سود سے پاک معیشت اور بینکاری

150

وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف سرکاری بینکوں کی اپیل واپس لینے کا ”اعلان“

وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سود سے متعلق وفاقی شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کردہ اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی اپیلیں واپس لے لی جائیں گی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اس معاملے پر گورنر اسٹیٹ بینک سے خصوصی مشاورت کی، اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا۔

وفاقی شرعی عدالت نے 28 اپریل کو30 سال سے زیر سماعت درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 31 دسمبر 2027ء تک ملک کے بینکنگ نظام سے سود کے خاتمے کا حکم دیا تھا۔ شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ 1839ء سے نافذالعمل انٹرسٹ ایکٹ مکمل طور پر اسلامی شریعت کے خلاف ہے، لہٰذا سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام دوسرے قوانین اور مختلف قوانین کی شقیں غیر شرعی قرار دی جاتی ہیں۔ عدالت نے غیرملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی یا وصولی کو بھی غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے ریاست پاکستان کو اِس سے جان چھڑانے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے وفاقی حکومت نے ملک میں اسلامی بینکنگ نظام لانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ سود سے متعلق وفاقی شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کردہ اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی اپیلیں واپس لے لی جائیں گی۔ اسحاق ڈار اس معاملے پر گورنر اسٹیٹ بینک سے خصوصی مشاورت کے بعد مزید پیش رفت کا سوچ رہے ہیں تاکہ غیر سودی نظام نافذ کریں۔

