نئے آرمی چیف کے لیے چیلنجز

212

پاک فوج کے نئے سربراہ جنرل عاصم منیر اگرچہ فوج میں نئے نہیں لیکن فوج کے سربراہ نئے ہیں، انہیں پاک فوج کو درپیش تمام چیلنجز کا اچھی طرح علم ہے، لیکن کچھ چیلنجز ایسے ہیں جو ان کے پیش رو جنرل قمر جاوید باجوہ چھوڑ کر جارہے ہیں۔ جنرل باجوہ نے ایک مرتبہ تین سال تک ملازمت میں توسیع کے بعد ازخود مزید توسیع سے منع کردیا لیکن فوج میں یہ قبیح روایت مستحکم ہوئی کہ آرمی چیف کو توسیع دی جاسکتی ہے۔ گریڈ 18 یا 20 کا افسر اگر توسیع مانگے تو اس کے لیے آئینی پابندی آڑے آتی ہے اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے بھی۔ تاہم جنرل باجوہ نے مزید توسیع نہ لینے اور فوج کے سیاست میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا اور یہ دونوں اعلانات جنرل عاصم منیر کے لیے اس اعتبار سے چیلنج ہیں کہ اگر وہ فوج کے اداروں کو سویلین معاملات سے دور رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو ان کی تعریفیں ہوں گی اور اقتدار کے دلدادہ یہی سیاستدان چاہیں گے کہ ان کے عہدے کی میعاد میں توسیع کرکے اپنے اقتدار کو بھی توسیع دلوادیں۔ جنرل عاصم منیر کو اس حربے سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ اس طرح پاک فوج کے اعلیٰ معیار کو مزید مستحکم کرنا ہوگا۔ حافظ قرآن ہونے کے ناتے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اب دینی مدارس کی اصلاح تو ضرور ہوگی لیکن اصلاح کی آڑ میں ان کا قافیہ تنگ نہیں ہوگا اور حافظ قرآن ہونے کے ناتے انہیں اپنی قوم کی بیٹی حافظہ قرآن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی واپس لانے کا چیلنج درپیش ہے۔ جنرل باجوہ یہ کرنا چاہتے ہوں یا نہیں لیکن وہ کر نہیں سکے۔ جنرل عاصم کے لیے تو فوج کو سیاست سے دور رکھنے کا چیلنج ہی بہت بڑا ہے کیوں کہ اس چسکے نے فوج کو بہت سے امور پر توجہ مرکوز رکھنے سے روک رکھا ہے۔