عرفان صدیقی کی خدمت اقدس میں

421

عرفان صدیقی صحافت میں ایک اہم نام ہیں جو اردو لکھتے ہیں تو موتی بکھیر دیتے ہیں جن سے محبت کرتے ہیں بے وفائی نہیں کرتے، اس لیے وہ ہر دور میں شریف خاندان کے خدمت گار رہے ہیں یہ وفاداری انہیں سینیٹر کے مقام تک پہنچا دیتی ہے، 23 نومبر کو ان کا مضمون روزنامہ جنگ میں ’’سراج الحق کے ارشادات عالیہ‘‘ کے عنوان پر شائع ہوا، جس میں اس موقف کے قائل ہیں کہ وزیر اعظم کو مکمل اختیار ہونا چاہیے وہ جسے چاہے آرمی چیف کی مسند پر بٹھا دیں، کیونکہ انہیں سراج الحق کا موقف ناگوار گزرا جس میں انہوں نے ٹھیک کہا ’’آرمی چیف کا تقرر چیف جسٹس آف پاکستان کی طرح سنیارٹی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اِس معاملے کو سیاستدانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ اس طرح کے تقرر کے لیے سیاسی جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہوں۔ سیاسی کھینچا تانی کے بعد جو آرمی چیف آئے گا، وہ ادارے کو دیکھے گا یا سیاسی پارٹیوں کے مفادات کو‘‘ میرے دوست عرفان صدیقی یہ بھول گئے کہ پاکستان میں سبھی سیاست دانوں کو اپنی مرضی کا آرمی چیف چاہیے، یہاں سب اقتدار میں آنے کے بعد طاقت کا مرکز اپنی ذات کو بنانا چاہتے ہیں اس لیے آئینی حد بندیوں اور طریقہ کار کو بالائے طاق رکھ کر اپنی اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انتظامی معاملے کو شدید سیاسی معاملہ بنا دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان کے آئین میں یہ نکتہ واضح ہے کہ جو فوجی آفیسر زیادہ سینئر ہوگا، اس کو وزیراعظم کی سفارش پر صدر پاکستان آرمی چیف تعینات کر دیں گے۔ آرمی چیف کا تقرر امتیازی ہوتا رہا ہے جو آئین کے آرٹیکل 25 کی ’’پیٹنٹ‘‘ کی خلاف ورزی تھی۔ مذکورہ تقرر کا عمل غیر منصفانہ، غیر معقول، من مانی اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان اور ہائی کورٹ کے تمام ججوں کا تقرر سنیارٹی کی بنیاد پر کیا گیا لیکن چیف آف آرمی اسٹاف کے انتخاب میں اسی کو نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان میں سب سیاستدان اپنی اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز عوام نہیں بلکہ فوج ہے اور اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کے بعد وہ ملک کے ناقابل شکست حکمران بن سکیں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسا سیاستدان بھی اس غیر آئینی اقدام سے خود کو نہ بچا سکا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاستدان ہر وقت فوج کے سیاسی کردار کا رونا روتے رہتے ہیں مگر جب آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ آتا ہے تو تمام انتظامی اور آئینی قوانین کی دھجیاں اڑا کر صرف اپنے ذاتی مفاد کو ملحوظ نظر رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں جو سیاستدان بھی اقتدار میں آیا اس نے کوشش کی کہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لگائے۔ جس سے وہ خود اس گڑھے میں گرتے رہے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی وہ یہ بھول جاتے ہیں آرمی کے فیصلے ایک فرد نہیں بلکہ ادارہ کرتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے کئی سینئر جرنیلوں کی سنیارٹی کو نظر انداز کر کے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنایا۔ ضیاء الحق کو آرمی چیف بنانے سے پہلے ان کے بارے میں رپورٹ لی تو ان کو بتایا گیا کہ یہ صاحب انتہائی غیر سیاسی ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت گولف کھیلنے اور نماز پڑھنے میں صرف کرتے ہیں۔ ذوالفقار بھٹو کو ان کی یہ ادا بڑی پسند آئی لہٰذا انہوں نے آئینی اور قانونی طریقہ کار کو چھوڑ کر اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ضیاء الحق کو آرمی چیف مقرر کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق نے بعد میں جو سلوک ذوالفقار بھٹو کے ساتھ کیا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں نسبتاً غیر سیاسی اور معتدل مزاج آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو اپنی مدت ملازمت پوری کرنے سے پہلے ہٹا کر ایک جونیئر جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا جس کی وجہ سے کئی سینئر جرنیلوں کے ساتھ زیادتی ہوئی اور ان کا حق مارا گیا۔ پرویز مشرف کے تقرر کے وقت بھی نوازشریف نے وہی غلطی کی جو ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی کہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کو چھوڑ کر پرویز مشرف کے غیر سیاسی اور مڈل کلاس خاندانی پس منظر والی غیر منطقی سوچ کو ترجیح دی اور پھر جو مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے آرمی چیف نے ان کے ساتھ کیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ یاد رہے کہ یہ نواز شریف کے اس دور کی بات ہے جب ان کے پاس پاکستان کی تاریخ کی مضبوط ترین حکومت تھی جو عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد بنائی گئی تھی۔ اس کے باوجود بھی ان کو اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کی ضرورت پیش آئی۔ بقول سینئر سیاستدان سیدہ عابدہ حسین، نواز شریف بطور وزیراعظم اتنے مضبوط ہونا چاہتے تھے کہ خود کو بادشاہ اور امیر المومنین دیکھنا چاہتے تھے۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو جب پرویز مشرف کے ساتھ معاہدہ کرتی ہیں تو مشرف کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی کو آرمی چیف لگانے پر اصرار کرتی ہے کیوںکہ جنرل کیانی محترمہ کے ملٹری سیکرٹری رہ چکے تھے۔ ان کی وفات کے بعد جب پاکستان پیپلز پارٹی حکومت میں آئی تو صدر زرداری نے جنرل کیانی کو مدت ملازمت میں توسیع دے کر اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کی روایت کو برقرار رکھا۔ عمران خان اپنی پسند کا آرمی چیف لگانے کی روایت کے بہت ناقد دکھائی دیتے تھے اور اس بات پر بہت زور دیتے تھے کہ آرمی چیف کے تقرر کے معاملے میں سنیارٹی کے طریقہ کار کو اپنایا جائے مگر جب وہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے میرٹ کے برعکس جنرل قمر جاوید باجوہ کو بطور آرمی چیف توسیع دے دی اور پھر اپنی حکومت کے چھن جانے کے بعد اپنی پسند کے لگائے ہوئے آرمی چیف ہی کو مورد الزام ٹھیرانے لگے۔ عمران خان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد اپنے بیانیے پر عمل کرتے ہوئے میرٹ اور سنیارٹی کے مطابق آرمی چیف کا تقرر کریں گے مگر بد قسمتی سے وہ بھی اسی بہاؤ میں بہہ گئے اور اپنی پسند کا آرمی چیف لگانے والے گرداب میں پھنس گئے۔ عمران خان تو باقی وزرائے اعظموں پر بھی سبقت لے گئے کیوںکہ وہ نہ صرف آرمی چیف اپنی پسند کا چاہتے تھے بلکہ آئی ایس آئی کا سربراہ بھی اپنی پسند کا چاہتے تھے۔
بدقسمتی سے یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہمارے ملک کے سیاستدانوں نے بشمول عمران خان نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ آج پھر پاکستان اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائر ہو رہے ہیں۔ عمران خان نے اپنے فیصل آباد والے جلسے میں بیان دیا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری اپنی مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں جبکہ وہ یعنی عمران خان چاہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کے تقرر میں ذاتی پسند کے بجائے سنیارٹی کا خیال رکھا جائے، عمران خان اور میاں شہباز شریف آرمی چیف کی تعیناتی پر ہر اس طریقہ کار کے قائل ہیں جس سے ان کی حکومت چلتی رہے۔ اداروں کی مضبوطی اور انتشار سے بچانے کے لیے ضروری ہے آرمی چیف کی تعیناتی سنیارٹی پر ہو، ہمارے جو حکمران آئے سب کے ہاتھ کرپشن سے رنگے ہوئے ہیں ان کی مرضی ایک ایسے ادارے پر ٹھونسنا ملک کے دفاع کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ چونکہ عرفان صدیقی میاں شہباز شریف کے مقلد ہیں اس لیے وہ یہ چاہتے میں انہیں اپنی مرضی کا آرمی چیف نامزد کرنا چاہیے تاکہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم بن سکیں اس لیے انہیں سراج الحق کے بیان ’’سنیارٹی پر آرمی چیف کی تعیناتی‘‘ نے بے چین کیا اور حقائق کو پس پشت ڈال کر اپنی بے چینیوں کا اظہار کیا جو آئین کے متزاد ہے۔
پاکستان فوج کو بھی یہ چاہیے کہ وہ خود ایک نظام مرتب کرے جس میں پرموشن کا نظام سنیارٹی کی بنیاد پر ہو نہ کی کسی جونیئر کو سینئر پر حکمرانی کے لیے بٹھا دیا جائے اس سے ادارہ مضبوط ہوگا۔