سعودی عرب اور عراق کا اوپیک پلس فیصلے کی بھرپور پاسداری کا عزم

168

جدہ: سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور ان کے عراقی ہم منصب حیان عبدالغنی نے اوپیک پلس گروپ کے فریم ورک کے اندر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو عالمی منڈیوں میں توازن اور استحکام کے حصول کے لیے دیگر اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزارت توانائی کی طرف سے عراقی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں وزرا نے اوپیک پلس گروپ کے حالیہ فیصلے پر عمل کے لیے اپنے ملکوں کے عزم کا اظہار کیا ہے۔اوپیک پلس کے فیصلے کی مدت 2023ء کے آخر تک ہے۔

واضح رہے اوپیک پلس اتحاد میں پٹرولیم پروڈکٹس برآمد کرنے والے ملکوں کی تتنظیم اوپیک اور روس کی قیادت غیر اوپیک پروڈیوسرز شامل ہیں۔ اوپیک پلیس نے اکتوبر میں اتفاق کیا تھا کہ 2023ء کے آخر تک پیداوار میں یومیہ 20لاکھ بیرل کمی کی جائے گی۔