تجربے پر تجربہ کیوں؟

371

سنا ہے کہ سب سے پہلے کسی عام سے گھرانے کے فرد نے شطرنج کا کھیل ایجاد کیا تھا۔ یہ کھیل اُسے اس درجہ اعلیٰ لگا کہ اُس نے اُس وقت کے باد شاہ کے سامنے اِسے رکھنے کا فیصلہ کیا۔ پہلی کامیابی بادشاہ تک رسائی تھی جو اُسے حاصل ہو گئی۔ اسے قائل کیا کہ یہ کھیل شاہوں ہی کے معیار کا ہے۔ ابتدائی تفصیل سننے کے بعد بادشاہ نے کہا کہ تم ایک نہایت بیوقوف انسان ہو کیونکہ یہ کھیل تو بہت ہی معمولی درجے کے کھلاڑیوں کے کھیلنے کا لگتا ہے لیکن جب وہ یہ کھیل بادشاہ کو سکھانے میں کامیاب ہو گیا تو ماننا پڑا کہ شطرنج کا یہ کھیل واقعی بہت ہی دلچسپ اور بادشاہوں کے معیار ہی کا ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ تم واقعی بہت ذہین ہو۔ بادشاہ نے خوش ہوکر اپنے وزیر خاص کو بلا کر کہا کہ اسے لے جاؤ اور انعام میں جو کچھ مانگے اسے عطا کردو۔ وزیر نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ سلامت کو بتاؤ کہ تمہیں کیا چاہیے۔ اُس غریب نے بادشاہ سلامت کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ کچھ اس طرح گزارش کی کہ ‘‘باد شاہ سلامت، میں بہت غریب انسان ہوں، نہ مجھے سونا چاندی یا اشرفیاں چاہئیں اور نہ خلعتیں، بس اپنے وزیر کو حکم دیں کہ بساط کے ان 64 خانوں کو چاولوں سے اس طرح بھر دے کہ پہلے خانے میں ایک چاول رکھے اور پھر ہر خانے میں ان کی تعداد دو گنا کرتا جائے یہاں تک کہ چونسٹھ کے چونسٹھ خانے پورے بھر جائیں۔ بادشاہ اس کی یہ فرمائش سن کر طیش میں آ گیا اور کہا کہ میں تو تجھے بہت ذہین سمجھتا تھا اور تو مجھ بادشاہ سے اتنی معمولی سی فرمائش بیان کر رہا ہے، پھر وزیر خاص سے نہایت ہتک آمیز انداز میں کہا جاؤ اسے یہاں سے لے جاؤ اور اس کی جھولی چاولوں سے بھر دو۔ کچھ گھنٹوں بعد وہی وزیر خاص اپنا سر پیٹتا بادشاہ سلامت کے پاس حاضر ہوا اور بادشاہ سے کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت غضب ہو گیا۔ ہماری پوری سلطنت میں بھی اتنے چاول نہیں جو اس کی بساط کے چونسٹھ کے چونسٹھ خانے بھر سکے۔
وہ ایک ذہین انسان تھا یا نہیں لیکن کم از کم دنیا بھر کے مسلمان اور بالخصوص پاکستانی نہایت کم عقل اور حقیقتاً مفلس ترین انسانوں میں ضرور شامل ہیں جن کے سامنے زندگی کی شطرنج کی پوری بساط بچھی ہوئی ہے اور دینے والے نے کہا ہے کہ چونسٹھ نہیں، اس کے کھربوں خانے میں صرف ایک جمع ایک نہیں بلکہ اگر ہر خانے میں جمع کے بجائے تم ضرب پر ضرب کے حساب سے بھی مانگو گے تو میں دیتا چلا جاؤں گا کیونکہ میرے خزانے میں کوئی کمی ہے ہی نہیں لیکن ہمارا عالم یہ ہے کہ ہم نے اس کی پیشکش پر یقین کرنا چھوڑ کر دنیا کے ان اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے شروع کر دیے ہیں جو دیتے تو ضرور ہیں لیکن بدلے میں اس سے کئی گنا وصول بھی کر لیتے ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ خواہ کوئی