اساتذہ کرام تعلیم پر توجہ دیں

212

ملک کا حال تو سیاسی لوگوں نے بے حال کر رکھا ہے مگر ہماری یہ کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ ہمارا شعبہ ٔ تعلیم زوال پزیر ہے اور حکومت کی توجہ سے بھی محروم ہے، جن قوموں نے ترقی کی ہے اُن کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ انہوں نے تعلیم پر کتنی توجہ دی، تعلیم کو مفت کردیا گیا مگر افسوس کہ 30 برس سے سرکاری اسکولوں اور کالجوں کا معیار بے حد گر چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے ونگ نے بھی تعلیم کو تباہ کیا، کالجوں میں گولیاں چلیں، طالب علم شہید ہوئے، بڑی معذرت کے ساتھ کہ سندھ میں تو لگتا ہے کہ تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ محکمہ تعلیم موجود ہے، وزیر تعلیم موجود، سیکرٹری تعلیم موجود، ہزاروں کا عملہ موجود، جس کو صرف اپنی تنخواہوں کی فکر لاحق رہتی ہے، کام کریں یا نہ کریں بس تنخواہ ملنی چاہیے۔ اُوپر سے ایک ظلم یہ بھی نظر گزرا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے پرائمری اسکول کے اساتذہ کو اپ گریڈ کرنے کی سمری منظور کرلی جو اساتذہ BPS7/9 میں تھے اُن کو BPS-14 ملے گا، تنخواہوں میں اضافہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ صاحب آپ نے آج تک کسی سرکاری پرائمری اسکول کا اچانک دورہ کیا ہے؟ اگر نہیں کیا تو سمری پر دستخط کرنے سے پہلے ایک مرتبہ تو یہ کام کرلیتے کیوں کہ کل آپ کو اللہ کو بھی جواب دینا ہے۔
میں آپ کو نیو کراچی 5G کے ایک پرائمری اسکول میں لے کر چلتا ہوں، اسکول کا وقت 8 بج شروع ہوتا ہے، آپ 9 بجے چکر لگائیں تو سوائے نائب قاصد کے اسکول میں کوئی نہیں ملے گا۔ 10 بجے عملہ آنا شروع ہوتا ہے، سب اسٹاف روم کی زینت بنے ہوئے ہوتے ہیں، چائے چلتی ہے، کوئی چھولے بنا کر لے آتی ہیں، سیاسی گفتگو، گھریلو مسائل، سب پر بات ہوتی ہے مگر بچوں کو تعلیم دینی ہے اس کی کسی کو کوئی پروا نہیں ہوتی، سب سے زیادہ ذہین طلبہ کو یہ ذمے داری سونپ دی جاتی ہے کہ وہ بیچاری بچوں کو تعلیم دیتی ہے۔ ای ڈی او موجود، ایس ڈی ای او موجود مگر افسوس کہ وہ اسکولوں کا دورہ تک کرنا گوارہ نہیں کرتے اور آپ اُن کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کرکے خود بھی گناہ کار ہورہے ہیں۔ کاش پیپلز پارٹی تعلیم، صحت اور بلدیاتی ذمے داریوں کو ایمانداری سے پورا کرتی تو آج ان شعبوں کا یہ حال نہیں ہوتا، مجھے ای ڈی او صاحب سے کسی کام کے سلسلے میں ملنا تھا، اپنا صحافتی کارڈ اُن کے نائب قاصد کے ہاتھ اندر صاحب کو بھجوایا ایک گھنٹے تک کھڑا رہا مگر انہوں نے ملنے کی زحمت نہیں کی، اُن کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے۔ میں نے اے جی سندھ کے ایک بڑے افسر کو فون کیا جو میرے دوست و کرم فرما ہیں اور نہایت ایماندار افسر ہیں۔ ان کو بتایا کہ میں ڈی ای او صاحب کے دفتر کے باہر کافی دیر سے کھڑا ہوں، آپ اُن کو فون کردیں کہ ڈاکٹر شجاع اُن کے کمرے کے باہر کھڑے ہیں، ان کی فریاد کو سن لیں، بس 5 منٹ کے بعد نائب قاصد نے میرے نام کی آواز لگائی، میں اندر گیا ان کا رویہ بہت خراب تھا گفتگو کے سلیقہ سے عاری تھے۔ کہنے لگے میں کلرک آیا تھا اپنی محنت اور قابلیت کی وجہ سے اس جگہ پر بیٹھا ہوں، جب کہ میرا اُن سے بالکل بھی یہ سوال نہیں تھا جس کام کے لیے اُن کے پاس گیا تھا۔ اس پر انہوں نے معذرت کرلی کہ میں بے اختیار ہوں لہٰذا میں اُٹھ کر واپس آگیا مگر مجھے وہاں کا ماحول دیکھ کر بے حد افسوس ہوا، وہاں اور بھی افسران موجود تھے جو موبائل پر لگے ہوئے تھے، وہ برانچ جہاں کلرک بابو اور بڑے بابو اپنے دیگر عملے کے ساتھ شان سے بیٹھے تھے اور اساتذہ کرام کی ایک لمبی قطار اپنے کاموں کے انتظار میں تھی۔
خیر یہ تو ہر سرکاری ادارے کا حال ہے، انٹر نتائج کا اعلان ہوا ہے، پری انجینئرنگ پارٹ 2 کل جس میں سید حماد محمود پہلی پوزیشن، محمد عاقب اور عائشہ نجیب دوسری اور عثمان فیضیاب نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ جب اخبارات نے اُن سے اُن کے خیالات دریافت کیے تو سب کے یہی الفاظ تھے کہ کالجوں میں اساتذہ کلاس نہیں لیتے، ہم پڑھنا چاہتے ہیں، جب کالجوں میں پڑھائی نہیں ہوتی تو ٹیوشن لینی پڑتی ہے۔ یہ وہ وجہ ہے کہ کالج ویران اور ٹیوشن سینٹر آباد ہیں۔ پوزیشن ہولڈر طلبہ جو ہمارے ملک کے سرمایہ ہیں انہوں نے سندھ حکومت سے شکایت کی ہے کہ ایک تو شہر میں بہت گندگی ہے، دوسرے تمام سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے آمدو رفت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ جس نے مجھ جیسے قلم کار کو ہلا کر رکھ دیا ہے انٹر کے نتائج میں 24 کالجز کے نتائج صفر، اکثریت سرکاری کالجوں کی ہے، جب کہ 13 سرکاری تعلیمی اداروں نے 10 فی صد یا اس سے بھی کم نتائج حاصل کیے، جب میں نے اُن کالجز کے نام پڑھے تو بے حد حیرت ہوئی۔ بحریہ ماڈل کالج ڈی ایچ اے فیز II، کوئی پاس نہیں۔ دی اسمارٹ کالج گلستان جوہر کوئی پاس نہیں۔ اپوا گورنمنٹ گرلز کالج لیاقت آباد کوئی پاس نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت سندھ ان کالجز کے پرنسپل، پروفیسر وغیرہ کے خلاف کوئی بڑا ایکشن لے گی یا نہیں، اگر آج کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو پھر ہمارے ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان سب کو ملازمت سے برطرف کردیا جائے مگر میں سمجھتا ہوں کہ ان اساتذہ کو ایک موقع دیا جائے اور ان کو کلاس لینے کا پابند کیا جائے۔ ان سب کو انتباہ کے ساتھ وضاحت طلب کی جائے۔ خدا کے واسطے کچھ کریں میری ملک کی نسل تباہ ہورہی ہے۔