نئے آرمی چیف کی تعیناتی: فیصلے سے صدر مملکت کا کوئی لینا دینا نہیں، وزیر داخلہ

224

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی 26 نومبر سے پہلے خوش اسلوبی سے ہو جائے گی، آرمی چیف کے فیصلے کے حوالے سے صدر مملکت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ختم ہو چکا ہے یہ اب صرف جلسے ہیں۔ عمران خان کواسلام آباد کو نرغے میں لینے نہیں دینگے۔اسٹیبلشمنٹ صاف شفاف الیکشن کے لئے اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی۔

نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ۔ آرمی چیف اور جوائنٹ چیفس کے لیے دونوں عہدوں کے لیے 27 اور 29 نومبر ریٹائرمنٹ کی تاریخ ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ ریٹائرڈ ہونے کے بعد تعیناتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے فیصلے کے حوالے سے صدر مملکت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔  صدر صرف کسی بھی قانون کو غور کرنے کے لیے دوبارہ بھیج سکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ختم ہو چکا ہے یہ اب صرف جلسے ہیں ۔ میرا نہیں خیال کہ جو مقصد عمران خان حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ کر پائیں گے ۔ عمران خان کواسلام آباد کو نرغے میں لینے نہیں دینگے ،ہم نے مکمل بندوبست کیا ہوا ہے ۔ عمران خان مغالطے میں ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ انہیں الیکشن کی تاریخ لے کر دے گی لیکن انہیں اس میں کامیابی نہیں ہو گی ۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ عمران خان 26 نومبر کو ہی کیوں لانگ مارچ کر رہے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ مجبور ہو کر ان سے بات کرے لیکن یاد رکھیں اسٹیشلمنٹ اب ان کو الیکشن کی تاریخ نہیں لے کر دے گی ۔ الیکشن کی تاریخ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے پاس ہے ۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ صاف شفاف الیکشن کے لئے اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی ۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے وقت اسٹیبلشمنٹ نے مداخلت کی تھی اور پی ڈی ایم کے تین بڑوں کو بلایا گیا تھا ۔ پی ڈی ایم کو اس وقت قبل ازقت الیکشن اور وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے کو کہاگیا تھا جس پر پی ڈی ایم رہنماﺅں نے اسٹیبلشمنٹ کو کہا کہ یہ آپ کی رائے ہے ہماری نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سیاستدان بن جائیں اور واپس سیاست میں آجائیں ۔ مقابل سیاسی جماعتوں میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی بلکہ سیاستدان آپس میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں تو ڈیڈ لاک ٹوٹ جاتے ہیں۔