سیاسی دیوالیہ پن زیادہ خطرناک ہے

874

پاکستانی حکمران اور اپوزیشن آج کل الزام تراشی کے جس کھیل میں مصروف ہیں اس میں وہ کسی اصول و ضابطے اور اخلاقیات کے پابند نہیں ہیں۔ جب تک عمران خان کی حکومت تھی اپوزیشن کی نظر میں وہ ملک تباہ کررہے تھے اور جس دن پی ڈی ایم کی حکومت آئی اس کے اگلے دن سے پی ٹی آئی یہ ہنگامہ کررہی ہے کہ ملک ڈیفالٹ ہورہا ہے، تباہ ہوگیا، سری لنکا بن رہا ہے لیکن دو روز میں یہ کیا ماجرا ہوا کہ پی ٹی آئی کے وزیرخزانہ نے بھی گواہی دے دی کہ ملک ڈیفالٹ نہیں ہورہا۔ کہتے ہیں پاکستان جیسے ملک دیوالیہ نہیں ہوتے کوئی نہ کوئی مدد کرے گا۔ یعنی یہ فخریہ بات ہے کہ کوئی نہ کوئی مدد کرے گا۔ شوکت ترین صاحب بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو یہ پیش گوئیاں کررہے تھے کہ ملک معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ آخر ایسی کون سی بات ہوئی ہے کہ ان کی نظر میں پی ڈی ایم کی حکومت کی معاشی پالیسیاں بھی خراب ہیں اور ملک دیوالیہ بھی نہیں ہورہا۔ اس حقیقت سے دونوں انکار کررہے ہیں کہ ملک کی معاشی تباہی کے دونوں ہی ذمے دار ہیں لیکن الزام دوسرے ہی کو دیا جارہا ہے۔ الزام تراشی میں اس بات کو بھی مدنظر نہیں رکھا جارہا کہ عالمی سطح پر کیا حالات ہیں اور ان کے کیا اثرات ہیں اور کسی بھی ملک میں معاشی اقدامات کے نتائج ایک رات میں سامنے نہیں آتے پی ڈی ایم کی حکومت آئے ہوئے چھ ماہ ہوگئے ہیں لیکن اس کے قیام کے پہلے ہفتے سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ ملک تباہ کررہی ہے، حالاں کہ گزشتہ حکومت کے جولائی 2021ء کے بعد کے اقدامات کے نتائج مئی 2022ء میں سامنے آرہے تھے۔ اب جو تباہی پی ڈی ایم نے کی ہے اس کے اقدامات کے اثرات 2023ء میں سامنے آئیں گے، اگر فوری الیکشن کرادیے گئے اور پی ٹی آئی پھر برسراقتدار آگئی تو یہی پی ڈی ایم، پی ٹی آئی کو اپنے ہی معاشی فیصلوں کے خراب نتائج کا ذمے دار قرار دے گی اور اس وقت یہی میڈیا جو آج پی ٹی آئی کے خلاف مہم چلارہا ہے۔ پی ڈی ایم کے خلاف مہم چلائے گا عوام بے چارے جب تک حقائق کی تہہ تک پہنچیں گے پھر کوئی حکومت بدل چکی ہوگی اور سازشی بیانیہ چل رہا ہوگا۔ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک سال کے لیے پی ڈی ایم، پی ٹی آئی یا کسی کی بھی حکومت نہ ہو ملک کو وفاقی سیکرٹریز ہی چلا رہے ہوں تو بھی مہنگائی بڑھنے کی وہی رفتار رہے گی جو عمران خان کے زمانے میں شروع ہوئی اور پی ڈی ایم نے اسے برقرار رکھا اور آنے والے حکمران بھی اسے برقرار ہی رکھیں گے۔ اصل مسئلہ ڈالر، پٹرول کی عالمی قیمتیں اور عالمی سطح پر سیاسی تنازعات نہیں ہیں یہ ساری چیزیں مسلسل اور مستقل عمل ہیں۔ حکومتوں کی ذمے داری ہوتی ہے ان ہی حالات میں اپنے عوام کو سہولتیں فراہم کرنا اور ان کو مشکل سے نکالنا۔ لیکن ہماری حکومتیں باہر سے آنے والے دبائو کو عوام کی طرف منتقل کرتی ہیں اور اپنے اوپر اپنی ہی پالیسیوں کی وجہ سے آنے والے دبائو کو بھی عوام ہی کی جانب منتقل کرتی ہیں۔ کوئی احتجاج کرے تو جواب یہی ہوتا ہے کہ آپ نے عالمی حالات دیکھے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے تباہ حال کاشتکاروں اور اس سے متاثرہ ملک بھر کے عوام کو بیرونی امداد میں ملنے والی رقوم سے اس طرح بھی فائدہ پہنچایا جاسکتا تھا کہ اس رقم سے بیرون ملک سے اجناس خرید کر عوام کو سستی فراہم کی جاتیں تا کہ وہ اپنا نقصان کسی حد تک کم کرسکیں لیکن یہاں تو امدادی رقوم کو بھی عوام سے تجارت کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ عام حالات میں بیرون ملک سے منگوائی جانے والی سبزیوں اور اجناس کی قیمت بھی حکومت کو سبسڈی دے کر معقول بنانی چاہیے، چہ جائیکہ سیلاب زدگان کے نام پر دنیا بھر سے بھیک مانگ کر رقم بٹورنے والے حکمران اس رقم سے بھی عوام کو فائدہ پہنچانے کے بجائے تکلیف میں ڈال رہے ہیں۔ یہ پورا سیاسی ٹولہ ذہنی دیوالیہ پن اور سیاسی دیوالیہ پن کا شکار ہے۔ ہر کچھ روز بعد یہ لوگ قوم کو کسی اَن دیکھے مسئلے اور غیر متعلق مسائل کے شور میں دبا دیتے ہیں، اصل حقائق کہیں اور جا پڑتے ہیں اور سنگین نوعیت کے اقدامات پر سے نظر ہٹا کر آرمی چیف کے تقرر، چور چور کے نعروں، خیالی دعوئوں اور ان پر بحثوں میں لگا دیا جاتا ہے۔ ارشد شریف کا قتل سنگین مسئلہ ہے لیکن قوم جن حالات سے گزر رہی ہے ان میں یہ سنجیدہ مسئلہ قومی مسائل میں شامل نہیں۔ گھڑی، انگوٹھی، فرح گوگی اور اصلی اور جعلی ویڈیوز اور ویڈیو آتے ہیں ایسا شور مچانا جیسے کسی مجاز عدالت سے فیصلہ آگیا، ان کے سیاسی دیوالیہ پن کا بین ثبوت ہے اور جب پرانا تماشا بے کیف ہونے لگتا ہے تو اس میں نیا رنگ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں یا نیا تماشا شروع کردیتے ہیں۔ اس ساری صورت حال کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ قوم ان تماشوں میں تین ٹکڑوں میں بٹی رہتی ہے۔ میڈیا پر ان ہی کا شور ہوتا ہے اور عوامی مسائل اور ان کے حل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی بلکہ درحقیقت اس شور کے دوران عوام کی جیب ہی کاٹی جاتی ہے۔ اگر موٹے موٹے ڈاکے دیکھے جائیں تو سامنے کی بات ہے کہ عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہوتی جارہی ہے لیکن پاکستانی قوم کو اس کا فائدہ نہیں دیا جارہا۔ سردی آنے سے بہت پہلے سے گیس غائب ہے، گیس کے مزید ذخائر تلاش اور استعمال کرنے کے بجائے گیس بند کی جارہی ہے۔ ان کے پاس ہر چیز ہر مسئلے کا حل پابندی ہے۔ یہ ٹیکسوں میں اضافے کررہے ہیں اور خود ٹیکس چرا رہے ہیں۔ ایسے سیاسی اور ذہنی دیوالیہ سیاسی ٹولے سے عوام کو چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