بہتر مستقبل کی امید

160

افراد کار کی تربیت اور ان کی شخصیت کی تعمیر کے لیے والدین، خاندان اور تعلیمی اداروں کی اہمیت اپنی جگہ بنیادی اہمیت رکھتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ماہرین عمرانیات و سیاسیات قرار دیتے ہیں کہ اس ضمن میں سیاسی جماعتیں بھی نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ عام طور پر جب سیاسی جماعتوں کے وظائف بیان کیے جاتے ہیں تو اس میں یہ بات بہت اہم ہے کہ قوم کے افراد کی ذہنی اخلاقی اور روحانی تربیت اور ان کی ذہن سازی و رائے سازی اور مخصوص نظریات و افکار کے لحاظ سے رائے عامہ کی ہمواری ان ہی کے دم سے ہے۔ لیکن افسوس یہ کہ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اپنی اس اہمیت سے ہی نہیں بلکہ اس اہم قومی فریضے سے ہی غافل ہیں۔
یہ کریڈٹ جماعت اسلامی ہی کو جاتا ہے جہاں افراد کی ذہنی اخلاقی اور روحانی تربیت کا بخوبی اہتمام کیا جاتا ہے ہر شعبہ میں کام کرنے کا ضابطہ اخلاق طے کیا جاتا ہے اور یہ ضابطہ اخلاق محض کتابی نہیں ہوتا بلکہ نظم جماعت کی جانب سے کارکنان کو اس کا پابند کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا ماحول جہاں جھوٹ، دغابازی اور لوٹ کھسوٹ کا دوسرا نام سیاست سمجھا جاتا ہے وہیں جماعت اسلامی کا پیش کردہ تصور سیاست، خدمت و عبادت، ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور خدا کی زمین پر خدا کا نظام ہے۔ بعض ہمدردوں کی جانب سے بارہا مشورہ دیا جاتا ہے کہ جماعت محض دعوتی اور فلاحی کاموں تک محدود ہو جائے۔ سیاست کے گند میں نہ اترے۔ ایسے ہمدردوں سے عرض ہے کہ جب تک آپ اس گند میں اترنے کا حوصلہ نہیں کریں گے اس سے نجات کیسے حاصل کریں گے؟؟ کسی گند کو صاف کرنے کے لیے آپ کو بھی اس میں اترنا پڑے گا۔ نیکی، امانت و دیانت، صبر و استقامت اور ثابت قدمی کی مثالیں رقم کرنی ہوں گی ورنہ عبادت و ریاضت اور خانقاہوں میں سجادہ نشینی کس کام کی۔۔؟ نہ تو محض یہ ہمارا مقصد زندگی ہے، نہ مشن اور نہ منزل۔۔ اسی لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد کا محور و مرکز صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کی تعمیر ہے اور ہم دین کی جزیات کو نہیں بلکہ پورے دین کو لے کر اٹھے ہیں۔
کارزارِ سیاست میں اسی نظریے کے تحت میدان عمل میں موجود جماعت اسلامی ہی ہے جس کی ٹکسال میں ڈھلے سکے اگر ایوان میں ہوں تو حق و صداقت کی آواز بن جاتے ہیں، غلط کاریوں پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں، خدمت کی درخشاں مثالیں رقم کرتے ہیں یہ جماعت اسلامی ہی ہے جس کے دو سو سے زائد اراکین ارکان اسمبلی رہے لیکن ان پر کرپشن کا ایک داغ تک نہیں، سٹی گورنمنٹ میں چودہ سو سے زائد کونسلرز اور ناظمین رہے ہیں لیکن سب کے دامن صاف ہیں۔ جو بطور ایم این اے و ایم پی اے اپنی تنخواہ تک عوام کی بہبود پر خرچ کر دیتے ہیں۔ جس کے رکن اسمبلی نے کثیر رقم ٹھکرا دی لیکن اپنے ضمیر کا سودا نہ کیا۔ جس کے امیر نے کے پی کے میں اپنی وزارت خزانہ کے دور میں سود فری و کرپشن فری ایک دو نہیں پورے پانچ بجٹ پیش کیے اور جنہوں نے کم ترین خرچ میں ملکی و غیر ملکی دورے کیے۔ جن کے بارے میں عدالت قرار دیتی ہے کہ دفعہ باسٹھ و تریسٹھ کا اطلاق ہوا تو سینیٹ میں صرف سراج الحق ہی بچیں گے۔ یہ جماعت اسلامی ہی ہے جس کی الخدمت نے سب کو اس اعتراف پر مجبور کیا کہ جہاں حکومت نہ پہنچی الخدمت پہنچ گئی۔ جس کے رضاکاروں نے اپنی جان پر کھیل کر متاثرین کی داد رسی کی۔ جس پر اپنے تو اپنے غیروں نے بھی بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ ہے اپنے مضبوط و مربوط تربیتی نظام کے ساتھ، اس گئے گزرے دور میں، کارزارِ سیاست میں دیانت و امانت اور خدمت کے جھنڈے گاڑنے والی جماعت اسلامی۔۔۔
فی زمانہ قیادت و سیادت کے بحران میں جماعت اسلامی ایک بہترین قیادت اور تربیت یافتہ کارکنوں کی منظم ٹیم رکھتی ہے۔ اور اگر ایسی ہی قیادت نظام حکومت کی کمان سنبھالے تو ہی بہتر مستقبل کی امید کی جا سکتی ہے۔