پارلیمانی کمیٹی نے 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دیدی

98
permanency

اسلام آباد: پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے ججز تقرری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی  منظوری دیتے ہوئے سمری ایوان صدر کو بھیج دی۔

کمیٹی نے اعلی عدلیہ میں ججز تقرری کے نئے طریقہ کار سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت کے پیش نظر پارلیمانی جماعتوں سے رابطوں کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ سینیٹ میں تمام حکومت اپوزیشن جماعتیں اس بل پر متفق ہیں اور قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی بل کی باقاعدہ توثیق کر چکی ہے۔

بدھ کو پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کا اجلاس سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں ہوا ۔ قائم مقام چیئرمین سینیٹر اعظم سواتی اجلاس میں شریک نہ ہو سکے ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت نوید قمر، رانا مقبول اور سینیٹر سرفراز بگٹی نے شرکت کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کے بارے میں جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر غور کیا گیا اور اتفاق رائے سے جسٹس ارباب طاہر ، جسٹس اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے مستقل ججز تعینات کرنے کی منظوری دے دی ۔ وزیر اعظم کے توسط سے سفارشات ایوان صدر بھیج دی گئیں ۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں میرٹ پر ججز تقرریوں کے حوالے سے نئی آئینی ترمیمی بل کی ایوان بالا سے منظوری کے لیے پارلیمانی جماعتوں سے رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کی رپورٹ پیش ہو گی ۔بل کے محرک سینیٹر فاروق ایچ نائیک ہیں اور بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے ۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ آئندہ ہفتے متوقع طورپر سینیٹ اجلاس طلب کئے جانے کا امکان ہے اور فاروق ایچ نائیک پارلیمانی جماعتوں سے رابطہ کریں گے جبکہ ججز تقرریوں کے آئینی ترمیم پر پہلے سے ہی تمام جماعتیں بشمول پاکستان تحریک انصاف متفق ہے۔