مافیاز، بلدیاتی الیکشن اور جماعت اسلامی

416

الیکشن کمیشن پاکستان نے سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کے لیے پندرہ جنوری سن دو ہزار تیئس کی تاریخ کا تعین کر ہی دیا۔ اس سے قبل عدالت عالیہ سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے لیے جماعت اسلامی کی درخواست کی سماعت کے موقع پر الیکشن رکوانے کے لیے پیپلز پارٹی اپنے بھونڈے دلائل اور بہانے بازیوں کے ساتھ موجود رہی اور اس کی مدد کے لیے ایم کیو ایم بھی حلقہ بندیوں میں بے قاعدگیوں کا جواز لیکر الیکشن ملتوی کروانے عدالت پہنچ گئی باوجود اس کے کہ ان حلقہ بندیوں کی تشکیل میں ایم کیو ایم بھی شامل رہی ہے۔ عدالت میں سابق مئیر وسیم اختر اور ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحق کو اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب معزز عدالت نے دونوں رہنماؤں کو جھاڑ پلادی اور ریمارکس دیے کہ ’’آپ تو الیکشن چاہتے ہی نہیں۔ آپ چاہتے ہیں پہلے آپ کے مسئلے حل ہوں پھر الیکشن کرائے جائیں‘‘۔ اس کے بعد اٹھارہ نومبر کو عدالت عالیہ سندھ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے شیڈول کا اعلان کرے جس کے بعد ہی الیکشن کمیشن پاکستان کے دفتر واقع اسلام آباد میں اس حوالے سے سماعت ہوئی اور چیف الیکشن کمیشن نے بھی حافظ نعیم الرحمن کے حوالے سے کہہ ہی دیا کہ ’’حافظ صاحب سب پر بھاری ہیں‘‘۔
پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور ماضی میں اس کی بدترین حریف اور آج کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم جو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر ہم آواز ہونے کے بعداب سندھ حکومت میں بھی پیپلز پارٹی کی شریک کار ہے اور کراچی کی ایڈمنسٹریٹر شپ حاصل کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ دونوں ہی جماعتیں سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے کسی صورت تیار نہیں اور تین دفعہ الیکشن کی تاریخ مقرر ہونے کے بعد مختلف بہانوں سے الیکشن ملتوی کرائے جا چکے ہیں۔ پہلے طوفانی بارشوں کو بہانہ بنایا، پھر اگلی دفعہ سیلاب زدگان کی ’’مدد میں مصروف‘‘ سندھ پولیس کی نفری نہ ہونے کا جواز گھڑا کہ ہم سمجھے شاید سندھ پولیس سیلاب زدگان کو نوالے بنا بنا کر کھلا رہی ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد میں لانگ مارچ روکنے کے لیے پولیس نفری کو بھیج دیا گیا اور کہا کہ نفری کی کمی کے باعث الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں۔
یوں تو الیکشن سے بھاگنے کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن ہم یہاں بات کریں گے کراچی پر قابض مختلف مافیاز کے حوالے سے جو کراچی اور سندھ کے وسائل اور عوام کو لوٹنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتیں۔ اگر تھوڑا ماضی میں جائیں تو بدقسمتی سے سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندگی کی دعویدار جماعت ہی نے قبضہ گیری، بھتا خوری، چائنا کٹنگ اور ناجائز دھندوں کی سرپرستی میں وہ نام کمایا ہے کہ کوئی اس کی ہم سری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
