قطر کا فیفا ورلڈکپ اور مثبت اقدامات، افروز عنایت

200

آج کل ہر جگہ قطر میں منعقد بین الاقوامی فٹ بال ٹورنامنٹ کے چرچے عام ہیں، اس ٹورنامنٹ کا انعقاد قطر کے لیے ایک اعزاز ہی نہیں بلکہ اس سلسلے میں حکومت قطر کی طرف سے مثبت احکامات و اقدامات کا جاری کرنا اور اس پر عمل پیرا ہونا بھی اس اسلامی ملک کے لیے اعزاز اور اسلامی ریاست ہونے کا ثبوت ہے۔ اس فٹ بال ٹورنامنٹ کے لیے قطر میں گزشتہ چندبرس سے بڑے جوش و خروش سے تیاریاں ہورہی تھیں اور سرمایہ خرچ کیا جارہا تھا۔ اس ٹورنامنٹ کو دنیا کا سب سے مہنگا ٹورنامنٹ کہا جارہا ہے۔

اسلامی ریاست قطر گرچہ ایک جھوٹا ملک ہے لیکن وسائل سے مالا مال پرامن اور پرسکون ملک ہے، جہاں مکمل طور پر قانون کی بالادستی ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے پرامن و پرسکون ممالک میں قطر سرفہرست ہے۔ اس وقت بھی قطر حکومت نے امن و امان کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں بلکہ اسلامی ریاست ہونے کا حق بھی ادا کیا ہے جو اہل اسلام کے لیے قابل تحسین بات ہے، ویسے تو اس ملک میں غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے جو مختلف مذاہب و مختلف ممالک سے تعلق رکھتی ہے لیکن ان کے لیے بھی حدود متعین کردی گئی ہیں جس کی وجہ سے کہیں بھی عریانی یا گندگی نظر نہیں آتی۔

اس موقع پر اسلامی تعلیمات کی حدود میں اس چیز کا خاص خیال رکھا گیا ہے جس کے لیے عالمی اور سوشل میڈیا پر اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے، لیکن بحیثیت مسلمان ہم اس کی تائید و تعریف کرتے ہیں۔

حکومت قطر نے کھلے عام شراب، ہم جنس پرستی، عریاں لباس و بے ہودہ عمل کو سر کرنے پر سختی سے پابندی عائد کی ہے اور سب سے بڑی خوش آئند اور قابل تحسین بات جس کے آج کل چرچے ہیں جو عالم اسلام کے لیے فخر کی بات ہے کہ اس موقع پر تبلیغ اسلام کی راہیں بھی کھول دی گئی ہیں، جی ہاں دنیا بھر سے اسلام کے مبلغ اور علما کرام کوبھی مدعو کیا گیا ہے، جو مختلف زبانوں میں تبلیغ اسلام کا فریضہ بھی انجام دیں گے، مقامی علما کرام بھی ان کے ساتھ اس میں شامل ہوں گے۔

مساجد میں خوب صورت آواز والے مؤذن مقرر کیے گئے ہیں، چاروں طرف ’’اللہ اکبر‘‘ کی خوب صورت بلند آوازیں جب قطر میں پانچ وقت گونجیں گی تو ضرور پتھر دلوں کو بھی موم کردیں گی ان شا اللہ… پھر اسٹیڈیم میں بھی نماز کے لیے خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ ویسے بھی قطر میں چاہے تفریح مقام ہو یا بازار، اسپتال، تعلیمی ادارے ہر جگہ پانچ وقت بلکہ ہر وقت نماز کے لیے خصوصی انتظامات نظر آتے ہیں کیونکہ میرا قطر آنا جانا رہتا ہے، اس لیے مجھے اس چیز نے بہت متاثر کیا کہ گھر سے باہر بھی کبھی میری نماز قضا نہیں ہوئی اور اس قدر اعلیٰ انتظامات کہ اس کی تعریف نہ کرنا انانصافی کے مترادف ہوگا۔

صاف ستھرے وضو خانے اور صفائی ستھرائی کے لیے جو بیس گھنٹے عملے کا موجود رہنا قابل تعریف ہے۔ امن و امان کی صورت حال یہ کہ بے خطر سونے کے زیورات سے لدی عورت کی طرف بھی کوئی نظر اٹھاکر نہ دیکھے، ماشاء اللہ اس وقت بھی کثیر تعداد میں غیر ممالک سے شائقین قطر میں موجود ہیں جہاں ان کے رہنے سہنے کے لیے عمدہ انتظامات ہیں۔ جدید نئے شہر میں ہوٹل، آمدورفت کے انتظامات، تفریح مقامات کا خوب صورت و دلکش انتظام کیا گیا ہے کہ بے اختیار زبان سے تعریفی الفاظ نکلتے ہیں، پھر سب سے بڑی اہم بات امن و امان کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں کہ آنے والے غیر ملکیوں اور مقامی لوگوں کو کوئی دشواری پیش نہ آئے، ویسے عام دنوں میں بھی امن و امان کے لیے سخت اقدامات کیے جاتے ہیں کہ رات کو بھی بے خطر آرام سے سفر کیا جاسکتا ہے۔

سڑکوں پر رش، ٹریفک کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل سڑکیں استعمال کرنے کی ہدایت کے لیے جگہ جگہ بڑے بڑے سائن بورڈز اور ہدایت نامے لگائے گئے ہیں تاکہ شہریوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے، گرچہ ان متبادل راستوں میں رش دیکھا جاسکتا ہے، لیکن اس طرح انتظامات کیے گئے ہیں کہ کسی قسم کی بدمزگی نہ پیدا ہو اور شائقین کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قطر نے اس ٹورنامنٹ کے انعقاد کے سلسلے میں ایک جامعہ اور منظم لائحہ عمل تیار کیا ہے اور سب سے متاثر کن پہلو جو عالم اسلام اور قطر کے لیے باعث فخر ہے تبلیغ اسلام کے لیے بھرپور کوشش کی گئی ہے جس کا عام طور پر اسلامی ممالک میں بہت کم خیال رکھا جاتا ہے،

اکثر ہم یہود و نصاریٰ کی خوشنودگی کے لیے اس بہت خاص اور اہم بات کو نظر انداز کردیتے ہیں لیکن قطر نے بلاخوف و خطر اس کے لیے جو مثبت اقدامات جاری کیے ہیں وہ تمام اسلامی ممالک کے لیے اعلیٰ مثال ہے، یعنی تبلیغ دین اور اشاعت قرآنی کے لیے جگہ جگہ راستے کھولے گئے ہیں، ہر جگہ آتے جاتے اسلامی احکامات آیات قرآنی کو ہر زبان میں روشناس کرانے کی کوشش کی گئی ہے، غرض کہ یہ ٹورنامنٹ نہ صرف قطر کی معیشت کے استحکام کے لیے بلکہ ترویج و تبلیغ دین کے لیے بھی راہیں ہموار کرے گا، انشاء اللہ اور تمام عالم اسلام کو بھی اس مثبت سوچ و عمل کا حامی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، انشاء اللہ، اور اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کے ساتھ ہم سب کی یہ بھی دعا ہے کہ تمام عالم اسلام کو اسی سوچ کا حامل بنائے کہ وہ ہر موقع پر اسلام کو سرفہرست رکھے اور یہود و نصاریٰ کی خوشنودگی کے چکر سے نکالے، آمین۔