سود و ٹرانس جینڈر پر ملی یکجہتی کونسل کا اہم اجلاس

348

جماعت اسلامی کو دیگر دینی و سیاسی تنظیموں میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اہم قومی و دینی مسائل و حالات پر زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے پیدا کرنے اور ایک متفقہ قومی بیانیہ بنانے کے لیے دیگر اہل علم، علما کرام و دینی جماعتوں سے رابطے کو مضبوط بناتی ہے اور درپیش دینی و قومی مسائل پر حالات حاضرہ کے مطابق موقف اختیار کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے جماعت نے برادر تنظیمیں تشکیل دے رکھی ہیں، ان تنظیموں میں مختلف مکاتب فکر کے جید علما کرام و دینی تنظیموں پر مشتمل ایک اہم قومی سطح کی تنظیم ’’ملی یکجہتی کونسل‘‘ کا قیام ہے جس کے تحت درپیش دینی مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علما کرام و تنظیموں کا اجلاس بلایا جاتا ہے اور ہر سطح سے درپیش مسئلے کا جائزہ لیا جاتا ہے پھر علما و اہل علم حضرات کی تجاویز و مشورہ سے اتفاق رائے پیدا کرکے اس کا حل قومی اخبارات کے ذریعے قوم و حکمرانوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے کا ایک حالیہ اجلاس میں راقم الحروف کو بھی ایک دینی تنظیم کی نمائندگی کا موقع ملا جو ملک کو درپیش ایک اہم مسئلہ سود اور ٹرانس جینڈر کے سلسلے میں بلایا گیا تھا۔ اجلاس میں تمام دینی جماعتوں کے نمائندوں و علما کرام موجود تھے۔ اجلاس کی صدارت ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو کررہے تھے۔ جب کہ اجلاس میں سنی، شیعہ، بریلوی، دیوبندی و اہل حدیث اور جماعت اسلامی کی نمائندگی کرنے والوں میں محمد حسین محنتی، زاہد عسکری، قاضی احمد نورانی، سید ناظر عباس نقوی، سید عقیل انجم قادری، عمران احمد سلفی، سید الاقبال زہری، حشمت اللہ صدیقی، علامہ مرتضیٰ رحمانی، سید رضی حیدر زیدی، ملک غلام عباس و دیگر موجود تھے۔ صدر اجلاس نے مختصر طور پر سود اور ٹرانس جینڈر کے حوالے سے آنے والی فلم ’’جوائے لینڈ‘‘ تعلیمی اداروں میں رقص و موسیقی کو نصاب میں شامل کرنے اور اس کے لیے اساتذہ کی بھرتی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قیام ایک خاص نظریے پر آیا تھا اور یہاں کا آئین بھی اسلامی نظریے کا تحفظ کرتا ہے اور آئین کا تقاضا ہے کہ دیگر تمام غیر ماسلامی قوانین کو کالعدم قرار دے کر ملک میں قرآن و سنت کے مطابق قوانین نافذ کیے جائیں لیکن یہاں کے حکمرانوں نے اپنی آئینی ذمے داریاں پوری نہیں کیں جس کے باعث 75 سال بعد بھی یہاں اسلامی قوانین کا نفاذ نہ ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں غیر ملکی مغربی ذرائع سے آنے والی ہر برائی و خلاف اسلام سازشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ حالیہ ٹرانس جینڈر بھی اس سلسلے کی کڑی ہے جو مغربی ماحول و تہذیب کو یہاں متعارف کرانے کے لیے میڈیا کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ دینی جماعتیں ان سازشوں سے عوام کو آگاہ کرتی رہیں گی۔ ملی یکجہتی کونسل کا یہ اجلاس حکمرانوں پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ اسلام و معاشرتی اقدار کے خلاف کوئی مغربی سازش کو یہاں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اجلاس متنبہ کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ حکمران ایسی کسی فلم کی اجازت ہرگز نہ دیں اور پورے ملک میں ’’جوائے لینڈ‘‘ نامی فلم پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی سندھ حکومت کی جانب سے سرکاری تعلیمی اداروں میں رقص و موسیقی کی تعلیم دینے اور اس کے لیے اساتذہ بھرتی کرنے کے حالیہ عمل کی بھی اجلاس کے شرکا نے سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام ملک کے اسلامی و آئینی تشخص کے منافی ہے، اس سلسلے میں طے کیا گیا کہ گورنر سندھ سے ایک وفد ملاقات کرکے انہیں اپنے جذبات سے آگاہ کرے گا۔ اس کے علاوہ اجلاس سود کے مسئلے پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے مقررین نے جماعت اسلامی کی جانب سے ’’یوم انسداد سود‘‘ پر اپنی حمایت و تائید کی ہے اور تمام مکاتب فکر سے منسلک خطبا مساجد سے اپیل کی کہ وہ سود کے خلاف اسلام کے احکامات سے قوم کو آگاہ کریں اور مختلف قراردادوں کے ذریعے حکمرانوں پر واضح کریں کہ آئین پر عمل کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے حالیہ بیان میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں کو عدالت عظمیٰ سے واپس لینے کے اعلان پر عملدرآمد کرے دیگر بینکوں سے بھی یہ اپیل واپس لے اور ملک کو سودی بینکاری سے پاک کرے۔ اجلاس میں حکومت کے بعض فیصلوں کا خیر مقدم بھی کیا گیا، جس میں پنجاب حکومت کا ’’جوائے لینڈ‘‘ فلم پر پابندی، نکاح نامے میں ختم نبوت کے حلف نامے کو لازمی قرار دینے اور اسکولوں میں قرآن پاک کی تعلیم ترجمے کے ساتھ دینے کی تجاویز شامل ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت پنجاب نکاح نامے کے ساتھ ختم نبوت کے حلف نامے کے قانون کو منظور کرچکی ہے جس کا خیر مقدم کرتے ہوئے حکومت سندھ و دیگر سے بھی حلف نامے کے قانون کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان تمام فیصلوں پر قاضی احمد نورانی نے بطور سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل سندھ نے شرکا مجلس سے شرائے لی اور ایک متفقہ بیان پڑھ کر سنایا اور اتفاق رائے سے ان اہم قومی و دینی مسائل پر بیانیہ تیار کرکے زاہد عسکری نے پریس کو جاری کیا۔ بعدازاں اجلاس کے شرکا ایک وفد کی صورت میں قائد وفد اسد اللہ بھٹو کی قیادت میں ممتاز و جید عالم دین مہتمم دارالعلوم کراچی مفتی رفیع عثمانی کی رحلت پر تعزیت کے لیے دارالعلوم کرچی گئے، جہاں وفد نے نماز مغرب ادا کی اور مفتی رفیع عثمانی کے صاحبزادے مفتی محمد زبیر عثمانی و دیگر علما کرام سے مفتی رفیع عثمانی کی وفات پر ملی یکجہتی کونسل کی جانب سے تعزیت کی اور کہا کہ مفتی صاحب کے انتقال سے جو علمی و دینی خلا پیدا ہوا ہے وہ پُر ہونا مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی دینی خدمات قبول فرمائے اور نہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے (آمین)۔