کیا عالمی فنڈ کے ثمرات عوام کو ملیں گے

179

اقوام متحدہ نے موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کیلیے عالمی فنڈ قائم کردیا۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں اقوام متحدہ کی کلائمیٹ چینج کانفرنس کوپ 27میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈیمیج اینڈ لاس تباہ کاریوں اور نقصانات سے متعلق فنڈ کے ذریعے سیلاب اور دیگر موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کا شکار ممالک کو مالی معاونت مل سکے گی۔ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کی تھی۔ وزیراعظم پاکستان نے اسے موسمیاتی انصاف کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے اور اسے پاکستان اور ترقی پذیر دنیا کے لیے بڑی جیت قرار دیا ہے۔ جبکہ وزیر خارجہ بلاول زرداری نے بھی کہا کہ پاکستان نے دنیا بھر میں ہر پلیٹ فارم پر یہ مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑا ہے اس کے علاوہ وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمن اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ بلاشبہ پاکستان نے اس حوالے سے آواز بھی اٹھائی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو صورتحال سے آگاہ بھی کیا۔ لیکن جونہی یہ اعلان ہوا ہے پاکستانی حکمرانوں میں اس کا سہرا اپنے سر لینے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔ سہرا سر لینا بھی ایک کام ہے لیکن یہ دوڑ سہرا سر اپنے سر سے زیادہ فنڈز پر کنٹرول کی گئی ہے۔ وزیراعظم وزیر خارجہ اسپیکر اور وزراء میں اس کا سہرا اپنے سر لینے کی دوڑ ہے۔ وزیراعظم کا اپنی کوششیں رنگ لانے کا اور اسپیکر کا بلاول کی کوششیں رنگ لانے کا بیان آیا ہے۔ ابھی تو کوپ 27 فنڈ قائم ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دورے کے موقع پر ہی یہ نشاندہی کردی گئی تھی کہ سندھ کے شہروں میں عوام کو ڈیم کی دیواروں اور بلند سڑکوں پر بٹھاکر سیکریٹری جنرل کا فضائی دورہ کرایا گیا اور ان سے پاکستان کے سیلاب زدگان کی اندوہناک صورتحال دکھاکر فنڈز کی اپیل کی گئی۔ سیکریٹری جنرل نے جو کچھ دیکھا اسی کی بنیاد پر وہ بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے پاکستان ہی میں کہہ دیا کہ ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا نقصان ترقی پذیر ممالک اٹھارہے ہیں ترقی یافتہ دنیا کو اس کا ازالہ کرنا ہوگا۔ لیکن ایک بہت بڑا سوال ہے کہ پاکستان میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، غیر سرکاری امدادی تنظیموں اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے بھی کروڑوں ڈالر اور اربوں روپے امداد دی ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں طیاروں میں پھر کر سامان امداد کے لیے لایا گیا ہے لیکن اس میں سے متاثرین تک کتنا پہنچا اس کا جواب کوپ 27 فنڈ کے قیام کا سہرا اپنے سر لینے والوں کے پاس نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی نے یہی سوال کیا تھا کہ متاثرین کے لیے150 جہازوں میں آنے والا سامان کہاں گیا۔ کیونکہ متاثرین کے لیے اب بھی حکمران اپیلیں کررہے ہیں اور متاثرین صرف این جی اوز کے آسرے پر ہیں اس لیے یہ سوال ضرور کھڑا ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک سے آنے والا امدادی سامان کہاں جارہا ہے۔ متاثرین تو اب بھی بے آسرا پڑے ہوئے ہیں انہیں صرف این جی اوز یا مقامی تنظیمیں امداد پہنچارہی ہیں کچھ کام این ڈی ایم اے نے کیا ہے جس میں سے ایک تیار شدہ بستی کا آرمی چیف نے لسبیلہ میں افتتاح بھی کردیا ہے لیکن سندھ کی حکومت پنجاب کی حکومت اور کے پی کے اور بلوچستان کی حکومتیں عوام کو کیا دے رہی ہیں۔ اگر کوپ فنڈ سے پاکستان کو حصہ ملا تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس سے عوام کی حالت بدلے گی۔ پہلا مرحلہ لوگوں کو بچانا تھا جو بچنے تھے ان میں سے اکثر تو خود بچ گئے۔ باقی کو فوج اور نجی تنظیموں نے بچایا اسی طرح دوسرا مرحلہ بحالی کا تھا۔ اس سب سے بڑھ کر فصلوں کی تباہی ہوئی ہے ان فصلوں کے دوبارہ آنے میں اب بھی چھ ماہ لگیں گے۔ حکومتوں نے اس کے لیے کیا قدم اٹھایا ہے۔ ایسا کوئی عمل نظر نہیں آرہا کہ حکومتوں نے سیلاب اور بارش متاثرین کے لیے کوئی ٹھوس کام کیا ہو۔ پاکستان میں حکمرانوں کا کام یہی رہ گیا ہے کہ دنیا بھر سے امداد مانگی جائے اور اس کو خرد برد کردیا جائے۔ یہ کام پہلے بھی ہوتا آیا ہے اور اب بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔ کووڈ 19 کے امدادی فنڈ اور متاثرین کے لیے آنے والے 12 سو ارب روپے غائب ہوگئے۔ اس کا حساب سابق حکومت اور این ڈی ایم اے بھی نہیں دے سکے۔ یہ پاکستانی عوام کی بدقسمتی ہے کہ یہاں ان کے نام پر سیاست ہوتی ہے ان کی فلاح کے منصوبوں کے نام پر فنڈز مہیا کیے جاتے ہیں لیکن عوام سڑکوں، پانی، روزگار، انصاف امن غرض ہر چیز سے محروم ہیں۔ پھر بھی عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ شاید کوئی ایماندار قیادت آئے اور امانت داری کے ساتھ ان کے وسائل ان تک پہنچادے۔ اس قسم کی قیادت لانے کی ذمے داری عوام پر بھی ہے انہیں جب بھی موقع ملے وہ اچھے لوگوں کو آگے لائیں۔