اسپیڈ بریکر

217

قائد کے انتقال کے بعد پاکستان کی فوج جنرل ڈگلس اور ان کے بعد جنرل فرینک والٹر کی سربراہی میں کام کرتی رہی، جنرل ایوب خان پہلے مسلمان سپہ سالار تھے، یوں ملک میں پہلا مارشل لا نافذ کرنے کا انہیں موقع ملا یا انہیں ’’اعزاز‘‘ ملا، ان کے بعد جنرل موسیٰ، جنرل یحییٰ خان، پھر جنرل گل حسن اور ان کے بعد جنرل ٹکا خان آرمی چیف بنے، جنرل یحییٰ خان کے دور میں ملک دو لخت ہوا، ٹکا خان کے بعد جنرل ضیاء الحق فوج کے سربراہ بنے اور انہوں نے 5 جولائی1977 کو ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور ان کا اقتدار گیارہ سال تک رہا، ان کے دور میں سول حکومت اور فوج میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے یا انہیں ایک پیج پر رکھنے کے لیے قومی سلامتی کونسل کی تجویز دی گئی تاہم یہ تجویز آئین کی آٹھویں ترمیم کی منظوری کے مرحلے میں پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل نہیں کرسکی یوں یہ آئین کا حصہ نہ بن سکی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں تین بڑے فیصلے ہوئے جنہیں آج بھی تاریخ میں یاد رکھا جارہا ہے، ایک ملک میں بلدیاتی انتخابات اور اس کے بعد غیر جماعتی انتخابات، دوسرا بھٹو کی پھانسی اور تیسرا افغان جہاد میں حصہ لینا، ان تینوں فیصلوں کے اپنے اپنے اثرات ہیں، غیر جماعتی انتخابات کے باعث ملک میں گلی محلے کی سیاست کرنے والے پارلیمنٹ میں جا پہنچے، یہ لوگ ذات برادری کے اثرات بھی اپنے ساتھ ہی پارلیمنٹ میں لائے، جنرل ضیاء الحق کا خیال تھا کہ غیر سیاسی اسمبلی ان کے لیے کانٹوں کے بجائے پھولوں کی سیج ثابت ہوگی مگر، یہ نہ ہوسکا، اور انہوں نے اپنی ہی بنائی ہوئی اسمبلی کا گلا گھونٹ دیا۔
1999 میں نواز شریف کی حکومت برطرف ہوئی تو پیپلزپارٹی نے جشن منایا، محترمہ بے نظیر بھٹو اس وقت اپوزیشن اتحاد جی ڈی اے کا اہم حصہ تھیں، حامد ناصر چٹھہ گواہ ہیں کہ ان کا اس تبدیلی پر تبصرہ تھا کہ شکر ہے شیطان سے جان چھوٹ گئی، پھر جلد ہی دونوں جماعتیں ایک اتحاد اے آر ڈی کا حصہ بن گئیں، نواب زادہ نصر اللہ خان اس کے سربراہ بنائے گئے، جس روز یہ اتحاد بنا اس سے اگلے روز نواز شریف اپنے خاندان سمیت جدہ روانہ ہوگئے، تو نواب صاحب نے تبصرہ کیا، زندگی میں پہلی بار ایک تاجر سے ہاتھ ملایا تھا وہ بھی ہاتھ کرگیا، سیاسی جماعتوں کے اتحاد اور ان کے باہمی تعلقات بھی اس ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں، 1993 میں نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی، اس سے قبل وہ اپنی حکومت محترمہ بے نظیر بھٹو کو امور خارجہ قائمہ کمیٹی کا چیئرمین بنا چکے تھے، یہ فیصلہ ہوا تو ایک اہم بیورو کریٹ، روئیداد خان کا ایک ٹی وی انٹرویو آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے صدر غلام اسحاق خان سے یہ کہا کہ یہ دونوں آپ کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں، اس کے بعد نواز شریف کی حکومت بر طرف ہوگئی۔
