انتہا پسندی کا آئیکون اور دہشت گردی پر لیکچر

291

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں دہشت گردی پر ایک بھرپور لیکچر دیا ہے۔ یہ کانفرنس بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی نے منعقد کی تھی جس میں پچھتر ممالک کے ساڑھے چار سو مندوبین شریک تھے۔ نریندر مودی نے اس خطاب میں پاکستان اور چین پر نام لیے بغیر تنقید کی۔ مودی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو کسی ملک میں پناہ نہیں ملنی چاہیے۔ دہشت گردوں کی مدد کرنے والے ممالک کو الگ تھلگ کردینا چاہیے۔ مودی نے پاکستان اور چین کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض ممالک اپنی خارجہ پالیسی کے طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو روکتے ہوئے اس کی مدد کررہے ہیں۔ مودی کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک اچھی اور بری دہشت گردی کے نام پر بالواسطہ طور پر دہشت گردی کی مدد کرتے ہیں۔ نریندر مودی کی طرف دہشت گردی پر اس لیکچر پر پہلی گرفت بھارت کے مسلمان راہنما اور صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندوں کی مدد کرنے والوں کو بھی کسی ملک میں جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے فیض کے اشعار بھی ٹویٹ کیے
نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سراُٹھا کے چلے
بیرسٹر اویسی مودی کی طرف سے انتہا پسندی کے واقعات کی سرپرستی کی مختصر تفصیل بھی جاری کی جس میں بھارتیا جنتا پارٹی کی قیادت کی طرف سے ہجومی تشدد کے مرتکب انتہا پسندوں کی رہائی پر ان پر ہونے والی گلپوشی کی حمایت اور بلقیس بانو نامی مسلمان خاتون کی اجتماعی آبروریزی کرنے والوں کی تعریف اور فرقہ وارانہ نفرت سے بھرپور خود نریندر مودی کی طرف سے دیے جانے والے بیان سمیت کئی اور واقعات کا حوالہ شامل تھا۔ یوں نریندر مودی کو پہلا آئینہ خود بھارت کے ایک مسلمان راہنما نے دکھا دیا۔ دہشت گردی پر باتیں کرنے والے بھارتی وزیر اعظم کا پورا ماضی ایک ایسی انتہا پسندی سے عبارت ہے جو دہشت گردی ہی کی ابتدائی شکل ہے۔ انتہا پسندی ایک ذہنیت کا نام ہے اور بھارت میں حکومت ازخود انتہا پسندی کی فیکٹری بن چکی ہے اس کے ساتھ حکومت نے انتہاپسندی کو فرنچائز اور پرائیوٹائز کرکے ہندوتوا قوم پرستوں کی چھوٹی بڑی تنظیموں کو بھی منتقل کیا۔ یوں بھارت کا پورا نظام مودی کی سرپرستی میں انتہا پسندی کا پرچارک اور ہمدرد بن کر سامنے آرہا ہے۔ یہی انتہا پسندی آگے چل کر گجرات جیسی دہشت گردی میں ڈھلتی ہے۔ جہاں پانچ ہزار افراد کو مودی کی وزارت اعلیٰ کے دور میں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔
انتہا پسندی ایک ذہنیت کو جنم دیتی ہے اور یہ ذہنیت پھر آگے چل کر بندوق تھامنے والے ہاتھ تیار کرتی ہے۔ انتہا پسند ہی دہشت گردی کی نرسری ہوتے ہیں۔ نریندر مودی نے اچھے اور برے دہشت گردوں کی بات بھی کی۔ اچھے اور برے دہشت گردوں کی تفریق امریکا سے بھارت تک ہر جگہ موجود ہے۔ پاکستان کی جیل میں سڑنے والے کلبھوشن یادیو جو پاکستان میں سی پیک مخالف دہشت گردی کی وارداتوں کا اعتراف کر چکے ہیں اچھے دہشت اور برے دہشت گردوں کی تفریق کا پتا دیتی ہے۔ ہر وہ دہشت گرد اچھا جو کسی مخالف ملک کے خلاف کارروائیاں کرکے آپ کے مقاصد کی تکمیل کرتا ہے اور ہر ہر وہ دہشت گرد برا ہے جو آپ کے اپنے مفاد پر کاری ضرب لگاتا ہے۔ کلبھوشن یادیو کی زندگی میں تو نریندر مودی اچھی اور بری دہشت گردی کی بات کرتے ہوئے زیادہ اچھے نہیں لگتے کیونکہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور پاکستان میں بالواسطہ دہشت گردی بھارت کی ریاست کا ایک ہتھیار رہا ہے۔
نریندر مودی کی طرف سے ایک بار پھر دہشت گردی کا منترا کسی انجانے خوف کا اظہار ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بھارت دوبارہ یہ منجن فروخت کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کے اس خوف کی وجہ کیا ہے؟ اس کا تو اندازہ نہیں مگر بھارت کو اپنی سخت گیری اور جابرانہ اقدامات میں اس خوف کی وجوہات تلاش کرنا ہوں گی۔ مودی جس انتہا پسندی کے سرپرست ہیں اسے رسمی طور پر دہشت گردی کا نام دینے کی ہی دیر ہے مگر یہ چونکہ ہندو انتہا پسندی ہے اس لیے امریکا اور مغرب اس کو قبول اور گوارا کیے ہوئے ہیں۔ وہ اسے دہشت گردی کے بجائے غنڈہ گردی کے خانے میں رکھتے ہیں۔ اچھی دہشت گردی اور بری دہشت گردی کا سوال اُٹھانے سے پہلے مودی کو ترکیہ میں ہونے والے حالیہ بم دھماکے کا پس منظر اور پیش منظر بیان کرنا چاہیے تھا۔ جہاں ترکیہ نے امریکا کی تعزیت قبول سے انکار کیا کیونکہ ترکیہ نے جس تنظیم پر اس دھماکے کی ذمے داری عائد کی ہے شام میں اس کا سرپرست اور معاون امریکا ہے۔