انور ابراہیم، ملائشیا کے نئے وزیراعظم

238

ملائشیا کے شاہی محل سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شہنشاہِ معظم علی سلطان عبداللہ احمد شاہ نے انور ابراہیم کو ملائشیا کا نیا وزیراعظم مقرر کردیا ہے۔ ملائشیا میں صدارتی اختیارات بادشاہ کے پاس ہیں۔ انور ابراہیم نے سطان احمد شاہ کے سامنے قومی محل میں حلف اٹھاکر جمعہ سے کام شروع کردیا۔ داتو سری حاجی انور بن ابراہیم ملک کے دسویں وزیراعظم ہیں۔ انور ابراہیم کے اتحادِ امید یا Pakatan Harapan (PH) نے انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کرلی، لیکن یہ اتحاد حکومت سازی کے لیے مطلوبہ 112 نشستیں جیتنے میں ناکام رہا، جبکہ اس کے حریف سابق وزیراعظم محی الدین یاسین کے قومی محاذ یا Perikatan Nasional (PN) نے 73 نشستیں حاصل کیں۔ انور ابراہیم نے امنو کے قومی اتحاد، BN اور صوبہ سراوک کی علاقائی جماعت GPS سے شراکت ِ اقتدار کا معاہدہ کرکے قومی اسمبلی میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرلی۔ ان انتخابات میں انور ابراہیم کی صاحب زادی نورالعزّت کو ’’پاس‘‘ کے اْمیدوار کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نورالعزّت صاحبہ اس نشست پر کئی بار رکنِ اسمبلی منتخب ہوچکی تھیں۔ ملائشیا میں اسلامی تحریک پاس (PAS)، سابق وزیراعظم کی PN، جبکہ بائیں بازو کی سیکولر ڈیموکریٹک ایکشن پارٹی (DAP) انور ابراہیم کے PH اتحاد کا حصہ تھیں۔ ان دونوں جماعتوں نے اتحاد میں رہتے ہوئے اپنے اپنے جھنڈے، نعرے اور نشان پر حصہ لیا۔ مہاتیر محمد کا اتحاد کوئی نشست حاصل نہ کرسکا اور وہ خود بھی انتخاب ہار گئے۔ وہ کیدہ صوبے میں لنکاوی کی اس نشست پر 1969ء سے کامیاب ہوتے چلے آئے ہیں۔ اِس بار یہاں سے مہاتیر محمد کو صرف 6.8فی صد ووٹ ملے اور ان کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ اسی نشست پر 2018ء میں انہوں 55 فی صد ووٹ لیے تھے۔ اس بدترین ناکامی سے 97 سالہ مہاتیر محمد کا 73 سالہ سیاسی کیریئر ختم ہوگیا۔ وہ ملائشیا کے مقبول ترین رہنما تھے جو گزشتہ پانچ دہائیوں سے ملکی سیاست پر حاوی تھے۔ اس دوران ملائشیا کئی عشروں سے عدم استحکام کا شکار رہا، اور اس انتخاب کے بعد کہا جارہا ہے اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اب استحکام کی طرف سفر شروع ہونے کے امکانات ہیں۔ مہاتیر محمد کے ایک دور میں ملائشیا نے خاصی ترقی کی ہے اور وہ ایک بڑی معاشی قوت کے طور پر سامنے آیا ہے، لیکن اس سفر میں انور ابراہیم کا اہم کردار رہا ہے، کیونکہ وہ ملک کے وزیر ِ خزانہ اور نائب وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں، اور اِس مرتبہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم اس ایشو پر ہی چلائی ہے کہ وہ جنوب مشرقی ایشیا کی تیسری بڑی معیشت میں کرپشن کے خلاف جنگ لڑیں گے اور ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔ انور ابراہیم کے دس سال ایک غلط الزام کے تحت جیل میں بھی گزرے ہیں۔ وہ حزبِ اختلاف کے مضبوط رہنما تھے، کہا جاتا تھا کہ وہ واحدآدمی ہیں جو حکومتی اتحاد کے تسلط کو توڑ سکتے ہیں۔ پھر انہوں نے استقامت کے ساتھ ایسا کردکھایا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اخوان اور جماعت اسلامی کی فکر سے متاثر رہے ہیں اور ماضی میں طلبہ تحریک میں خاصے متحرک رہے، انہوں نے ہی طلبہ تنظیم ’’ملائی نوجوانانِ اسلام‘‘ کی بنیاد رکھی تھی۔خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ملائشیا کے نئے وزیر اعظم انور ابراہیم کو حلف اٹھانے پر مبارک باد دی ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے بھی دلی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں دوست ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اْن کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اْن کی قیادت میں برادر اسلامی ملک مزید استحکام اور ترقی کا سفر طے کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو امت کو درپیش چیلنجزسے نبرد آزما ہوسکے۔