ادویات بنانے والی 600 نئی کمپنیوں نے درخواستیں دیدیں

85

اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ اس وقت 600نئی ادویات بنانے والے کمپنیوں کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

 جنہیں کہا گیا ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق ادویات اور قواعد و ضوابط کو اپنائیں، ایچ ای سی کے حکام نے بتایا کہ پاکستان نرسنگ یونیورسٹی کےلئے دو مرتبہ متعلقہ حکام کو لکھا گیا کہ وہ قواعد و ضوابط پورے کریں لیکن تاحال انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کا مثبت استعمال یہ ہے کہ انہیں مختلف ہنر سکھا کر بیرون ملک بھجوایا جائے تا کہ وہ قیمتی زر مبادلہ لے کر آئیں۔ جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر ہمایوں کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں ایچ ای سی وزارت صحت، ڈریپ کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سینیٹر نصیب اللہ بارزئی کی جانب سے پاکستان نرسنگ یونیورسٹی کے قیام کے بارے میں سوال اٹھایا جس پر ایچ ای سی کے حکام نے بتایا کہ نرسنگ یونیورسٹی کے حکام کو ایچ ای سی کی شرائط پوری کرنے اور قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کےلئے کہا گیا ہے جس پر تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

چیئرمین کمیٹی کے استفسار پر سینیٹر نصیب اللہ نے کہا کہ نرسنگ یونیورسٹی والے 15دن کے اندر اندر جواب دیں گے یہ ایک اہم مسئلہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ سینیٹر شفیق ترین کی جانب سے کہا گیا کہ ڈریپ نئی ادویات بنانے والی کمپنیوں کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے، قواعد و ضوابط سخت بنائے جا رہے ہیں، جس پر ڈریپ کے حکام نے بتایا کہ پہلے کوئی قواعد و ضوابط نہیں تھے لیکن بعد میں پاکستان میں ڈبلیو ایچ او یا عالمی ادارہ صحت اور ایف ڈی اے کے معیار کے مطابق ادویات بنانے کےلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے،2005سے پہلے پہلے ادویات بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ طویل مشاورت کی گئی جس میں انہیں کہا گیا کہ وہ ادویات کو عالمی معیار کے مطابق تیار کریں، ادویات دو سال تک محفوظ رہیں اور کوالٹی پیکنگ معیاری ہو، جس پر وہ عمل پیرا ہیں، نئی کمپنیوں کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا ہے ۔