قحط الرجال

165

مولانا محترم محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ سے مجھے تو عشق کی حد تک محبت تھی اور الحمدللہ اب بھی ہے، یہی عشق و محبت مجھے کھنچ کر ان کے درس میں بھی لے جایا کرتی تھی، مولانا لدھیانوی ترمزی شریف سے درس دیا کرتے تھے، اور دوران درس کبھی کبھی فرمایا کرتے تھے کہ ’’یہ قحط الرجال کا دور ہے‘‘۔ یعنی علمائے کرام اٹھتے چلے جائیں گے، اس وقت یہ بات مجھ کم علم اور کم عقل کو سمجھ میں نہیں آتی تھی، مگر پھر جیسے جیسے بڑے بڑے نامور علمائے کرام لدھیانوی ؒ سمیت شہید کیے جانے لگے، اور کراچی ان علمائے کرام کی شہادتوں کے ساتھ آگ اور خون میں نہلایا جانے لگا تو سمجھ میں آنے لگا کہ ’’قحط الرجال‘‘ کا کیا مطلب ہے، کچھ علمائے کرام گو کہ اپنی طبعی موت سے ہم کنار ہوئے، مگر اس میں کیا شک ہے کہ اپنی طبعی موت سے جانے والے علمائے کرام بھی تو اس امت کا عظیم ترین اثاثہ تھے، جن کا خلا کبھی پر نہیں ہو سکتا، اور جو علمائے کرام شہید کر دیے گئے، ان کی عظمتوں سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا، قادیانیت کا فتنہ ہو، غامدی فتنہ ہو، پرویزیت کا فتنہ ہو، یا دین اسلام کے خلاف جس جس فتنے نے بھی سر اٹھایا، یہ علمائے کرام ان فتنوں کے خلاف ہر محاذ پر قلم و قرطاس سے لیس علمی اور عملی میدان میں سینہ تانے کھڑے نظر آئے، انہی علمائے کرام میں ایک نام مولانا مفتی محترم محمد رفیع عثمانی کا بھی ہے، جو خود تو ایک عالم دین کی حیثیت سے اوج ثریا پر کھڑے تھے، بلکہ ان کا سارا گھرانہ بھی علم و عمل کا ایک جیتا جاگتا عملی نمونہ ہے، ان کے والد صاحب مولانا محترم مفتی محمد شفیع ان کے بھائی مولانا مفتی محترم محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی جن کا لوہا عجم تو عجم عرب دنیا بھی مانتی ہے، اور خود مولانا مفتی محترم محمد رفیع عثمانیؒ بھی علم و فضل کے اعتبار سے انہی صفات و کمالات سے مالامال تھے کہ آج وہ بھی ہم سے بچھڑ کر اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیابے شک مولانا محترم مفتی اعظم پاکستان رفیع عثمانی کا انتقال ایک بہت بڑا سانحہ ہے، دعا ہے کہ اللہ سبحانہ ٗ و تعالیٰ ان کو غریق رحمت فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین۔