عمران خان کا صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ اعتراف شکست ہے،رانا ثنا اللہ

200
عمران خان کا صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ اعتراف شکست ہے،رانا ثنا اللہ

لاہور: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ اعتراف شکست ہے،عمران خان سسٹم سے باہر ہوں گے تو سیاسی استحکام آئے گا، عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کے وسائل استعمال کئے، اگر راولپنڈی میں تحریک انصاف 5،10 لاکھ لوگ لاتی تو یہ اسلام آباد کی طرف ضرور آتے، جلسے میں لوگ نہیں آئے تو عمران خان نے اسلام آباد نہ جانے کا اعلان کیا

۔ہفتہ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے اسمبلیوں سے باہر آنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ یہ ان کا اعتراف شکست ہے لیکن پنجاب میں اتنے لوگ موجود ہیں کہ حکومت بن سکتی ہے۔

یہ خیبرپختونخوا حکومتوں سے نکلے گا تو حقیقت سامنے آئے گی، لیکن لگتا ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ نہیں کر سکے گا، پنجاب کی حد تک نہیں کرے گا۔

نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ یہ اعتراف شکست ہے، جو انہوں نے پچھلے 7 ماہ سے ایک دبا اور بلیک میلنگ اور کشیدگی اور طاقت کے ذریعے حکومت گرانے کی حکمت عملی دکھائی تھی اس میں بری طرح ناکام ہوئے۔

یہ عوام کا سمندر لانا چاہتے تھے، جس پی ٹی آئی ناکام ہوئی، جتنے لوگ جمع ہوئے تھے اس سے زیادہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگ کھڑے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جس کے لیے انہوں نے اپنے لوگوں کو تیار کرنے کی کوشش کی اس میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ قومی اسمبلی سے وہ پہلے ہی باہر ہیں اور پنجاب اسمبلی میں اتنے لوگ موجود ہیں حکومت بن سکتی لیکن خیبرپختونخوا میں دوبارہ انتخابات ہوسکتے ہیں۔

20 فیصد لوگ ریکوزیشن جمع کرائیں تو اسمبلی تحلیل نہیں ہوسکتی اور پنجاب میں تیار ہے جو جمع ہوسکتی ہے اور خیبرپختونخوا میں بھی جمع ہوگی۔

ابھی تو انہوں نے اجلاس کرنا ہے اور پارلیمنٹیرینز سے ملاقات کرنے ہیں تو کیا اپوزیشن بیٹھی رہے گی۔ جب اس کے پاس کوئی بات نہیں رہی تو یہ اعلان کیا ہے اور میرا نہیں خیال کہ مشورے میں کوئی فائدہ ہو، پنجاب میں تو نہیں ہوگا لیکن خیبرپختونخوا میں شاید ہوسکتا ہے۔

حکومت کی حکمت عملی سے حوالے سے سوال پر رانا نثا اللہ نے کہا کہ یہ آدمی ملک کی سیاست میں اس طرح کی حماقتیں کرتا رہے گا، ان کو اسمبلیوں سے نکلنا چاہیے اور انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں۔

پچھلے اتنے مہینوں میں ملک کو مشکل میں ڈال کر بیٹھا تھا اور یہ فیصلہ نہیں کیا کیونکہ ان کی صوبے میں ان کی حکومت تھی اور اس جلسے میں حکومتی وسائل استعمال ہوئے۔

اگر صوبوں میں ان کی حکومت نہ ہوتی تو یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ اگر آج 10 لاکھ لوگ جمع ہوتے تو اس کا یہ فیصلہ نہیں ہوتا لیکن عوام کم تھے اس لیے یہ اعلان کیا اور پچھلے چند ماہ سے سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان آدمی سیاست سے باہر ہوگا تو نظام میں استحکام آئے گا اور مقبولیت کا پروپیگنڈا بھی باہر آئے گا، پنجاب کے حوالے سے مجھے معلوم ہے، اسی طرح بلوچستان اور سندھ میں بھی یہ ناکام ہوگا تاہم خیبرپختونخوا میں پی ڈی ایم اس سے مقابلہ کرے گی۔ اس کے ساتھ کیا مذاکرات کریں کیونکہ یہ کہتا ہے مخالف سیاست دانوں سے بات کرنے کے بجائے مرنے کو ترجیح دوں گا تو قوم کو ادراک کرنا چاہیے یہ احمق انسان ہے اس لیے اس کو نظام سے باہر کریں کیونکہ نظام میں چلنے کا اس کا رویہ نہیں ہے۔

یہ اپنے ہر فیصلے سے ایکسپوز ہوگا اور قانونی طریقہ کار کے بارے میں یہ بات کرتا ہے تو پچھلے ساڑھے تین سال میں کون سا نظام بنایا اور کرپشن کا یہ حال ہے کہ توشہ خانہ کا ایک تحفہ نہیں چھوڑا اور ایک تائیکوں کو اربوں کا فائدہ پہنچایا۔ یہ دونوں حکومتوں سے نکلے گا تو حقیقت سامنے آئے گی لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ نہیں کر سکے گا، پنجاب کی حد تک نہیں کرے گا۔