نئی ایجاد ہو یا زندگی کو پرسکون طریقے سے بسر کرنے کا انسانوں کا گھڑا ہوا کوئی سیاسی و معاشی فلسفہ، اس کو نہ صرف سیکھنا پڑتا ہے بلکہ اپنے اطراف میں جتنے بھی انسان ہوتے ہیں ان کو بھی وہ سارے اصول و ضوابط کی تعلیم دینا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی بھی طریقہ زندگی کو خود تو سیکھ لیں لیکن دوسروں تک اس کی خوبیوں کو نہیں پہنچائیں گے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ معاشرے میں کوئی انقلاب برپا کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں صاف صاف فرما دیا ہے کہ انسان خسارے میں ضرور ہے لیکن انسانوں کا وہ گروہ جو ایمان والا ہو، نیک اعمال کرتا ہو، حق کی تاکید کرتا ہو اور صبر پر کاربند ہو، وہ کسی صورت خسارے میں نہیں رہ سکتا۔ یہ مسلسل حق بات کی تاکید کا حکم اور صبر کے ساتھ اس پر ڈٹے رہنے کی ہدایت ہی اس بات کی دلیل ہے کہ جس راستے کو آپ حق کی منزل تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہوں، اس کی تبلیغ نہ کریں اور اس کی راہ میں ہر مشکل اور آزمائش پر تحمل اور برداشت سے کام لیے بغیر اسے سر کر لینے کی باتیں کریں تو ایسا کسی بھی طور ممکن نہیں ہو سکتا۔
پاکستان میں کبھی لبرلزم کی بات کی جاتی ہے، کبھی کمیونزم کی بحث چھیڑی جاتی ہے تو کبھی سوشلزم کا فلسفہ بگھارا جانے لگتا ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ تمام فلسفے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ہی ہیں تب بھی جب تک ایک ایک فرد کے سینے کے اندر تک اس پیغام کو نہیں اُتارا جائے گا اس وقت تک ان فلسفوں کے مطابق معاشرے کو نہیں چلایا جا سکتا۔ پاکستان کے لیے یہ کس قدر خوش آئند بات ہے کہ یہاں ایک ایک فرد اسلام کی تعلیمات سے کما حقہ ٗ آگاہ ہے۔ اسلام افراد سے کیا چاہتا ہے، اس کا نظام معیشت کیسا ہونا چاہیے، سیاست کن اصولوں پر استوار ہونی چاہیے، اصل حاکم اعلیٰ کون ہے، اللہ اور بندوں کے درمیان کیا رشتہ ہے، وہ کون سے کام ہیں جو معروف ہیں، وہ کون سے اعمال ہے جو منکرات میں آتے ہیں، اللہ کے حقوق کیا ہیں اور حقوق العباد کسے کہتے ہیں وغیرہ، یہ تمام باتیں مسلمانوں کو مزید پڑھانے یا سکھانے کی ضرورت نہیں۔ جب ایک ایک فرد کو علم ہے کہ اسلام کیا ہے تو ہم بار بار اِدھر اُدھر کے فلسفوں کو لیکر تجربوں پر تجربہ کیوں کیے جارہے ہیں۔
زندگی کو دشواریوں میں ڈالنے کے بجائے اس نظام کو اپنانے کے سوا مسلمانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے کوئی اور راستہ ہے ہی نہیں۔ پاکستان 75 برس سے تجربوں کی زد میں ہے اور آج بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لینے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں۔ جب تک ہم تجربوں در تجربوں سے باز نہیں آئیں گے اس وقت تک یہ سوچنا کہ ہم اقوامِ عالم میں کوئی ممتاز مقام حاصل کر سکیں، دیوانے کی بڑ سے زیادہ اور کچھ نہیں۔