آہ… برادر فاروق حسن بھی رخصت ہوئے

263

انا للہ وانا الیہ راجعون، حسن فاروق بھی چل بسے یہ 1984 کے شروع کی بات ہے ہم لوگ مکہ مکرمہ سے منصورہ منتقل ہوئے تو چند شخصیات جن سے بالکل ابتدائی تعارف ہوا اور آج تک نہ صرف قائم رہا ان میں سے ایک حسن فاروق بھائی بھی تھے ان دنوں آپ خلیل حامدی مرحوم کے ساتھ شاید دارلعروبہ میں ان کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور میں سید مودودی انسٹیٹیوٹ میں غیر ملکی طلبہ کی عربی کی کلاسیں لیا کرتا تھا اور اس وقت یہ کلاسیں جماعت کے مرکزی آفس کی عمارت میں دوسری منزل پر ہوتی تھیں جہاں اب میرے خیال میں جماعت کے امور خارجہ کا شعبہ ہے اور اسی عمارت کے تخانے میں حسن بھائی بیٹھتے تھے جہاں پر آپ عرب ممالک کے ساتھ تعلقات اور مساجد مدارس کو بھی دیکھتے تھے یوں میں جب بھی کلاس لینے جاتا تو جاتے یا آتے حسن بھائی سے ملاقات ضرور ہوتی اور یوں یہ تعلق بنتا ہی چلا گیا یہاں تک کہ ہم دونوں نے مل کر باہمی اشتراک سے بزنس بھی کیا اور یوں میرا تعلق ان سے بہت گہرا ہوتا گیا اور ہر لمحہ ان کی شرافت تحریک سے وابستگی اور معاملات میں انتہا درجہ کی ایمانداری میرے دل میں ان کا احترام بڑھاتی رہی۔
وہ نہایت معتبر شخصیت تھے انہوں نے زندگی کے دو جنم لیے۔ پہلا جنم ایک غریب گھرانے میں لیا اور اپنی محنت، لگن، بے مثال کارکردگی اور غیر مشروط وفاداری کے سبب کامیابیوں کی منزلیں طے کرتا اس مقام تک پہنچا جو مقام کسی نصیب والے کو ملتا ہے انہوں نے خود کو منوایا ان میں اپنائیت تھی اور اس کا رشتہ ہمیشہ استوار رکھا۔ دوسرا سیاسی جنم انہوں نے میاں طفیل محمد کے گھر میں لیا، پہلے دن سے آخری دن موت سے قبل تک وہ ایک نفیس انسان تھے، وفا کا پیکر، کسی کی بے اعتنائی اس کے استقلال اور اس کے جذبوں کو کبھی کم نہ کر سکی دوستوں کے لیے اس کی محبت ہمیشہ زندہ اور جاوداں رہی، آج وہ ہم سے بچھڑ گئے ہیں وہ ہمیں غم اور دکھ دے گئے ہیں۔ ہمیں ان کے ساتھ اپنے گزرے ہوئے وقت کا بھرپور احساس ہے وہ عالم ِ با عمل تھے، فرقہ واریت کے خلاف سینہ سپر رہے، اُنہیں ہر مکتب ِ فکر میں احترام اور قدرکی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پاکستان کے نظریاتی استحکام کے لیے اُن کی خدمات بھلائی نہیں جا سکیں گی۔ اُنہوں نے اپنے جلیل القدر والد میاں طفیل محمد کی قائم کی ہوئی روایات کو آگے بڑھایا اور پاکستان میں اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں رہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اُن کے درجات بلند کرے اور پاکستان کے اہل ِ علم کو اُن کی سی لگن، اور تڑپ عطا کر دے۔