امریکا نے چینی موبائل فونز اور سی سی ٹی وی کیمروں پر پابندی لگادی

325

واشنگٹن: امریکا نے چین کی ٹیلی کام کمپنیوں اور سرویلنس کیمروں پر پابندی لگادی۔

امریکی ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹرز نے چینی ٹیلی کمیونیکیشن اور ویڈیو سرویلنس آلات سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے چینی کمپنیوں ہواوے، زیڈ ٹی ای اور سرویلینس کیمرہ ساز کمپنیاں ہائک ویژن اور داہوا کی مصنوعات کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔

یہ فیصلہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے بیجنگ کی ممکنہ جاسوسی کے بارے میں اٹھائے گئے خدشات اور کانگریس کی جانب سے گزشتہ برس منظور کردہ ایک قانون کے بعد کیا گیا ہے۔امریکی ٹیلی کام ریگولیٹر فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ملک کے مواصلاتی نیٹ ورک کی حفاظت کے لیے نئے قوانین کو اپنایا ہے، ہواوے ٹیکنالوجیز اور زیڈ ٹی ای کارپوریشن کے تیار کردہ آلات پر پابندی ہوگی۔

یہ دونوں کمپنیاں پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکی پابندیوں کی زد میں آچکی تھیں۔نئے قوانین کا اطلاق ہائیک ویژن اور داہوا پر بھی ہوگا جن کے تیار کردہ ویڈیو سرویلنس کیمرے پوری دنیا میں نصب ہیں لیکن ان سے رازداری کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ دو طرفہ بات چیت کے لیے استعمال ہونے والے ریڈیو بنانے والی کمپنی ہائٹیرا پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ چینی قوانین کے تابع ان کمپنیوں کو بیجنگ کی سیکورٹی سروسز کو معلومات دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے حالانکہ ان کمپنیوں نے اس کی تردید کی ہے۔ایف سی سی کی چیئرپرسن جیسیکا روزن ورسیل کا کہنا تھا ایف سی سی ہماری قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ ناقابل بھروسا مواصلاتی آلات کو ہماری سرحدوں کے اندر استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

انہوں نے مزید کہا یہ نئے قوانین امریکی عوام کو ٹیلی مواصلات سے متعلق قومی سلامتی کے خطرات سے بچانے کے لیے ہماری مسلسل کارروائیوں کا ایک اہم حصہ ہیں۔