پاکستانی معیشت کی دردناک تصویر

321

ایف بی آر کے سابق چیرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر چھے سو بلین ڈالر بنگلا دیش کے چالیس بلین ڈالر، ویت نام کے چار سوبلین ڈالرجبکہ پاکستان کے آٹھ بلین ڈالر ہیں اور اس میں بھی بڑا حصہ پرائیویٹ سیکٹر کا ہے۔ ان کے مطابق اس عالم میں بھی پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ آرمی چیف کا تقرر، توشہ خانہ اور اسلامک بینکنگ ہے ہم کس حد تک ذہنی طور پر کرپٹ ہو چکے ہیں۔ شبر زیدی کا کہنا ہے کہ بالادست طبقات نے لوگوں کو معاشی معاملات سے ہٹا کر ثانوی نعروں کے پیچھے لگا رہا ہے۔ شبر زیدی گزشتہ حکومت میں اپنی ذمے داریوں کے دوران ملک کے معاشی مرض کو قریب سے دیکھ چکے ہیں انہیں اس مرض کی وجوہات کا بھی اندازہ ہوا ہوگا۔ آخر کوئی تو ہے جو اس ملک کے معاشی اونٹ کی کوئی کل سیدھی نہیں ہونے دیتا۔ چند دہائیوں سے جس طرح ملک کی معیشت فضا میں انجن فیل ہونے والے جہاز کی طرح زمین پر آگری ہے اس کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔ چند عشروں میں پاکستان کے قرب وجوار کے ممالک کہاں سے کہاں پہنچ گئے مگر پاکستان مسلسل زوال کی راہوں پر لڑھکتا چلا گیا۔ جس کے نتیجے آج حالات اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جس کی منظر کشی شبر زیدی نے کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی معیشت کا زوال ایک دوسال کا نہیں بلکہ جنرل ضیاء الحق کے دور کے بعد پاکستانی معیشت کے ڈھانچے نے لرزنا شروع کر دیا تھا۔ اس پورے عرصے میں پاکستانی معیشت کو سنبھالنے کی دیرپا کوشش کہیں نظر نہیں آتی۔ حکومتوں نے طویل المیعاد منصوبہ بندی کے بجائے دن گزارنے کی پالیسی کو اپنا شعار بنا ئے رکھا اس سے دن تو گزرتے گئے مگر ہر نیا سورج بد سے بد تر کا پیغام لے کر طلوع ہوتا رہا۔ اس عرصے میں سیاسی حکومتیں بھی رہیں اور فوجی حکومتیں اور دونوں کا ملغوبہ بھی کارِ حکومت چلاتا رہا مگر پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس عرصے میں ایک دلخراش حقیقت یہ سامنے آئی کہ پاکستان میں افراد کا ایک کلب معاشی طور پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا اور ملک کنگال اور غریب ہوکر رہ گیا۔ اس ملک کے اقتدار کی راہداریوں سے جس کا گزر ہوا وہ پتھر بھی اس پارس کو چھُو کر سونا بن گیا۔ حکمران، فیصلہ ساز اور ایلیٹ کلاس کی دولت آفشور کمپنیوں، بیرونی جائدادوں پلازوں، محلات، فارم ہاوسز کاروباری مراکز کی صورت سات براعظموں پر پھیل گئی مگر مملکت خداد پاکستان، نظریے کی بنیاد پر قائم ہونے والی پہلی اسلامی ریاست اور دنیا کے ساتویں ایٹمی طاقت کی معیشت بیمار اور لاغر مریض کی شکل اختیار کر گئی اور آج عالم یہ ہے کہ اس کے پاس آٹھ بلین ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر باقی رہ گئے ہیں اس میں کچھ دوست ملکوںکا ایسا اُدھار بھی شامل ہے جسے ہم نے صرف تبرک کے طور سنبھال رکھا ہے جسے استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز صورت حال اور کیا ہو سکتی ہے؟۔
ملک کی معیشت آکسیجن ٹینٹ پر جاچکی ہے۔ تنفس کا نظام اُدھار کی سانسوں سے چل رہا ہے مگر حکمران طبقات اپنی عیاشیاں چھوڑنے کو تیار نہیں۔ اس عالم میں بھی معیشت کے بجائے ثانوی معاملات اور موضوعات پر توانائیاں صرف ہو رہی ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ سوویت یونین کے انجام سے بھی سبق نہیں سیکھا گیا۔ سوویت یونین کے اسلحہ خانے دنیا کے مہلک اور جدید ترین ہتھیاروں سے بھرے پڑے تھے مگر اس کے لوگوں کے پاس ڈبل روٹی خریدنے کے پیسے نہیں تھے اگر کسی کے پاس روبل تھے بھی تو بازار میں ڈبل روٹی اور اشیائے خورو نوش ناپید تھیں۔ لڑاکا جہاز ایٹمی وار ہیڈ سے لیس جدید میزائل اور مستعد وچوکس سرخ فوج، دیوہیکل ٹینک کچھ بھی سوویت یونین کو بکھرنے سے نہ بچا سکا۔ سوویت یونین کے اس انجام کے ساتھ ہی اہل نظر نے پاکستان میں معاشی خطرات سے خبردار کرتے ہوئے اس سے چیلنج سے نمٹنے کی ٹھوس منصوبہ بندی پر زور دینا شروع کیا تھا۔ نوے کی پوری دہائی میں پاکستانی اخبارات سوویت یونین کی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں مگر مجال ہے کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ جس ملک کے بالادست طبقات کی دولت دن دگنی رات چوگنی ترقی کرکے اس ملک کی معیشت کو وینٹی لیٹر تک پہنچنا قطعی ناقابل فہم نہیں ہونا چاہیے۔
زوال کے اس تاریخی اور تدریجی سفر کو دیکھیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کو ہانکا لگا کر اس مقام تک لایا گیا ہے۔ اسی لیے اس ملک میں احتساب کے اداروں کو مضبوط اور منظم نہیں ہونے دیا گیا۔ اب بھی وقت ہے کہ زوال کے اس سفر کو روکنے کی منصوبہ بندی اور شیرازہ بندی کی جائے۔