اسٹیٹ بینک نے وفاقی شرعی عدالت کے سودی نظام کے خاتمے سے متعلق 28 اپریل کے فیصلے پر نظرثانی کی خاطر سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ فیصلے میں بعض تضادات موجود ہیں جن کی درخواست کنندہ وضاحت چاہتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی درخواست میں اٹھائے جانے والے مختلف اعتراضات میں سب سے بنیادی اعتراض پانچ سال کے اندر اندر سودی بینکاری کے مکمل خاتمے پر تھا، کیونکہ مرکزی بینک کے مطابق سودی نظام کے خاتمے کے لیے بینکنگ کے نظام کے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہوگی، ملک میں اسلامی بینکاری کی موجودہ سطح پر پہنچنے کے لیے 20 سال لگے جبکہ مکمل تبدیلی پر اس سے پانچ گنا زائد وقت لگ سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا یہ بھی مؤقف تھا کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو قانون سازی کی صلاحیت کے حوالے سے 31 دسمبر 2022ء کی حتمی تاریخ سے مشروط نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان کے بینکنگ اور مالیاتی نظام کو سود سے پاک کرنے کا آغاز 1977-78ء میں کیا گیا تھا۔ مشکل اور پیچیدہ ہونے کی وجہ سے اسے مرحلہ وار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سب سے پہلے خصوصی مالیاتی اداروں سمیت قومی مالیاتی اداروں اور کمرشل بینکوں کے آپریشنز سے سود کے خاتمے کے لیے پاکستان کے مالیاتی اور کارپوریٹ نظام کے قانونی ڈھانچے میں ترمیم کی گئی۔ سود سے پاک شراکتی ٹرم سرٹیفکیٹ کے اجراء کی اجازت کے لیے جون 1980ء میں ترمیم ہوئی۔ مضاربہ کمپنیوں کے قیام کی اجازت دینے اور رسک پر مبنی سرمایہ اکٹھا کرنے کے لیے مضاربہ سرٹیفکیٹ کی فراہمی کے لیے آرڈیننس جاری کیا گیا۔ بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962ء اور متعلقہ قوانین میں بھی ترامیم کی گئیں۔ جنوری 1981ء میں تمام قومی کمرشل بینکوں اور ایک غیر ملکی بینک میں سود سے پاک الگ الگ کاؤنٹرز نے کام کرنا شروع کردیا۔ مارچ 1981ء میں درآمدی اور اندرونِ ملک بلوں کی فنانسنگ کو مارک اپ کی بنیاد پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ قوانین میں بعض ضروری ترامیم کی گئیں۔ یکم جولائی 1982ء سے بینکوں کو مشارکہ کی تیکنیک کے تحت منتخب بنیادوں پر تجارت اور صنعت کی ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فنانس فراہم کرنے کی اجازت دی گئی۔ اپریل 1985ء سے تمام اداروں بشمول افراد کے لیے تمام مالیات مخصوص سود سے پاک طریقوں میں سے ایک میں کیے جانے لگے۔ یکم جولائی 1985ء سے پاکستانی روپے میں تمام کمرشل بینکنگ کو سود سے پاک کرنے کی طرف پہلا قدم بڑھا دیا گیا۔ اس تاریخ سے پاکستان میں کسی بھی بینک کو سود پر مشتمل ڈپازٹس کو قبول کرنے کی اجازت نہیں تھی اور بینک میں موجود تمام ڈپازٹس نفع اور نقصان کی بنیاد پر تھے۔ کرنٹ اکاؤنٹس میں ڈپازٹس کو قبول کیا جاتا رہا لیکن اِن کھاتوں میں منافع یا نقصان میں کوئی سود یا حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی، تاہم پاکستان میں غیر ملکی کرنسی کے ذخائر اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پہلے کی طرح جاری رہی۔ یکم جولائی 1985ء سے پاکستان میں بینکوں کی طرف سے اپنائے جانے والے طریقہ کار کو نومبر1991ء میں وفاقی شرعی عدالت نے غیر اسلامی قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت اپیلٹ بینچ میں اپیلیں کی گئیں جنہیں بینچ نے23 دسمبر 1999ء کو مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سود سے متعلق قوانین 30 جون 2001ء تک ختم کیے جائیں۔اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک غیر سودی بینکاری کے نظام کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کی بدولت اثاثوں کے لحاظ سے اسلامی بینکوں کا ملک کے مجموعی بینکاری نظام میں حصہ 19.4 فیصد جبکہ ڈپازٹس کے لحاظ سے یہ حصہ 20 فیصد ہے،ملک میں اسلامی بینکاری کے 22 ادارے کام کررہے ہیں جن میں 5 مکمل اسلامی بینک جبکہ17روایتی بینک الگ سے اسلامی برانچیں بنا کر کام کررہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے پانچ سال میں اسلامی بینکاری نظام کو منظم کرنے کا اعلان گورنراسٹیٹ بینک سے روڈمیپ پر بات چیت کے بعد ہی کیا ہے لیکن موجودہ سیاسی حالات میں سود سے پاک بینکاری کے لیے مطلوبہ قانون سازی کرنا خاصا مشکل نظر آتا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تسلیم کیا ہے کہ 75 سال سے جاری بینکاری نظام کو یکدم تبدیل نہیں کیا جاسکتا، لیکن اُنہوں نے اِس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ ملک میں سود سے پاک نظام کے لیے تیزی سے کام کریں گے۔

پاکستان میں قرضوں کے لین دین سے متعلق قوانین روایتی یا کنونشنل بینکاری پر مبنی ہیں، جن کی تبدیلی کے لیے فریم ورک میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ موجودہ بینکاری نظام کی بنیاد روایتی ’’کائبور‘‘ کا متبادل اِسلامی انسٹرومنٹ تیار کرنا پڑے گا، جبکہ بینکاری عدالتوں، ثالثی کے قوانین، بینکنگ کمپنیز آرڈیننس اور مرکزی بینک کے نظام سمیت متعدد قوانین میں ترامیم کے لیے ایک قومی پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے تاکہ 2027ء تک سود سے پاک بینکاری نظام کے ہدف کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔ مروجہ اسلامی بینکاری پر بلا سوچے سمجھے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ صرف الفاظ کی تبدیلی ہے، حقیقت میں دونوں نظاموں میں فرق نہیں ہے، لیکن مستند علماء اور ماہرین کا خیال ہے کہ اسلامی بینکاری نظام شرعی اور فقہی اصولوں کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔ مطلوبہ قانون سازی کی جائے تو مزید ایسی پراڈکٹس بنائی جا سکتی ہیں جو سود کے بجائے تجارت کے اصولوں پر قائم ہوں۔ یہ درست ہے کہ مالیاتی نظام کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا لیکن اِس حوالے سے بہت سا کام ہوچکا ہے، اُمید کی جانی چاہیے کہ اس معاملے میں اسلامی کانفرنس کی سطح پر بھی کوشش کی جائے گی کہ یہ عالم ِ اسلام کا ایک مشترکہ مسئلہ ہے، اس کے لیے اجتماعی کاوش ناگزیر ہے۔ وفاقی حکومت کا سود سے پاک بینکاری نظام لانے کا فیصلہ یقیناً بڑا اور قابلِ تحسین ہے، اور توقع کی جانی چاہیے کہ ماضی کی بعض حکومتوں کی طرح اسے سیاسی نعرے کے طور پر اختیار کرنے سے نہ صرف اجتناب برتا جائے گا بلکہ معاشی پالیسیوں، فیصلوں اور اقدامات میں اسلامی معیشت کے اس خاص پہلو کو اوّلین ترجیح حاصل ہوگی جو معاشرے کو استحصال سے پاک کرنے، کمزوروں کو سہارا دینے اور ارتکازِ زر کو روکنے پر زور دیتا ہے۔

