ہجر سے وصال تک

186

شیخ رشید آئے دن تاریخ پر تاریخ دیتے رہتے ہیں مگر یہ حیرت کی بات نہیں کہ یہ ان کی سیاسی بقاء کا مسئلہ ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ موصوف خود کو فوج کا آدمی کہتے ہیں حالانکہ فی زمانہ اللہ کے بندے بھی دکھائی نہیں دیتے، تاریخ پر تاریخ دینا عدلیہ کا کام ہے، سو، اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ شیخ صاحب عدلیہ کے آدمی ہیں، عدلیہ کا رویہ بھی اس امکان کو تقویب دیتا ہے کیونکہ عدلیہ ان کے قائد عمران خان کو ریلیف پر ریلیف دے رہی ہے، اور اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ عمران خان کو عدالت عظمیٰ کی جانب سے امین و صادق کا جو سرٹیفکیٹ عطا کیا گیا ہے وہ شیخ رشید کی کارستا نی ہو، اور اب تو شیخ جی غلام محمد قادیانی کی طرح پیش گوئیاں بھی کرنے لگے ہیں۔
لانگ مارچ کے دوران عمران خان پر حملہ ہوا تو عدلیہ نے قومی خزانے پر حملہ کر دیا اب کروڑوں روپے خان صاحب کی سیکورٹی پر خرچ کیے جارہے ہیں، شیخ رشید اس معاملے میں عمران خان سے پیچھے کیوں رہتے، انہوں نے بھی اپنے لیے تحفظ مانگ لیا، کیونکہ انہیں بھی جان کا خطرہ لاحق ہے، سوال یہ ہے کہ جو لوگ خود کو پوری قوم کا لیڈر کہتے ہیں انہیں کس سے خطرہ ہے، یوں بھی عقل و دانش کا تقاضا ہے کہ جس کام میں جان کا خطرہ ہو اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے، جو لوگ ایسا نہیں کرتے خودکشی کے مرتکب ہوتے ہیں، البتہ سیاست میں خودکشی کرنے والوں کو انعام و کرام سے نوازا جاتا ہے۔
عمران خان ایوان اقتدار میں تھے تو ملکی معیشت کو تباہ کرنے کے درپے رہا کرتے تھے اور اب ایوان اقتدار سے باہر آکر بھی معیشت کو برباد کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں ان کی سیکورٹی پر کروڑوں روپے ماہانہ خرچ کیے جارہے ہیں، اور اس معاملے میں شیخ رشید نے بھی اپنا حصہ ڈال دیا ہے مگر غور طلب بات یہ ہے کہ جس شخص کو جان کا خطرہ ہو کسی اور کو کیسے دھمکی دے سکتا ہے شیخ جی کہتے ہیں کہ اگر کسی ادارے کا کوئی بندہ ان کے پیچھے آیا تو انجام کا ذمے دار خود ہوگا تاہم موصوف نے یہ سہولت ضرورت فراہم کی ہے کہ ان کا پیچھا کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وردی میں آئے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شیخ جی پیش گوئی کے معاملے میں خاصے کمزور واقع ہوئے ہیں، مگر دیگر معاملات پر خاصے ذہین ہیں اب یہی دیکھیے نا، موصوف کو جان کا خطرہ ہے مگر کہتے ہیں کہ سول کپڑوں میں کوئی ان کا پیچھا کرے گا تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا، گویا موصوف نے سیکورٹی فراہم کرنے والوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ سول کپڑوں میں تحفظ کرنے والوں کی موجودگی میں حملہ ہو سکتا ہے مگر وردی میں ملبوس محافظوں کی موجودگی میں کوئی بھی حملہ نہیں کر سکتا ابتک یہی سنتے اور دیکھتے آئے تھے کہ جماعت اسلامی کو چھوڑا جاسکتا ہے مگر جماعت اسلامی مرتے دم تک ساتھ رہتی ہے، اور اب شیخ رشید نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پیپلز پارٹی جس کے دل میں گھر کر جائے وہ کہیں بھی گھر بسالے مگر پیپلز پارٹی اس کے دل ہی میں آباد رہتی ہے، موصوف پہلے بھی پیپلز پارٹی کی تعریف و توصیف کرچکے ہیں، زردری کو سیاست کی یونیورسٹی قرار دے چکے ہیں، ان کا تازہ بیان یہ ہے کہ نئی تعیناتی سب پر بھاری، گویا ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے کو نئے لفظوں کا پیراہن دیا گیا ہے۔
