اسمبلیوں سے چھٹکارا حقیقی آزادی ہے؟

1030

سابق وزیراعظم عمران خان کا حقیقی آزادی لانگ مارچ اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی پہنچ کر اسمبلیوں سے استعفے کے اعلان پر ختم ہوگیا۔ عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ میں اس کرپٹ نظام کا حصہ نہیں رہ سکتا۔ مجھ پر حملہ کرانے والے تینوں افراد اب بھی اپنے عہدوں پر ہیں۔ عمران ناکام رہا۔ عمران خان کے فیصلے کو حکومت نے اعتراف شکست قرار دیا اور کہا ہے کہ کرپٹ لوگوں کو سزا دلوانے میں حکومت میں ہونے کے باوجود ناکام رہا۔ عمران خان کے فیصلے کو حکومت نے اعتراف شکست قرار دیا اور کہا ہے کہ اگر پانچ دس لاکھ لوگ ہوتے تو یہ اسلام آباد کا رُخ کرتے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے اس کو ایک ناممکن قرار دیا کہ عمران خان اسمبلیاں تورنے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے تو دعویٰ کردیا کہ عمران خان پنجاب تو کجا کے پی کے اسمبلی بھی نہیں توڑ سکیں گے۔ اور قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عمران خان اس فیصلے سے بھی یوٹرن لے لیں گے لیکن انہوں نے بھی دھمکی دی ہے کہ ہمیں بھی کچھ فیصلے کرنے ہوں گے۔ عمران خان کے پنجاب اسمبلی توڑنے میں ناکامی کا پہلا اشارہ تو یہ ہے کہ ان کے اپنے مقرر کردہ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے اعلان کردیا ہے کہ پنجاب حکومت کو کچھ نہیں ہوگا مدت پوری کریں گے۔ ان دونوں دعوئوں اور دھمکیوں کے ساتھ ساتھ دونوں کی جانب سے ایک دوسرے سے مطالبات پیش کرنے کی خبریں بھی ہیں یعنی بیک ڈور رابطے یا خفیہ رابطے۔ اس وقت منتخب ارکان اسمبلی کی سب سے پہلی ترجیح تو اسمبلیوں کو برقرار رکھنا ہے۔ جس قسم کے لوگ فصلی بٹیروں کی طرح مختلف حکمران پارٹیوں میں آخر وقت میں شامل ہو کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں یہ لوگ عوام کی خدمت اور ملک میں تعلیم، ترقی، صحت کی سہولیات وغیرہ کے لیے اسمبلیوں میں نہیں آتے، بلکہ ان کا اصل مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ انہیں عرف عام میں الیکٹ ایبلز کہا جاتا ہے اور موجودہ نظام کی بہت بڑی خرابی یہی لوگ پیدا کرتے ہیں اور یہ اس خرابی کو یا پارٹیوں کی اس کمزوری کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان صاحب کا اعلان بظاہر تو بڑا اعلان ہے لیکن یہ اعلان وہ سات ماہ قبل اقتدار سے نکلنے کے بعد بھی کرچکے تھے کہ میں کرپٹ نظام کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ لیکن وہ یہ نہیں بتا سکے کہ ان کے اقتدار سے نکلتے ہی اسمبلیاں کرپٹ کیسے ہوگئیں۔ گویا وہ اقتدار میں ہوں تو اسمبلیاں اچھی اور اس کے بغیر وہی اسمبلیاں ان پارٹیوں پر مشتمل ایوان جمہوری، یعنی وہ اس اصول پر کاربند ہیں کہ وہ اقتدار میں ہوں تو ملک جمہوریت پر چل رہا ہے۔ وہ باہر ہوں تو سارا نظام کرپٹ۔ اگر دیکھا جائے تو نظام کرپٹ ہی ہے لیکن جس کو اس نظام کو سدھارنے کے لیے چار سال اقتدار مل جائے وہ اس نظام کی اصلاح کا پہلا قدم کرپٹ لوگوں کو سزا دلوانے میں بھی ناکام رہے اور بار بار اس کمزوری کا اعتراف کرے تو اسے حقیقتاً اس نظام کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان کے اسمبلیوں سے استعفوں کا جہاں تک تعلق ہے اس کے لیے انہیں باقاعدہ آئینی طریقہ اختیار کرنا چاہیے، استعفے جس طریقہ کار کے مطابق دیے جانے چاہئیں اس کے مطابق دیے جائیں۔ انہیں اس فیصلے یا اعلان کے نتائج کا اندازہ اس وقت ہوگا جب یہ اس پر عمل کرانے کی کوشش کریں گے۔ پنجاب میں تو وہ پرویز الٰہی کو اقتدار دے کر اپنے ہاتھ پائوں بندھوا چکے ہیں، زیادہ دن نہیں گزریں گے پرویز الٰہی ایک مرتبہ پھر پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کا لقب دوبارہ پائیں گے۔ پنجاب میں تو حمزہ شہباز اسمبلی میں پی ٹی آئی کے نکلتے ہی اکثریت میں آجائیں گے اور پرویز الٰہی کو اپوزیشن ہی میں بیٹھنا ہوگا۔ لیکن اگر پرویز الٰہی حمزہ کے ساتھ مل کر مدت مکمل کرنے پر راضی ہوجائیں تو ممکن ہے ان کا اقتدار بھی بچ جائے۔ شاید اسی وجہ سے وزیرداخلہ نے دعویٰ کردیا کہ عمران خان کے پی کے اسمبلی بھی نہیں توڑ سکتے۔ لیکن اصل معاملہ یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی صرف اس لیے اسمبلی میں آئے تھے کہ صرف وہی اقتدار میں رہیں گے اور اپوزیشن انہیں ہرگز قبول نہیں۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ تینوں پارٹیاں ہر قیمت پر اقتدار چاہتی ہیں، کوئی سنجیدہ قانون سازی یا جمہوری کردار ادا نہیں کرنا چاہتیں۔ ان سب کے نزدیک جمہوریت وہی ہے جس میں وہ اقتدار میں ہوں۔ اقتدار کے لیے رسہ کشی میں ان پارٹیوں نے مسلح افواج کو بھی اپنے ساتھ اس حد تک شامل کرلیا کہ مسلح افواج کے ترجمان نے باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے عمران خان کی حکومت پر چھ ماہ تک تنقید نہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اب جب کہ عمران خان نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان کردیا ہے تو قوم کے لیے یہ سوال حق بجانب ہے کہ کیا ہمارے لیڈر اور ایم این اے صرف اقتدار کے لیے ایوان میں پہنچنا چاہتے تھے، 20 سال چور چور کا شور مچایا گیا اور چار سال میں ایک چور بھی سزا نہیں پاسکا، بلکہ سب مظلوم بن کر پھر اقتدار میں آگئے۔ پاکستانی قوم اگر حقیقی آزادی چاہتی ہے تو اس قسم کے سیاستدانوں سے آزادی حاصل کرے، پھر کرپشن کا خاتمہ آسان ہوگا۔