اگر آج کی بات کریں تو ڈھائی کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والے شہر کراچی کے زیادہ تر علاقوں کی عوام کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور وہ اپنی اس بنیادی ضرورت کے لیے واٹر ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہے جو عوام کی مجبوری کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اب اگر حکومت جو کئی سال گزرنے کے باوجود بھی نعمت اللہ خان کے پانی فراہمی کے لیے تجویز کردہ کے فور منصوبہ کی تکمیل کے لیے سنجیدہ نہیں تو یہ صورتحال کس جانب اشارہ کرتی ہے؟ سمجھدار کو اشارہ کافی ہوتا ہے۔ نعمت اللہ خان نے اپنے دور نظامت میں سو ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی کے منصوبے ’’کے تھری‘‘ کو مکمل کرنے کے فوراً بعد مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر چھے سو پچاس ملین گیلن یومیہ پانی فراہمی کا منصوبہ کے فور تیار کرلیا تھا جس کی لاگت کا تخمینہ اس وقت پچیس ارب روپے لگایا گیا تھا۔ اگر یہ منصوبہ مکمل ہوجاتا تو آج اہل کراچی پانی کے لیے نہ ترس رہے ہوتے اور پانی جیسی نعمت کے لیے ٹینکر مافیا کے محتاج نہ ہوتے۔ آج اس منصوبے کی تخمینی لاگت دو سو ارب سے تجاوز کرچکی ہے لیکن اب بھی اس کے شروع ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے۔ اس منصوبے کو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے دانستہ التوا کا شکار کیے رکھا ہے۔ کئی مرتبہ اس کا ڈیزائن تبدیل کرکے اس کی افادیت کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
آج کراچی کے عوام بجا طور پر نعمت اللہ خان کے دور کو یاد کرتے ہیں کہ انہوں نے شہر کو اٹھارہ فلائی اوور، چھے انڈر پاس، دو سگنل فری کوریڈورز، گرین لائن بس سروس، بتیس نئے کالج اور کئی کھیل کے میدانوں اور خوبصورت ماڈل پارکس کا تحفہ دیا تھا۔ اس کے بعد گزرے اٹھارہ سال میں کراچی کے انفرا اسٹرکچر کو صرف تباہی کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔ کھیل کے میدان چائنا کٹنگ کی نظر ہوگئے۔ ووٹ اور نوٹ کے لیے میدانوں کو پوری پوری آبادیوں میں تبدیل کردیا گیا۔ اور ان آبادیوں کو تمام اداروں سے منظور کرواکر بجلی، پانی، گیس اور ٹیلی فون کے کنکشن بھی دلوادیے گئے۔
پھر کئی پارکوں پر اس وقت کنکریٹ مافیا قابض ہے اور شہریوں میں سانس کی بیماریاں بانٹ کر ڈاکٹروں کی دکانداری چمکانے کے ساتھ ساتھ کرپٹ حکام کی جیبیں گرم کررہی اور اپنی تجوری بھرتی چلی جارہی ہے۔ اس مافیا کے خلاف بھی واحد آواز اٹھانے والا کراچی کا بیٹا حافظ نعیم ہی ہے۔ کس کس کا ذکر کیا جائے کہ اس شہر میں ٹرانسپورٹ مافیا، پتھارے مافیا، منرل واٹر مافیا سب ہی تو کارگزار ہیں اور کرپشن کا پہیہ زور شور سے گھوم رہا ہے اور اس کے خلاف جماعت اسلامی ہے جس نے حافظ صاحب کی قیادت میں ’’حق دو کراچی‘‘ تحریک اتنے بھرپور انداز میں چلا رکھی ہے کہ کراچی کے حقوق غصب کرنے والوں کو دانتوں پسینہ آرہا ہے اور انہیں کراچی اپنے پنجوں سے نکلتا محسوس کرکے یہ سارے دھندے بند ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔
ویسے ایک بات ہے! سندھ حکومت کو بھی اندازہ تھا کہ اتنا سب کرنے کے باوجود بھی شاید الیکشن کرانے ہی پڑیں گے۔ تبھی پورے شہر کی سڑکوں کو عجلت میں ادھیڑ کر الٹی سیدھی استر کاری کا کام بھرپور انداز میں جاری ہے لیکن یہ کاسمیٹکس سرجری الٹا حکومت کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر میں الیکٹرک بسوں کی آمد اور ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق کی جانب سے آئی ٹی سٹی منصوبے کا اعلان اپنی ڈوبتی نیا کو بچانے آخری کوششوں سے زیادہ کچھ نہیں۔
اب تو تمام غیر جانب دار سروے بھی اشارہ کررہے ہیں کہ کراچی کے مئیر کے لیے حافظ نعیم الرحمن سے زیادہ مضبوط امیدوار کوئی اور نہیں۔ بلکہ دور دور تک کوئی ان کا مدمقابل نہیں۔