میں پی آئی اے کو یورپ میں بحال کر دیں گے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ترکش ائر لائن ہمارے مسافروں کو یورپ لے جارہی ہے پاکستان مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔ انہوںنے کراچی میں انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک لائونج کو اپ گریڈ کرنے کے عزائم کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ جعلی ڈگری والوں کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔ لیکن وہ یہ بھی بتا دیں کہ جب وہ ریلوے کے وزیر تھے تو کیا انہوں نے ریلوے کو آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ مسافروں کا رش، سیٹیں غائب، اور ریلوے خسارے میں یہ کہانی اب بھی جاری ہے۔ پی آئی اے کا معاملہ تو حکمرانوں کی جانب سے سنگین مذاق ہے۔ پی ٹی آئی نے جن صاحب کو ہوا بازی کی وزارت دی تھی انہوںنے دلچسپ ہوائی اڑائی کہ پی آئی اے کے سیکڑوں پائلٹوں کے لائسنس جعلی ہیں۔ ان کی اس ہوائی کے بعد پی آئی اے کریش لینڈ کر گئی۔ جتنی معلومات سابق وزیرہوا بازی کو تھیں اس سے زیادہ معلومات سعد رفیق صاحب کو بھی شاید ہی ہوں وہ بھی فرما رہے ہیں کہ جعلی ڈگری والوں کو سزائے موت نہیں دے سکتے۔ خواجہ صاحب سزائے موت سے کچھ کم پر آجائیں لیکن اپنی غلط فہمی دور کر لیں کہ جعلی ڈگری یا جعلی لائسنس میں بھی فرق ہوتا ہے اور پائلٹ کو ایک مرتبہ لائسنس مل جائے تو اس کی تجدید اس کے فلائنگ آورز یا پروازوں کے گھنٹوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ جعلی لائسنس کہیں بنتا نہیں ہے۔ لیکن وہ وزیر ہی کیا جو اپنی وزارت کے معاملات سے واقف ہو۔ خواجہ صاحب ریلوے کی تباہی کا حساب دیں پھر یورپ جائیں۔