الیکشن کمیشن خواتین کو وراثتی حق نہ دینے والوں کو انتخاب لڑنے کی اجازت نہ دیں، سراج الحق

163
became a tyrant

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ استحکام کے لیے پہلی شرط آئین و قانون کی حکمرانی ہے۔ بے روزگاری، بدامنی، بھوک اور افلاس حکمرانوں کی وجہ سے ہے۔ عام آدمی اپنے آپ کو لاوارث سمجھتا ہے، وفاقی و صوبائی حکومتوں نے شہریوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ گھریلو خواتین موجودہ حالات میں سب سے زیادہ پریشان ہیں۔

سراج الحق نے کہا کہ  لوگوں کے لیے بچوں کی تعلیم، ماہانہ بلوں کی ادائیگی، راشن کی دستیابی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ حقوق کے نام پر عورت کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔ ظالم سرمایہ دارانہ سودی نظام اور اس کے وفادار عوام کی محرومیوں اور پریشانیوں کا سبب ہیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان  کا کہنا تھا کہ  خواتین ملک کی آبادی کا پچاس فیصد سے زائد ہیں، سسٹم کا اہم ترین سٹیک ہولڈر ہونے کے ناطے خواتین آئندہ الیکشن میں بھرپور کردار ادا کریں، اہل اور ایمان دار قیادت کو آگے لانا ہو گا۔ مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن خواتین کو وراثت میں حصہ نہ دینے والوں کو انتخاب لڑنے کی اجازت نہ دے۔

انہوں نے کہاکہ  عورت کے سامنے بے شمار چیلنجز ہیں، سب سے بڑا مغربی یلغار کا مقابلہ اور آئندہ نسلوں کو دین سے روشناس کرانا ہے۔ خواتین کو خاندانی نظام کے تحفظ اور نظریاتی اساس کی حفاظت کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا۔موجودہ کرپٹ سسٹم، جاگیرداروں اور وڈیروں نے عورت کو باندی بننے پر مجبور کر دیا ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ  ملک میں چار ہزار کے قریب خواتین لاپتا ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سالہاسال سے امریکی قید میں ہے، بزدل حکمران اسے واپس نہ لا سکے۔ اسلامی نظام کا نفاذ امن اور ترقی کا ضامن ہے، صرف اسلامی معاشرے میں عورت کو تمام حقوق حاصل ہوں گے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ  جماعت اسلامی ایسا نظام چاہتی ہے جس میں خواتین اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں۔ خواتین کے حقوق کے لیے سب سے بلندآواز جماعت اسلامی نے اٹھائی۔

سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کے حقوق سلب کیے ہوئے ہیں، چند خاندانوں نے پورے نظام کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے پیشِ نظر نظام کی بہتری نہیں سٹیٹس کو برقرار رکھنا ہے، یہ لوگ آئندہ سو سال بھی مسند اقتدار پر براجمان رہے تو بہتری نہیں آئے گی۔ حکمران جان لیں قوم اب مزید ان کے بہلاوے میں نہیں آئے گی، لوگ حقیقت جان چکے ہیں، جاگیردار اور وڈیرے ایکسپوز ہو گئے ہیں، حکمران جماعتوں کی نااہلی ثابت ہو گئی۔ قرضوں کا پہاڑ قوم کے سروں پر لاد دیا گیا۔ ہماری معاشی، داخلی اور خارجہ پالیسیاں واشنگٹن اور آئی ایم ایف وضع کرتا ہے، حکمران انھیں لاگو کرتے ہیں۔