سیاسی راہ نماء اکٹھے ہوں یا تلخ رویے رکھیں، ان کی باہمی تلخیاں کیا اس بات کی اجازت دیتی تھیں کہ کوئی تیسرا آئے اور انہیں چلتا کرے؟، ایک جمہوری ملک اور پارلیمانی نظام کی آنکھ سے دیکھا جائے جواب نفی میں ملے گا، لیکن پاکستان جمہوریت اور پارلیمانی نظام کب مضبوط ہوا؟ سیاست دان تو خود خط لکھ لکھ کر فوج کو دعوت دیتے رہے، کہ آئیے اور ملک سنبھالیں، نواب صاحب کے لیے تو یہ بات مشہور ہوگئی تھی جب ملک میں جمہوریت ہو تو آپ مارشل لا کے لیے اور مارشل لا ہو تو آپ جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اگرچہ نواب صاحب نے ہمیشہ اس تاثر کی نفی کی، مگر کیا کریں یہ تاثر تھا، اس ملک میں اب تک آخری فوج 1999 میں اقتدار میں آئی اور جنرل مشرف کا دور 2008 میں ختم ہوا، ان کے دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو بھی قتل ہوئیں، گویا ملک میں لگے کسی بھی مارشل کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں یہ ہمیں المیے ہی دے کر گیا، 2007 میں جب پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے میثاق جمہوریت کیا، میثاق جمہوریت ہوا تو ملک میں عمران خان کو کھڑا کردیا گیا، انہیں دونوں جماعتوں کے خلاف ایک قوت کی حیثیت سے سامنے لایا گیا، وقت گزرتا رہا، ایک روز انہیں بھی اقتدار مل گیا، اور ساڑھے تین سال کے بعد پارلیمنٹ میں ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی اور انہیں برطرف کردیا گیا، گویا اس بار جمہوریت پر جمہوریت کے ذریعے وار ہوا، اب عمران خان کہہ رہے ہیں کہ انہیں نکالنا ہی تھا اور جن کو لایا گیا ہے انہیں کیوں لایا گیا، مزید کہتے ہیں کہ مجھے حمایت نہیں دینی تھی تو ان کے لیے بھی راستہ روکنا تھا، بس عمران خان کو یہی دکھ کھائے چلا جارہا ہے، وہ خود ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، جمہوریت پر یقین بھی رکھتے ہیں مگر ڈائیلاگ پر یقین نہیں رکھتے، انہیں علم ہونا چاہیے کہ بھٹو اس ملک کے آمرانہ رویے کے حامل سخت مزاج راہ نماء تھے مگر وہ ڈائیلاگ ضرور کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ جب شملہ معاہدے کے لیے بھارت گئے تو ان کی سخت ترین سیاسی حریف جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد نے انہیں ہوائی اڈے پر الوادع کہا۔
عمران خان کے دور کو ہائبرڈ دور کہا گیا، مگر یہ نظام بھی نہیں چل سکا اگر یہ نہیں چل سکا تو کیا اب کون سال نظام لایا جائے گا، کہا جاتا ہے جمہوریت بھی دیکھ لی، نیم جمہوریت بھی دیکھ لی، ہابرڈ نظام بھی ناکام ہوگیا کی اب ملک میں پراکسی نظام لایا جائے گا، کچھ بھی کرلیا جائے خلا مزید وسیع ہوگا جب تک اس ملک میں حقیقی، ذمے دار، سچی کھری، دیانت دار جمہوریت نہیں آجاتی ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلنے والے اس نظام کی حیثیت بہت مجروح ہوچکی ہے، حالیہ دنوں کی بات ہی دیکھ لیں، وزیرِاعظم شہباز شریف کا مصر سے واپسی پر اچانک لندن کا رخ کرلینا سب کے لیے حیران کن تھا نواز شریف سے اہم پالیسی معاملات پر مشاورت میں 4 دن گزار دیے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سب سے اہم معاملہ جو لندن بیٹھک میں زیرِ بحث رہا، وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا تھا۔ یہ ملکی سلامتی سے متعلق ایک حساس معاملہ ہے جسے میرٹ کی بنیاد پر نمٹایا جانا چاہیے لیکن اس مشاورت نے اسے مزید سیاسی بنا دیا ہے متضاد بیانات سے نقصان پہنچا، تحریک انصاف اپنا راگ الاپ رہی ہے فریقین کو اس بات کا احساس نہیں کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے کو سیاسی بنا دینے سے ادارے کو کس حد تک نقصان پہنچ سکتا ہے ’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ نہیں آرہی، ملک چلانے کے لیے کہیں نہ کہیں اسپیڈ بریکر کی ضرورت ہے ملک کو ایک ایسی نمائندہ حکومت کی ضرورت ہے جس کے پاس نیا مینڈیٹ ہو تاکہ وہ پاکستان میں استحکام لاسکے۔