صدر مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی وزیر اعظم کی ذمے داری ہے مگر اس معاملے میں مشاورت کرلی جائے تو بہتر ہوگا، سوال یہ ہے کہ موصوف نے یہ مشورہ عمران خان کو کیوں نہیں دیا، موجودہ حکمران بھی تو مشاورت کی بات کیا کرتے تھے، عمران خان فرماتے تھے کہ چوروں اور ڈاکوئوں سے بات کرنا تو دور کی بات ہے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے، خان صاحب سے بھی الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا جاتا تھا، آرمی چیف کے معاملے میں بھی مشاورت کی بات کی گئی تھی مگر خان صاحب اقتدار کے نشے میں اتنے بدمست تھے کہ کسی کی بات گوارا نہیں کیا کرتے تھے ستم بالائے ستم یہ ہے کہ شیخ رشید جیسے مشیر کہا کرتے تھے کہ الیکشن وقت پر ہوں گے وقت سے پہلے الیکشن کسی کا باپ بھی نہیں کراسکتا اب شیخ رشید الیکشن کا مطالبہ کررہے ہیں تو عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ انہیں نیا باپ دستیاب ہوگیا ہے۔
شیخ رشید کہتے ہیں کہ فوجی قیادت کا فیصلہ درست ہوا تو ملک و قوم کے لیے اس سال کی سب سے بڑی خوشخبری ثابت ہوگا بصورت دیگر ملک میں انتشار پھیلے گا، بد امنی ہوگی، جو بھی تحریک انصاف کی حدود میں داخل ہوتا ہے اس کے لیے ساری حدیں بے معنی کیوں ہو جاتی ہیں ان کے لیے عمران خان کا کہا مستند کیوں ہوتا ہے شیخ جی پرانے سیاستدان ہیں، وطن عزیز کی سیاست سے اچھی طرح واقف ہیں، موصوف کو اس حقیقت کا بھی ادرک ہے کہ مکالمے اور سیاست میں دھمکی کارگر نہیں ہوتی نتیجہ خیز اور بامعنی مذاکرات کے لیے لچک بہت ضروری ہوتی ہے، مگر تحریک انصاف ہر کام دھمکی سے نکالنا چاہتی ہے، سچ ہی کہتے ہیں نمک کی کان میں جانے والا نمک بن جاتا ہے، مگر تحریک انصاف میں عمران خان کی موجودگی میں نمک بننے کی گنجائش نہیں وہ نمک دان ہی بن سکتا ہے اس تناظر میں کہنے والوں کا یہ کہنا درست لگتا ہے کہ تحریک انصاف میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو عمران خان کی نااہلیت کے طلب گار ہیں شیخ رشید کا بیان غور طلب ہے کیونکہ موصوف نے واضح لفظوں میں عمران خان کی پالیسی ظاہر کر دی ہے کہ سیاست کو عمران خان کی خانہ زاد بنا دو، ورنہ… ملک میں انتشار پھیلے گا، بدامنی ہوگی، عوام کی پریشانیاں بڑھیں گی، سڑکیں اور دیگر راستے بند کردیے جائیں گے، سوال یہ ہے کہ حکومت کیا کررہی ہے، وہ تحریک انصاف کے ورکروں پر قابو کیوں نہیں پاسکتی۔ عدلیہ اور پولیس کیوں خاموش ہے، ہر ادارہ ٹک ٹک دیدم دم نا کشیدم کی تصویر کیوں بنا ہوا ہے ان حالات میں ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کا صرف خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے۔