اہم تعیناتی، صدر نے رکاوٹ ڈالی تو پلان بی موجود ہے، اسحاق ڈار

272
excess

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاک فوج کے 2 اہم عہدوں پر تقرریاں 28 نومبر تک ہوجائیں گی، اگر صدر مملکت نے تقرری کے معاملے پر رکاوٹ ڈالی تو ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کے ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ تمام ادائیگیاں بھی وقت پر ہوجائیں گی، تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن یہ مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہییں۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کا تقرر 27 سے پہلے ہوجائے گا جبکہ دونوں تقرریاں 2 مختلف دن بھی ہو سکتی ہیں۔ امید ہے کہ 28 نومبر تک سارا پراسس مکمل ہو جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر صدر مملکت نے آرمی چیف کے تقرر کے معاملے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کی 27 نومبر کو ریٹائرمنٹ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ اس کا حل بھی ہمارے پاس موجود ہے۔

ملکی معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ تمام ادائیگیاں بھی وقت پر ہوجائیں گی۔ تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کے لیے بالکل تیار ہیں لیکن یہ مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہئیں۔