وفاقی شریعت کورٹ نے ملک سے سود پر مبنی بینکاری نظام ختم کرنے کے لیے پانچ سال کی مدت دی ہے۔ فیڈرل شریعت کورٹ نے دسمبر 1991ء میں سودی بینکاری کو اس کی ہرشکل میں اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے جون 1992ء کی ڈیڈ لائن دی تھی، مگر حکومت سپریم کورٹ میں اپیل لے کر پہنچ گئی تھی جس میں بیان کردہ وجوہ میں پورے بینکاری نظام کی تبدیلی اور خطرات کے تدارک کے لیے وقت کی کمی کا عذر بھی شامل تھا۔ یہ معاملہ چلتا رہا اور اس پر عمل درآمد معطل رہا۔ اِس برس 25اپریل کو فیڈرل شریعت کورٹ نے اس بات کا نوٹس لیا کہ 1991ء سے اب تک بہت وقت گزر چکا ہے اور ملکی بینکاری اور قومی معیشت میں اسلامی اصولوں کے مطابق تبدیلی لانے کا کام نہیں ہوسکا۔ وفاقی شرعی عدالت کے حتمی فیصلے کے بموجب ملک کو سود سے پاک بنانے کے لیے اب 31دسمبر 2027ء تک کا وقت ہے جس میں ڈھانچہ جاتی اور طریق کار کی اصلاحات کے لیے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ عالمی نظامِ زر میں پائی گئی متعدد پیچیدگیوں کے باوجود اس باب میں فیصلے کرنے میں پاکستان بننے کے بعد 75 برس کا طویل وقت ضائع نہیں ہونا چاہیے تھا، مگر اب جبکہ دنیا بھر میں سود سے پاک بینکاری کے فوائد تسلیم کیے جا رہے ہیں اور متعدد ممالک میں بلاسود بینکاری پسند کی جا رہی ہے، ہمیں قرض دینے والے ملکوں اور مالیاتی اداروں سے نفع نقصان میں شراکت کی بنیاد پر مالی وفنی اعانت لینے کے

لیے کوئی قابلِ عمل راہ اپنانے میں شاید زیادہ مشکل پیش نہ آئے۔ اس باب میں او آئی سی کی سطح پر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر بھی بعض انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔ اسلامی نظام معیشت کے ماہرین کہتے ہیں اور کلی طور پر متفق ہیںکہ سود انسانی استحصال اور ارتکازِ زر کا ذریعہ، جبکہ تجارت معاشی سرگرمی اور پیداواریت کا ذریعہ ہے۔ مضاربت کے ذریعے ایک فریق کے سرمائے اور دوسرے کی محنت یا مہارت کو یکجا کرکے فریقین کے فائدے اور پیداواریت بڑھانے کا جو اہتمام کیا گیا ہے اس کے اندرونِ ملک بینکاری و لین دین اور بیرونی معاہدوں میں اطلاق پر ماہرین کو کام کرنا چاہیے، جبکہ غربت دور کرنے اور فلاحی اقدامات مؤثر بنانے کے لیے زکوٰۃ، خیرات، صدقات کے اداروں کو زیادہ منظم بنانے کی ضرورت ہے۔