کارکنان بلدیاتی انتخابی مہم کو تیز اور گھر گھر رابطے کریں ،حافظ نعیم الرحمن

199

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے 15جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں کارکنان کو ہدایات دیتے ہوئے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کی مہم کو تیز کریں،نچلی سطح پر عوامی رابطے کر یں اوربلاک کوڈکی سطح پر گھر گھر جاکر، ووٹر لسٹوں کوایک بار پھرسے ترتیب دے کر بلدیاتی کارڈز تقسیم کریں۔

جماعت اسلامی ضلع قائدین کے تحت ادارہ نور حق میں بلدیاتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات ”حق دو کراچی کو تحریک“کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔جماعت اسلامی انتخابی مہم کے ساتھ میئر کو بااختیار کرنے اور اہل کراچی کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے بھی جدوجہد کرے گی۔کارکنان عزم و حوصلے اور پورے اطمینان کے ساتھ میدان عمل میں موجود ہیں۔جماعت اسلامی ایک بارپھر سے کراچی میں تعمیر وترقی کا سفر وہیں سے شروع کرے گی جہاں سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے چھوڑاتھا۔

کنونشن سے نائب امیرکراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، امیر ضلع قائدین سیف الدین ایڈووکیٹ،سیکرٹری ضلع قائدین ولید احمد ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں جماعت اسلامی کے سابق پارلیمانی لیڈر جنید مکاتی، نائب امیر ضلع نصیر اللہ حسینی، فاروق احمدمیمن، نعمان حمید ودیگر بھی موجود تھے۔ کنونشن میں حافظ نعیم الرحمٰن نے ضلع قائدین میں جماعت اسلامی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات میں نامزد امیدواروں اورذمے داران سے تیاریوں اور رابطوں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے مزیدکہاکہ جماعت اسلامی نے مسلسل بلدیاتی انتخابات کے التوا کے باوجود حتمی تاریخ کا اعلان کرنے پر مجبور کیا ہے۔ جماعت اسلامی کی لیگل ایڈ کمیٹی اور الیکشن سیل کی جانب سے الیکشن کمیشن کومسلسل خطوط جاری ہوتے رہے اور عدالت میں پٹیشن بھی دائر کی گئی ہے اور اب ہر صورت انتخابات ہوں گے۔عوام جان چکے ہیں کہ شہر میں سوائے جماعت اسلامی کے کوئی بھی پارٹی الیکشن نہیں چاہتی۔پلس کنسلٹنٹ حالیہ کے سروے کے مطابق کراچی میں جماعت اسلامی نمبر ایک پر موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کی طویل جدوجہد، دھرنے، مظاہرے اور عوامی مسائل کی جدوجہد کے نتیجے میں پورے ملک کی فضا الگ اور کراچی کی فضا بالکل الگ ہے۔ شہر کے حالات بدل چکے ہیں، عوام میں بہت بڑا پوٹینشل موجود ہے۔شہری چاہتے ہیں کہ بلدیاتی حکومت جماعت اسلامی کی ہو تاکہ شہر کے مسائل حل ہوسکے۔کارکنان اپنے اجتماع کو عوامی اجتماع بنائیں، نظریاتی اور دعوتی گفتگو کے ساتھ ساتھ محلے کی سطح کے عوامی مسائل کی بات بھی کریں۔

امیر جماعت کا کہنا تھا کہ جو افراد اجتماع میں شریک نہیں ہوسکتے انہیں کسی اور طریقے سے اپنا ہمنوا بنائیں۔ ایسے بہت سے افراد کراچی میں موجود ہیں جوجماعت اسلامی کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہاکہ کراچی کے عوام کا جماعت اسلامی کی جانب رجوع مسلسل بڑھ رہا ہے اور عوام نے ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سمیت سب کو مسترد کردیا ہے۔

اسامہ رضی کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی پر جماعت اسلامی کے29روزہ تاریخی کراچی دھرنے نے ساڑھے 3 کروڑ عوام کی ترجمانی کا حق ادا کیا اور یہ ثابت کیا کہ صرف جماعت اسلامی ہی واحد جماعت ہے جو کراچی کو اون کرتی ہے اور جماعت اسلامی ہی عوام کے گھمبیر مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ماضی میں عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کے دور میں عوامی خدمت، فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کے جو منصوبے اور پروجیکٹ مکمل کیے گئے وہ کسی اور دور میں نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو آئندہ بھی موقع ملا تو ہم عوامی خدمت کریں گے، مسائل حل کرائیں گے اور شہر کراچی کو کو تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے، کراچی کا مستقبل صرف اور صرف جماعت اسلامی سے ہی وابستہ ہے اور جماعت اسلامی اہل کراچی کو ہرگز مایوس نہیں کرے گی۔

سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہاکہ جماعت اسلامی کے کارکنان نے شہر میں ایسے حالات میں بھی کام کیا جب کام کرنا بہت مشکل تھا، کارکنان نے شدید اذیتیں برداشت کیں اور کئی کارکنان شہید بھی ہوئے۔ آج کراچی کے حالات پر امن ہیں، عوام کی جانب سے جماعت اسلامی کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے، یہ جماعت اسلامی کے کارکنان کی محنت کا نتیجہ ہے، قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