پولیس والوں کو اغوا کار سمجھا، جان بچانے کیلیے گولی چلائی، مفرور ملزم

289

کراچی: ڈیفنس فیز 5 میں فائرنگ کرکے شاہین فورس کے اہلکار کو قتل کرکے بیرون ملک فرار ہونے والے ملزم نے وضاحتی ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ پولیس اہلکار پولیس وردی میں نہیں تھے، انہیں اغواکار سمجھ کر فائرنگ کی۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈیفنس فیز5 میں پانچ روز قبل فائرنگ کرکے شاہین فورس کے اہلکارعبدالرحمان کو قتل کرکے بیرون ملک فرار ہونے والے ملزم خرم نثارکا وضاحتی ویڈیو بیان سامنے آگیا۔ویڈیو بیان میں مفرور ملزم کا کہنا ہے کہ میرا سالہ واقعے کے حوالے سے لاعلم تھا۔ سالے کو علم نہیں تھا کہ بات اتنی بڑھ گئی ہے۔ میں نے اپنے سالے کی مدد سے سفری دستاویزات گھر سے منگوائے تھے جو کہ ایک عام سی بات تھی۔سالے کو میں کہا تھا کہ میری لڑائی ہوئی ہے اور کوئی بڑی بات نہیں ہے، میں جلد جا رہا ہوں ویسے مجھے جانا ہی تھا۔

خرم نثار نے کہا کہ عبداللہ شاہ غازی مزار کے قریب جو کچھ میرے ساتھ ہوا مجھ پر الزام لگائے گئے۔ایک الزم یہ ہے کہ میری گاڑی میں اسلحہ موجود تھا، کیا پولیس اہلکاروں کو میری گن نظر آرہی تھی؟ دوسرا الزام مجھ پر اغوا کا لگایا گیا کہ بوٹ بیسن سے میں نے کسی لڑکی کواغوا کیا۔پہلی بات ہے کہ میں بوٹ بیسن گیا ہی نہیں، راستے میں 100 سے 200 کیمرے لگے ہوں گے، کیمروں میں میری ایک بھی تصویر دکھا دی جائے۔

مفرور ملزم خرم نثار نے کہا کہ مجھے روکنے کا کام شاہین پولیس کے اہلکار کا نہیں تھا۔پولیس اہلکار پراپر یونیفارم میں بھی موجود نہیں تھا۔مجھے روکا گیا تو پولیس اہلکار کے ہاتھ میں گن تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ گاڑی کا گیٹ کھولو۔ پولیس اہلکار نے زور لگا کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور میں نے گاڑی کے شیشے نیچے کر کے پوچھا کون ہو تو جواب ملا پولیس والے ہیں۔میں نے اہلکار سے کہا اگر آپ پولیس والے ہو تو اپنا آئی ڈی کارڈ دکھاؤ۔ میں نے کہا اگر آپ اپنا کارڈ شو نہیں کراؤ گے تو میں آپ کو پولیس اہلکار نہیں سمجھوں گا۔پولیس اہلکار نے اسی وقت مجھ پر فائرنگ کرنے کی کوشش کی جس پر میں نے گاڑی تھوڑی سی آگے بڑھا دی اور کچھ فاصلے پر جا کر گاڑی روک دی۔ میری گاڑی میں لائسنس یافتہ گن موجود تھی جو میں پکڑ کر گاڑی کے باہر نکل کر کھڑا ہو گیا۔

مفرور ملزم کا ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ گاڑی کے باہر پولیس اہلکار میری اور میں ان کی ویڈیو بناتا رہا۔ میری ویڈیو صحیح بن نہیں پائی لیکن پولیس اہلکار کی ویڈیو بن گئی۔ میں نے پولیس اہلکار کو کہا کہ موبائل بلوالو کس تھانے جانا ہے میں چلتا ہوں۔پولیس اہلکار مجھے تھانے لے جانا نہیں چاہ رہے تھے۔ پولیس اہلکار جب تھانے جانے پر راضی ہو گئے تو راستے میں ایک پولیس اہلکار کہنے لگا تھانے کے بجائے کہیں اور جانا ہے۔ میں نے کہا تھانے جا کر مجھے یقین ہو جائے گا کہ تم پولیس اہلکار ہو لیکن اس نے میری بات نہیں مانی اور زبردستی دوسرے راستے لے گیا۔ راستے میں نے جیسے ہی یو ٹرن سے گاڑی موڑنا چاہی تو پولیس اہلکار نے گاڑی کا اسٹیرنگ پکڑ لیا اور گاڑی نیوٹرل کردی۔

ملزم نے کہا کہ جیسے ہی گاڑی نیوٹرل ہوئی میں گاڑی سے اترگیا تو پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ہم تجھے وہاں ضرور لے کر جائیں گے اور تیرے ساتھ بہت برا کریں گے۔ میں ڈر گیا میں نے کہا میں نہیں جاؤ ں گا۔ میری تھانے جانے کی بات ہوئی ہے۔پولیس اہلکار نے گاڑی کے اندر داخل ہو کرمجھ پر فائر کردیا لیکن پولیس اہلکار کی گولی نہیں چل سکی۔ گاڑی سے باہر نکل کر مجھے باتوں میں لگا کر پولیس اہلکار اپنے انگوٹھے سے پستول کا چیمبر صحیح کرنے لگا تاکہ دوبارہ مجھ پر فائرنگ کرسکے۔میں ڈر گیا تھا مجھے اپنے بیوی بچوں کی یاد آگئی، میں نے اپنے دفاع میں پولیس اہلکار پر فائرنگ کردی۔

مفرور ملزم کا کہنا ہے کہ میرا مقصد پولیس اہلکار کو مارنا نہیں بلکہ اپنی جان بچانی تھی میں نے کیا اپنی جان بچا کر گناہ کیا؟ میں اور کیا کرسکتا تھا؟ مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ اصلی پولیس اہلکار ہے بھی یا نہیں! مجھے مجبوراً گولی چلانا پڑی۔مجھے پولیس اہلکار کو مارنا ہوتا تو میں شروع میں ہی مار دیتا، جب شروع میں پولیس اہلکاروں نے زور سے گاڑی کا دروازہ کھولا تو میں سمجھا تھا کہ اغوا کار ہیں۔میں اپنے بوڑھے والدین سے ملنے آیا تھا اور اکثر آتا جاتا رہتا ہوں۔ میری گن لائسنس یافتہ ہے اور گزشتہ 18 سال سے میرے پاس ہے۔ میں نے 18 سال میں کبھی بھی گن کا غلط استعمال نہیں کیا۔ ورنہ میرا ریکارڈ نکل آتا۔ میں نے اپنی گن کا اپنی جان کی دفاع کے لیے استعمال کی۔