دیوالیہ پن کا شکار قیادت اور معیشت

854

ملک سیاسی، سماجی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔ سیاسی و عسکری قیادتیں اپنے اپنے مسائل میں گھری ہوئی ہیں اور عام آدمی کی زندگی مشکل ترین ہوتی جارہی ہے۔ معاشی حالات تیزی سے تنزل کا شکار ہورہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ مہنگائی کا دبائو توقع سے زیادہ اور مسلسل ثابت ہوا ہے، اور مہنگائی اگلے سال بھی رہے گی۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سود 15 سے بڑھا کر 16 فی صد کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا بتایا ہے کہ مہنگائی پائیدار نہ ہوجائے، مالی استحکام کو درپیش خطرات قابو میں رہیں۔ ماہرین اعداد و شمار کی روشنی میں بتا رہے ہیں کہ مہنگائی 50سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر 30.16 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح کا مرکزی انڈیکس پہلے ہی 26 فی صد سے زیادہ ہے، مزید ٹیکس کے نفاذ کی باتیں ہورہی ہیں جس سے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کی زندگی مزید اجیرن ہوجائے گی۔ اس وقت پاکستان میں غربت کا تخمینہ 50 فی صد ہے۔ دوسری طرف پٹرولیم ڈویژن نے خبردار کردیا ہے کہ اگر موجودہ صورت حال میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو ملک میں ڈیزل کے ذخائر دسمبر کے اواخر تک ختم ہوجائیں گے۔ حکومت نے بحران کو ٹالنے کے لیے اسٹیٹ بینک سے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے فنڈ کا تقاضا کیا، جبکہ مرکزی بینک نے زرمبادلہ کے تیزی سے کم ہوتے ہوئے ذخائر کے پیش نظر 40کروڑ ڈالر مالیت کا فنڈ مختص کرنے یا تیل کی درآمدات کے لیے ایڈوانس ادائیگیاں کرنے سے معذوری ظاہر کردی ہے۔ مالیاتی امور کے ماہرین پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے بارے میں خدشات کا اظہار ایک بار پھر کررہے ہیں، پاکستان کو دنیا کے اْن سات ملکوں کی فہرست میں رکھ لیا گیا ہے جو اس وقت کرنسی کے خطرناک بحران سے دوچار ہیں۔ اس وقت یہ باتیں اس لیے بھی سامنے آرہی ہیں کہ پاکستان کو آئندہ ماہ یعنی دسمبر کی 5 تاریخ کو ایک ارب ڈالر کے یورو بانڈز کی ادائیگی کرنی ہے جو پانچ سال پہلے بین الاقوامی مارکیٹ سے قرض اٹھانے کے لیے جاری کیے گئے تھے، لیکن وفاقی وزیر خزانہ نے ان خبروں کو مسترد کیا ہے۔ یہ پاکستان کی معیشت کا بدترین منظرنامہ ہے جو ہماری سیاسی و عسکری قیادتوں کی وجہ سے وطن ِ عزیز کے ہر عام آدمی کو دیکھنا پڑ رہا ہے۔ تلخ حقیقت یہی ہے کہ ہم اِس وقت وینٹی لیٹر پر ہیں، ملک دیوالیہ ہونے کو ہے، اور اگر یہ کسی عالمی ایجنڈے اور ضرورت کے تحت دیوالیہ نہ بھی ہو تو جس طرح ہم مکمل قرض پر چل رہے ہیں اس کے پیش نظر وینٹی لیٹر سے باہر آنے کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آرہے ہیں۔ پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت کے پاس بھی صورتِ حال کو قابو کرنے کی صلاحیت نہیں۔ ہر سطح پر صرف باتیں اور ٹی وی ٹاک شوز کی سیاست ہے۔ سابقہ حکومتیں ہوں یا موجودہ حکومت… کسی کے پاس بھی سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے خاتمے کی کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ ہم حکمرانوں کی نااہلی اور مخصوص عالمی ایجنڈے کے تحت کھائی میں گرتے چلے جارہے ہیں۔ ایٹمی پاکستان کے خلاف دشمن، سیاست اور معیشت ہر ہر شعبے میں اپنا کھیل کھیل رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود پاکستان کے عوام بھوک، فاقہ کشی، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے عذابوں کا شکار ہیں۔ بدقسمتی سے اخلاقی و سیاسی دیوالیہ پن کا شکار قیادت میں ایک بھی رجل ِ رشید نظر نہیں آتا جو اس سنگین صورتِ حال کو قابو کرسکے اور درست سمت میں سفر شروع ہوسکے۔