کراچی میں پاکستان کا سب سے بڑا انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک 2026 میں مکمل ہو گا

182

کراچی میں پاکستان کا سب سے بڑا انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک جون 2026 میں 42 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا۔

منصوبے میں 20 ہزارسے زائد آئی ٹی پروفیشنلز کو ملازمت کے مواقع ملیں گے۔ 11 منزلہ عمارت کا رقبہ 1لاکھ مربع میٹرسے زائد، جہاں 225کمپنیوں کے دفاتر کھلیں گے۔

ویلتھ پاک کی رپورٹ کی مطابق کراچی میں پاکستان کے سب سے بڑے انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے تاکہ شہر کو جدید مستقبل کا گیٹ وے بنایا جا سکے۔جون 2026 میں 42 ارب روپے کے منصوبے کی تکمیل پر 20 ہزارسے زائد آئی ٹی پروفیشنلز کو ملازمت کے مواقع ملیں گے۔

آئی ٹی پارک سے معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی اور اس سے نہ صرف کراچی کے شہریوں بلکہ پاکستان بھر کے آئی ٹی پروفیشنلز اور کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ آئی ٹی پارک ایسی جگہیں مہیا کرتے ہیں جہاں جدید کاروبار ترقی کرسکتے ہیں۔ زیادہ تر آئی ٹی پارکس کاروباری ترقی کے لیے کافی جگہ مہیا کرتے ہیں۔ دنیا بھر کی حکومتیں اکثر اپنی علاقائی اور قومی معیشتوں کو فروغ دینے کے لیے ان ٹیکنالوجی پارکوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔

پارکوں کی طرف سے پیش کی جانے والی خدمات کا ان کاموں سے گہرا تعلق ہے جو انہیں پورا کرنا ہے۔ ٹیکنالوجی پارکس کے فوائد صرف کاروباری اداروں اور پارکوں کے کرایہ داروں تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ پارکوں سے باہر کی کمپنیوں کے لیے بھی ہیں۔ ٹیکنالوجی پارکس کے فوائد میں علم پر مبنی معیشت کو فروغ دینا، انٹرپرینیورشپ اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال شامل ہے۔

آئی ٹی پارک کراچی ایک 11 منزلہ عمارت ہے جس کا رقبہ 106,449 مربع میٹر ہے۔ یہ تقریبا 225 اسٹارٹ اپس اور چھوٹے سے درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور دیگر ذیلی سہولیات ٹیسٹنگ لیبارٹریز، کلاس رومز، ایک انڈسٹری اکیڈمیا لنکیج سینٹراور ایک آڈیٹوریم کو دفتر کی جگہ فراہم کرے گا۔

وزارت آئی ٹی نے یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے گزشتہ 4 سالوں میں 65 ارب روپے کی لاگت سے چاروں صوبوں میں 70 آپٹیکل فائبر کیبل اور براڈ بینڈ پروجیکٹ شروع کیے ہیں۔ پاکستان میں پہلی بار اسمارٹ فون مینوفیکچرنگ لائسنس جاری کیے گئے ہیں جس کے تحت اب پاکستان میں 29 کمپنیاں اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل ڈیوائسز تیار کررہی ہیں۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور حال ہی میں فیصل آباد اور حیدرآباد میں بھی نیشنل انکیوبیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ان اقدامات کے نتیجے میں آئی ٹی کی برآمدات کا حجم 2.62 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو کہ 47 فیصد کا اضافہ ہے جب کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ملک بھر میں 30 سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس قائم کیے گئے ہیں۔

800فیصدکے اضافے کے ساتھ چار سالوں میں پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری کی رقم 818 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ نئے آئی ٹی گریجویٹس کو بین الاقوامی معیار کی آئی ٹی ٹریننگ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ جامعہ کراچی میں نوجوانوں کی تربیت کے لیے سینٹر آف ایکسی لینس کا منصوبہ زیر غور ہے۔